حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 227
227 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهِ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهِ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَلِقَاؤُهُ اللَّهَ بَعْدَ الْمَوْتِ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری مرنے کے بعد ہوتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مومن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی چاہت رکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ بھی مومن بندے سے ملنے کی چاہت رکھتے ہیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرے۔ جو انسان بے عمل ہے اس کو اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں، اگر محبت ہوتی اور ملنے کی چاہت ہوتی تو باعمل ہوتا، بے عمل انسان اللہ تعالیٰ سے دور ہے، اور اللہ تعالیٰ بھی فاسق و فاجر سے دور ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں نیک بنائے، آمین۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مومن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی چاہت رکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ بھی مومن بندے سے ملنے کی چاہت رکھتے ہیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرے۔ جو انسان بے عمل ہے اس کو اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں، اگر محبت ہوتی اور ملنے کی چاہت ہوتی تو باعمل ہوتا، بے عمل انسان اللہ تعالیٰ سے دور ہے، اور اللہ تعالیٰ بھی فاسق و فاجر سے دور ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں نیک بنائے، آمین۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 227 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6507 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6507. حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے اللہ تعالٰی بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا پسند نہیں کرتا اللہ تعالٰی بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔“ یہ سن کر ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ یا کسی دوسری زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ مرنا تو ہم بھی پسند نہیں کرتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں یہ نہیں جو تم نے خیال کیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ایماندار آدمی کو جب موت آتی ہے تو اسے اللہ تعالٰی کی رضا اور اس کے ہاں اکرام واحترام کی بشارت دی جاتی ہے جو اس کے آگے ہے، اس سے بہتر کوئی چیز اسے معلوم نہیں ہوتی، اس لیے وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کے ہاں ملنے والى سزا کا بتایا جاتا ہے تو جو شے اس کے آگے ہے وہ اسے انہتائی ناگوار۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6507]
حدیث حاشیہ: خوش بختی یہ ہے کہ موت کے وقت اللہ کی ملاقات کا شوق غالب ہو اور ترک دنیا کا غم نہ ہو۔
اللہ ہر مسلمان کو اس کیفیت کے ساتھ موت نصیب کرے آمین۔
کلمہ طیبہ اس وقت پڑھنے کا بھی مقصد یہی ہے مومن کو موت کے وقت جو تکلیف ہوتی ہے اس کا انجام راحت ابدی ہے۔
اللہ ہر مسلمان کو اس کیفیت کے ساتھ موت نصیب کرے آمین۔
کلمہ طیبہ اس وقت پڑھنے کا بھی مقصد یہی ہے مومن کو موت کے وقت جو تکلیف ہوتی ہے اس کا انجام راحت ابدی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6507 سے ماخوذ ہے۔