حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 201
201 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ كَانَ يَسْرِدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْرِدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ «إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حمزہ بن عمرو اسلمی جو مسلسل نفلی روزے رکھا کرتے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں، تو کیا سفر کے دوران بھی روزہ رکھوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو، اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ حالت سفر میں روزے کی رخصت ہے، اس کی قضائی بعد میں ادا کی جائے گی۔
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ حالت سفر میں روزے کی رخصت ہے، اس کی قضائی بعد میں ادا کی جائے گی۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 201 سے ماخوذ ہے۔