مسند الحميدي
— ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایات
باب: (چٹائی سے حجرہ بنانے اور باقاعدہ عمل کی روایت)
183 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرٌ يَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ، وَإِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ يُحَجِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّي فِيهِ، فَسَعَي لَهُ نَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، قَالَ: فَفَطِنَ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكَ ذَلِكَ، وَقَالَ: «إِنِّي حَسِبْتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيهِمْ أَمْرٌ لَا يُطِيقُونَهُ» ثُمَّ قَالَ: «اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّي تَمَلُّوا» قَالَ: وَكَانَ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُومَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ، وَكَانَ إِذَا صَلَّي صَلَاةً أَثْبَتَهَاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بچھا لیتے تھے اور رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے حجرہ بنا لیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نماز ادا کیا کرتے تھے، کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کے بارے میں اندازہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ترک کر دیا اور ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ اندیشہ ہے، ان لوگوں کے بارے میں ایسا حکم نازل ہو گا، جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے ہوں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی طاقت کے مطابق عمل کا خود کو پابند کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل تم سے منقطع نہیں ہوتا، جب تک تم اکتاہٹ کا شکار نہیں ہو جاتے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا، جسے باقاعدگی سے سرانجام دیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی (نفل) نماز ادا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز چٹائی یا صف وغیرہ پر پڑھنی چاہیے، اگر کہیں میسر نہ ہوں تو زمین پر بھی درست ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کس قدر سنت کی پیروی کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کا اہتمام کرتے تو صحابہ کرام بھی اس کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تاہم ان کو سمجھاتے کہ میانہ روی سے چلو، اپنی طاقت کے مطابق نفلی عبادت کرو، ایسا نہ ہو کہ تم تھک جاؤ عمل خواہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو لیکن اس پر دوام ہونا چاہیے۔ چند دن انسان بہت زیادہ کام کرے اور پھر اس کو چھوڑ دے، ایسے کام کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسلام میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نماز تراویح کی باجماعت ادا کرنے کا خطرہ نہیں تھا اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے باجماعت نماز تراویح ادا کرنے کا حکم دیا جو آج تک جاری ہے۔ والحمد للہ۔
دوسرے آگ کا استعمال ہے اور آگ سے عذاب دینا منع آیا ہے۔
حقیقت میں داغ دینا آخری علاج ہے۔
جب کسی دعا سے فائدہ نہ ہو اس وقت داغ دیں جیسے دوسری حدیث میں ہے کہ آخری دوا داغ دینا ہے۔
کہتے ہیں کہ طاعون کی بیماری میں بھی داغ دینا بے حد مفید ہے جہاں دانہ نمودار ہو اس کو فوراً آگ سے جلا دینا چاہیئے۔
عرب میں اکثر یہ علاج مروج رہا ہے۔
شہد دوا اور غذا دونوں کے لیے کام دیتا ہے۔
بلغم کو نکالتا ہے اور اس کا استعمال امراض باردہ میں بہت مفید ہے۔
خالص شہد آنکھوں میں لگانا بھی بہت نفع بخش ہے۔
خصوصاً سوتے وقت اسی طرح اس میں سینکڑوں فائدہ ہیں۔
(1)
شفا کا حصول دوسری چیزوں سے بھی ممکن ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص تین چیزوں کا ذکر کر کے اصول علاج کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو خونی امراض ہیں وہ تو اخراج خون سے درست ہو سکتی ہیں۔
اس کے لیے سینگی لگوانا مفید ہے۔
فصد کے ذریعے سے بھی خون نکالا جا سکتا ہے لیکن عربوں میں اس کا عام رواج نہیں تھا۔
صفراوی امراض کا علاج شہد سے ممکن ہے کہ شہد مُسہل ہے۔
اس سے صفراوی مادہ خارج ہو جاتا ہے۔
اگر کسی طریقے سے فضول مواد خارج نہ ہو تو وہاں آگ سے داغنا مفید ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس میں مریض کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔
حقیقت میں داغ دینا ایک آخری علاج ہے، جب کوئی دوا اثر نہ کرتی ہو تو اسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
(فتح الباری: 172/10) (2)
جب تک ممکن ہو ہلکے پھلکے انداز سے علاج کرنا چاہیے، یعنی پہلے غذا سے، پھر ادویات سے، اس کے بعد سینگی لگوانے سے، اس کے بعد رگ کاٹنے سے، آخر میں داغ دینے سے، بہرحال داغ دینا بھی علاج کا طریقہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو داغ دیا تھا لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کوئی دوسرا طریقہ کارگر نہ ہو۔