حدیث کتب › مسند الحميدي ›
مسند الحميدي
— ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایات
باب: (حیض کی حالت میں تلاوت کی روایت)
حدیث نمبر: 169
169 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُوَ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک ہم میں سے کسی ایک (زوجہ محترمہ) کی گود میں رکھ لیتے تھے اور قرآن پاک کی تلاوت کر لیتے تھے حالانکہ وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
C
فائدہ:
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ حائضہ قرآن مجید کی تلاوت سن سکتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حائضہ کی گود میں سر رکھ کر تلاوت کرنا درست ہے، نیز اس بات کا بھی علم ہوا کہ لیٹ کر بھی قرآن کی تلاوت کرنا درست ہے۔
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ حائضہ قرآن مجید کی تلاوت سن سکتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حائضہ کی گود میں سر رکھ کر تلاوت کرنا درست ہے، نیز اس بات کا بھی علم ہوا کہ لیٹ کر بھی قرآن کی تلاوت کرنا درست ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 169 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 297 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´مرد کا اپنی بیوی کی گود میں حائضہ ہونے کے باوجود قرآن پڑھنا جائز ہے`
«. . . حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، سَمِعَ زُهَيْرًا، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَّكِئُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ " . . . .»
”. . . ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے زہیر سے سنا، انہوں نے منصور بن صفیہ سے کہ ان کی ماں نے ان سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے، حالانکہ میں اس وقت حیض والی ہوتی تھی۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَيْضِ/بَابُ قِرَاءَةِ الرَّجُلِ فِي حَجْرِ امْرَأَتِهِ وَهْيَ حَائِضٌ:: 297]
«. . . حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، سَمِعَ زُهَيْرًا، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَّكِئُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ " . . . .»
”. . . ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے زہیر سے سنا، انہوں نے منصور بن صفیہ سے کہ ان کی ماں نے ان سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے، حالانکہ میں اس وقت حیض والی ہوتی تھی۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَيْضِ/بَابُ قِرَاءَةِ الرَّجُلِ فِي حَجْرِ امْرَأَتِهِ وَهْيَ حَائِضٌ:: 297]
� تشریح:
حدیث اور باب کی مطابقت ظاہر ہے۔
حدیث اور باب کی مطابقت ظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 297 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 297 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
297. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ میری گود میں تکیہ لگا لیتے تھے جبکہ میں حیض سے ہوتی، پھر آپ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:297]
حدیث حاشیہ: حدیث اور باب کی مطابقت ظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 297 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 297 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
297. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ میری گود میں تکیہ لگا لیتے تھے جبکہ میں حیض سے ہوتی، پھر آپ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:297]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؓ کا مقصد دوباتیں ثابت کرنا ہے۔
حائضہ عورت کی گود میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرنا۔
حائضہ عورت کا جزدان میں لپٹے ہوئے قرآن کو اس کی ڈوری سے اٹھانا۔
یہ دونوں باتیں جائز ہیں۔
حدیث عائشہ ؓ سے پہلی بات ثابت ہوتی ہے جبکہ ابو وائل کے اثر سے دوسری بات کا ثبوت ملتا ہے۔
اس اثر کو مصنف ابن ابی شیبہ (2/342)
میں موصولاً بیان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ قرآن مجید پردو طرح کے غلاف ہوتے ہیں: ایک وہ جو جلد کے گتوں پر سلا ہوتا ہے، جسے چولی کہتے ہیں، دوسرا وہ جس میں اسے لپیٹا جاتا ہے، اسے جزدان کہا جاتا ہے۔
حائضہ عورت کا چولی کو ہاتھ لگانا درست نہیں۔
البتہ جزدان کے ساتھ حائضہ عورت اسے اٹھا سکتی ہے، کیونکہ وہ اس سے الگ ہوتا ہے۔
مختصر یہ کہ حائضہ عورت اور جنبی مرد قرآن مجید کو ہاتھ نہیں لگاسکتے۔
البتہ گود میں تکیہ لگا کر قرآن کی تلاوت کرنا چیزے دیگر است۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نجاست کے قرب میں تلاوت قرآن کی ممانعت نہیں، کیونکہ حائضہ کا وہ حصہ جسم جس سے حیض خارج ہو رہا ہے وہ ناپاک ہے اور اس کی گود میں سر رکھ کر تلاوت قرآن کی اجازت ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اسی حدیث کو بایں الفاظ بھی بیان کیا ہے: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میری گود میں سر رکھ کر تلاوت کرتے جبکہ میں حالت حیض میں ہوتی۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7549)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ گود میں تکیہ لگانے سے مراد سر رکھنا ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے محقق ابن دقیق العید کا ایک عجیب استدلال نقل فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اس حالت میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا اس امرکی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حائضہ تلاوت نہیں کر سکتی، اس لیے کہ اگر خود اسے تلاوت کرنے کی اجازت ہوتی تو اس کی گود میں امتناعِ قراءت کا سوال ہی کیا تھا، جس کے دفاع کے لیے قراءت وغیرہ کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت پیش آتی۔
حافظ ابن حجر ؒ مزید لکھتے ہیں کہ اس سے ملامست حائضہ کا جواز بھی معلوم ہوا۔
نیز اس کے کپڑے اور بدن بھی پاک ہے، بشرطیکہ وہاں نجاست نہ لگی ہوئی ہو۔
(فتح الباري: 522/1)
1۔
امام بخاری ؓ کا مقصد دوباتیں ثابت کرنا ہے۔
حائضہ عورت کی گود میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرنا۔
حائضہ عورت کا جزدان میں لپٹے ہوئے قرآن کو اس کی ڈوری سے اٹھانا۔
یہ دونوں باتیں جائز ہیں۔
حدیث عائشہ ؓ سے پہلی بات ثابت ہوتی ہے جبکہ ابو وائل کے اثر سے دوسری بات کا ثبوت ملتا ہے۔
اس اثر کو مصنف ابن ابی شیبہ (2/342)
میں موصولاً بیان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ قرآن مجید پردو طرح کے غلاف ہوتے ہیں: ایک وہ جو جلد کے گتوں پر سلا ہوتا ہے، جسے چولی کہتے ہیں، دوسرا وہ جس میں اسے لپیٹا جاتا ہے، اسے جزدان کہا جاتا ہے۔
حائضہ عورت کا چولی کو ہاتھ لگانا درست نہیں۔
البتہ جزدان کے ساتھ حائضہ عورت اسے اٹھا سکتی ہے، کیونکہ وہ اس سے الگ ہوتا ہے۔
مختصر یہ کہ حائضہ عورت اور جنبی مرد قرآن مجید کو ہاتھ نہیں لگاسکتے۔
البتہ گود میں تکیہ لگا کر قرآن کی تلاوت کرنا چیزے دیگر است۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نجاست کے قرب میں تلاوت قرآن کی ممانعت نہیں، کیونکہ حائضہ کا وہ حصہ جسم جس سے حیض خارج ہو رہا ہے وہ ناپاک ہے اور اس کی گود میں سر رکھ کر تلاوت قرآن کی اجازت ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اسی حدیث کو بایں الفاظ بھی بیان کیا ہے: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میری گود میں سر رکھ کر تلاوت کرتے جبکہ میں حالت حیض میں ہوتی۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7549)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ گود میں تکیہ لگانے سے مراد سر رکھنا ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے محقق ابن دقیق العید کا ایک عجیب استدلال نقل فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اس حالت میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا اس امرکی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حائضہ تلاوت نہیں کر سکتی، اس لیے کہ اگر خود اسے تلاوت کرنے کی اجازت ہوتی تو اس کی گود میں امتناعِ قراءت کا سوال ہی کیا تھا، جس کے دفاع کے لیے قراءت وغیرہ کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت پیش آتی۔
حافظ ابن حجر ؒ مزید لکھتے ہیں کہ اس سے ملامست حائضہ کا جواز بھی معلوم ہوا۔
نیز اس کے کپڑے اور بدن بھی پاک ہے، بشرطیکہ وہاں نجاست نہ لگی ہوئی ہو۔
(فتح الباري: 522/1)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 297 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7549 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7549. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں فرمایا: نبی ﷺ قرآن پڑھا کرتے جبکہ آپ کا سر مبارک میری گود میں ہوتا اور میں حالت حیض میں ہوتی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7549]
حدیث حاشیہ: حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اسلا م میں مشہور ترین خاتون حرم محترم رسول کریم ﷺجن کے بہت سےمناقب ہیں۔
بتاریخ 17؍ رمضان سنہ 57ھ میں منگل کی رات میں انتقال فرمایا اوررات ہی کو بقیع میں دفن ہوئیں۔
حضرت ابوہریرہ نے جنازہ پڑھایا۔
رضی اللہ عنہا
بتاریخ 17؍ رمضان سنہ 57ھ میں منگل کی رات میں انتقال فرمایا اوررات ہی کو بقیع میں دفن ہوئیں۔
حضرت ابوہریرہ نے جنازہ پڑھایا۔
رضی اللہ عنہا
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7549 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7549 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7549. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں فرمایا: نبی ﷺ قرآن پڑھا کرتے جبکہ آپ کا سر مبارک میری گود میں ہوتا اور میں حالت حیض میں ہوتی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7549]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قراءت قرآن کے علاوہ ہے کیونکہ اگرقراءت سے مراد قرآن ہوتا تو اسے عورت کی گود میں نہ رکھا جاتا جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہو۔
اس سے ثابت ہوا کہ قراءت قاری کا فعل ہے اور یہ مکانی اور زمانی ظروف سے متعلق ہے۔
2۔
بعض شارحین نے لکھا ہے کہ اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے خوش الحانی سے قرآن پڑھنا ثابت کیا ہے، حالانکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قطعاً مدعا نہیں اور نہ اس مقام پر اس کا کوئی محل ہی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قراءت قرآن کے علاوہ ہے کیونکہ اگرقراءت سے مراد قرآن ہوتا تو اسے عورت کی گود میں نہ رکھا جاتا جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہو۔
اس سے ثابت ہوا کہ قراءت قاری کا فعل ہے اور یہ مکانی اور زمانی ظروف سے متعلق ہے۔
2۔
بعض شارحین نے لکھا ہے کہ اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے خوش الحانی سے قرآن پڑھنا ثابت کیا ہے، حالانکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قطعاً مدعا نہیں اور نہ اس مقام پر اس کا کوئی محل ہی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7549 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 260 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا اور ملنا بیٹھنا جائز ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ کر قرآن پڑھتے اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 260]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ کر قرآن پڑھتے اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 260]
260۔ اردو حاشیہ:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت عدیم المثال تھی۔
➋ ایام حیض اور جنابت کی حالت میں کوئی بھی مسلمان حقیقی طور پر نجس نہیں ہوتا، محض شرعی آداب کے تحت اسے نماز پڑھنے یا مسجد میں داخل ہونے وغیرہ سے روکا گیا ہے اور اس معنی میں اسے ’’غیر طاهر“ (ناپاک) کہا جاتا ہے۔
➌ ویسے اس کا لعاب اور پسینہ سب پاک ہوتا ہے اور اس کے لمس سے دوسرے طاہر ساتھی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ اپنے ذکر، اذکار اور تلاوت میں مشغول رہ سکتا ہے، کوئی حرج نہیں۔
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت عدیم المثال تھی۔
➋ ایام حیض اور جنابت کی حالت میں کوئی بھی مسلمان حقیقی طور پر نجس نہیں ہوتا، محض شرعی آداب کے تحت اسے نماز پڑھنے یا مسجد میں داخل ہونے وغیرہ سے روکا گیا ہے اور اس معنی میں اسے ’’غیر طاهر“ (ناپاک) کہا جاتا ہے۔
➌ ویسے اس کا لعاب اور پسینہ سب پاک ہوتا ہے اور اس کے لمس سے دوسرے طاہر ساتھی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ اپنے ذکر، اذکار اور تلاوت میں مشغول رہ سکتا ہے، کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 260 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 381 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´آدمی کا اپنی حائضہ بیوی کی گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا، اور وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 381]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا، اور وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 381]
381۔ اردو حاشیہ: فائدہ: دیکھیے، حدیث: 274 کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 381 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 634 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں اپنا سر مبارک رکھتے، اور قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 634]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں اپنا سر مبارک رکھتے، اور قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 634]
اردو حاشہ: (1)
اس سے بھی ثابت ہوا کہ حائضہ کا جسم پاک ہے۔
سوائے اس مقام کے، جس کا تعلق خون سے ہے۔
(2)
زبانی قرآن مجید پڑھنے کا حکم مصحف کو ہاتھ لگانے سے مختلف ہے۔
اس سے بھی ثابت ہوا کہ حائضہ کا جسم پاک ہے۔
سوائے اس مقام کے، جس کا تعلق خون سے ہے۔
(2)
زبانی قرآن مجید پڑھنے کا حکم مصحف کو ہاتھ لگانے سے مختلف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 634 سے ماخوذ ہے۔