حدیث نمبر: 145
145 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا رَأَي عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يُصَلِّي صَلَاةً أَخَفَّهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ أَبَا الْيَقْظَانِ: لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً أَخْفَفْتَهَا فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَنِي نَقَصْتُ مِنْ رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: بَادَرْتُ السَّهْوَ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ فَيَنْصَرِفُ وَمَا كُتِبَ لَهُ مِنْهَا إِلَّا عُشْرُهَا، تُسْعُهَا، ثُمْنُهَا، سُدْسُهَا، خُمْسُهَا، رُبْعُهَا، ثُلُثُهَا، نِصْفُهَا»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

عبداللہ بن عنمہ جہنی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو اس نے ان سے کہا: اے ابولیقطان! آج آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے مجھے دیکھا کہ میں نے رکوع یا سجدے میں کوئی کمی کی ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں سجدہ سہو میں جلدی کرنا چاہتا تھا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بعض اوقات آدمی نماز ادا کرنے کے بعد جب فارغ ہوتا ہے، تو اس کے نامہ اعمال میں اس نماز کا دسواں حصہ یا نواں حصہ یا آٹھواں حصہ یا ساتواں، یا چھٹا حصہ یا پانچواں حصہ یا چوتھا حصہ یا ایک تہائی حصہ یا نصف حصہ لکھا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 145
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لإنقطاعه وهو حديث حسن، وأخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 1889، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“ :1615، 1628، وأحمد فى ”مسنده“ ، برقم: 18613»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
145- عبداللہ بن عنمہ جہنی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، جب انہوں نے نماز مکمل کرلی تو اس نے ان سے کہا: اے ابولیقطان! آج آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے مجھے دیکھا کہ میں نے رکوع یا سجدے میں کوئی کمی کی ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں سجدہ سہو میں جلدی کرنا چاہتا تھا، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے بعض اوقات آدمی نماز ادا کرنے کے بعد جب فارغ ہوتا ہے، تو اس کے نامۂ اعمال میں اس نماز کا دسواں حصہ یا نواں حصہ یا آٹھواں ح۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:145]
فائدہ:
امام سمجھ دار ہونا چاہیے، وہ لوگوں کا خیال کر کے نماز پڑھائے، نماز نہ مختصر ہو اور نہ لمبی ہو، بس درمیانی نماز پڑھائے۔ تمام نمازیوں کو برابر کا ثواب نہیں ملتا، بلکہ اپنی اپنی نیت، خلوص اور خشوع وخضوع کے مطابق ثواب ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 145 سے ماخوذ ہے۔