مسند الحميدي
— سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول روایات
باب: (مال فے میں شراب خنزیر کی قیمت کی ممانعت)
14 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا مِسْعَرٌ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي فُلَانٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَي الْمِنْبَرِ يَقُولُ بِيَدِهِ عَلَي الْمِنْبَرِ هَكَذَا - يَعْنِي يُحَرِّكُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا - عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ، عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ خَلَطَ فِي فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ أَثْمَانَ الْخَمْرِ وَالْخَنَازِيرِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا» يَعْنِي أَذَابُوهَاسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے یعنی اپنے ہاتھ کو بائیں طرف اور دائیں طرف حرکت دیتے ہوئے، یہ کہتے ہوئے سنا: عراق میں ہمارے ایک چھوٹے اہل کار نے مسلمانوں کے ”مال فے“ میں شراب اور خنزیر کی قیمت بھی خلط ملط کر دی ہے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے ان کے لیے چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انہوں نے اسے پگھلا کر اسے فروخت کر دیا۔“ راوی کہتے ہیں: یعنی انہوں نے اسے پگھلا دیا۔