1331 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: زَنَي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فَدَكٍ، فَكَتَبَ أَهْلُ فَدَكٍ إِلَي أُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ، أَنْ سَلُوا مُحَمَّدًا عَنْ ذَلِكَ، فَإِنْ أَمَرَكُمْ بِالْجَلْدِ، فَخُذُوهُ عَنْهُ، وَإِنْ أَمَرَكُمْ بِالرَّجْمِ، فَلَا تَأْخُذُوهُ عَنْهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «أَرْسِلُوا إِلَيَّ أَعْلَمَ رَجُلَيْنِ فِيكُمْ» ، فَجَاءُوا بِرَجُلٍ أَعْوَرَ يُقَالُ لَهُ ابِنُ صُورِيَّا، وَآخَرَ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمَا أَعْلَمُ مَنْ قِبَلَكُمَا؟»، فَقَالَا: قَدْ نَحَّانَا قَوْمُنَا لِذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا: «أَلَيْسَ عِنْدَكُمَا التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ تَعَالَي؟» ، قَالَا: بَلَي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأُنْشِدُكُمْ بَالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ، وَأَنْجَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ، وَأَنْزَلَ الْمَنَّ وَالسَّلْوَي عَلَي بَنِي إِسْرَائِيلَ، مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ مِنْ شَأْنِ الرَّجْمِ؟» ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا نُشِدْتُ بِمِثْلِهِ قَطُّ، ثُمَّ قَالَا: نَجِدُ تَرْدَادَ النَّظَرِ زَنْيَةً، وَالِاعْتِنَاقَ زَنْيَةً، وَالْقُبَلُ زَنْيَةً، فَإِذَا أَشْهَدَ أَرْبَعَةً أَنَّهُمْ رَأَوْهُ يُبِدِي وَيُعِيدُ كَمَا يَدْخُلُ الْمِيلُ فِي الْمِكْحَلَةِ، فَقَدْ وَجَبَ الرَّجْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ ذَاكَ فَأَمَرَ بِهِ» ، فَرُجِمَ، فَنَزَلَتْ: ﴿ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ الْآيَةَسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فدک کے رہنے والے ایک شخص نے زنا کا ارتکاب کیا، تو فدک کے رہنے والے لوگوں نے مدینہ منورہ میں رہنے والے کچھ یہودیوں کو خط لکھا کہ تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کرو اگر وہ تمہیں کوڑے مارنے کا حکم دیں، تو تم اسے حاصل کر لینا اور اگر تمہیں سنگسار کرنے کا حکم دیں، تو تم اسے اختیار نہ کرنا ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے میں سے دو زیادہ علم رکھنے والے افراد کو میرے پاس بھجواؤ“، تو وہ لوگ ایک کانے شخص کو لے کر آئے جس کا نام ”صوریا“ تھا اور ایک اور شخص کو لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”تم دونوں زیادہ علم رکھنے والے ہو؟“ ان دونوں نے جواب دیا: ہماری قوم نے اسی لیے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس تورات میں اللہ تعالیٰ کا حکم موجود نہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا کو چیر دیا تھا اور جس نے بادلوں کے ذریعے تم پر سایہ کیا تھا اور تمہیں فرعون کے ساتھیوں سے نجات عطا کی تھی جس نے بنی اسرائیل پر من و سلویٰ نازل کیا تھا۔ سنگسار کرنے کے بارے میں تم تورات میں کیا پاتے ہو؟“ تو ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: مجھے اس کی مانند قسم کبھی نہیں دی گئی پھر ان دونوں نے جواب دیا: دوسری مرتبہ ڈالنا بھی زنا ہے، گلے لگانا بھی زنا ہے، بوسہ لینا بھی زنا ہے اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں کہ انہوں نے کسی شخص کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے یوں کہ جس طرح سلائی، سرمہ دانی میں داخل ہوتی ہے، تو سنگسار کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس شخص کو سنگسار کر دیا گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: «فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ» (5-المائدة:42) ”اگر وہ تمہارے پاس آئیں، تو تم ان کے درمیان فیصلہ دو، یا تم ان سے اعراض کرو، اگر تم ان سے اعراض کرتے ہو، تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ دیتے ہو، تو انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ دو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ یہودی بھی اپنے بعض مسائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حل کرواتے تھے، اور اپنا منصف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقرر کرتے تھے لیکن بعض اوقات اپنے مطلب کے ناکام فتویٰ کی کوشش کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن و حدیث کے مطابق فتویٖ دیتے تھے۔
جب بھی کسی فریق مخالف سے بات کرنی ہو تو ان کے اہل علم سے بات کرنی چاہیے، نہ کہ جاہل سے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جاہلوں سے اعراض کرنے کا حکم دیا ہے۔ (الاعراف: 199)
یہودی ایک ناکام سازش کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت مبارکہ میں فیصلہ لے کر آتے تھے لیکن آپ نے انھی کی کتاب سے اور انھی کے اہل علم کی زبانی اقرار کروایا اور شادی شدہ زانی کو رجم کیا گیا۔
یہاں سے ایک اہم اصول مناظرہ سمجھ میں آتا ہے کہ فریق مخالف کی کتاب سے ہی وہ بات ثابت کی جائے، پھر اس بات کا فریق مخالف کے اہل علم سے اقرار کروایا جائے، یہ سب سے مؤثر ترین مناظرہ ہوتا ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام ہمیشہ انصاف کے ساتھ ہی فیصلہ کرتے تھے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ایک مرد اور ایک عورت کو جنہوں نے زنا کیا تھا رجم کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4455]
یہودی مرد عورت کے بارے میں جنہوں نےزنا کا ارتکاب کیا تھا، مذکورہ روایات میں بعض میں تویہ بیان ہوا ہے کہ ان کی سزا کی بابت انہوں نے آکر پہلے رسول اللہﷺ کے پاس ہوا تو رسول اللہ نے ان سے زنا کاری کی سزا پوچھی۔
اسکی توجیہہ میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ یا تو الگ الگ دو واقعہ ہیں یا پہلے انہوں نے اپنے طور پر فوری سزا دے لی اور پھر بعد میں سوال جواب ہوئے جب ان کا گزر رسول اللہﷺ کے پاس ہوا۔
واللہ اعلم (عون المعبود)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ " تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا: " تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو؟ " ان دونوں نے کہا: ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے، آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4452]
اہل کتاب اور دیگر غیر مسلموں کی آپس میں گواہیاں معتبر ہوتی ہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یہودیوں سے فرمایا: " میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2328]
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو بعض محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
یہود ونصاریٰ کے مذہب میں بھی جھوٹی قسم کھانا حرام ہے اس لیے ضرورت کےوقت ان سے قسم لی جا سکتی ہے۔
(2)
غیر مسلموں سے بھی اللہ ہی کی قسم لی جائے۔
(3)
یہود و تورات کا ادب کرتے اور اس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اس لیے ان کے عقیدے کے مطابق قسم لی جا سکتی ہے لیکن ایسے الفاظ سے جو اسلامی عقیدے کےبھی خلاف نہ ہوں۔