حدیث نمبر: 1323
1323 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ يُحَدِّثُ أَحَدُكُمْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ؟»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ!میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میری گردن اڑا دی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان آدمی کے ساتھ (خواب میں) جو مذاق کرتا ہے آدمی کسی کو وہ نہ بتائے۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1323
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح على شرط مسلم ، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2268، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6056، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8274، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7582، 7609، 7610، 10682، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3902، 3912، 3913، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14514، 14607، 15007، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1840، 1858، 2262، 2274»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2268 | سنن ابن ماجه: 3902

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1323- سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خوا ب میں دیکھا ہے کہ گویا میری گردن اڑادی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "شیطان آدمی کے ساتھ (خواب میں) جو مذاق کرتا ہے آدمی کسی کو وہ نہ بتائے۔‏‏‏‏" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1323]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ شیطانی خوابوں کو آگے بیان نہیں کرنا چاہیے، صرف اچھے خواب بیان کرنا درست ہے، صرف تعبیر اس سے معلوم کرنی چاہیے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو اور اہل علم ہو، ہر کسی سے نہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1321 سے ماخوذ ہے۔