حدیث نمبر: 1312
1312 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَي الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَي أَنْ لَا نَفِرَّ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر موت کی بیعت نہیں کی، ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1312
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1856، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4875، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4169، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7731، 8641، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1591، 1594، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2498، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14330، 15310، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1838، 1908، 2301»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1856 | سنن ترمذي: 1591 | سنن ترمذي: 1594 | سنن نسائي: 4163

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1591 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بیعت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آیت کریمہ: «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» " اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔‏‏‏‏" (الفتح: ۱۸) کے بارے میں روایت ہے، جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی، ہم نے آپ سے موت کے اوپر بیعت نہیں کی تھی۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1591]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
 ’’اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔
‘‘ (الفتح: 18)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1591 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4163 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت کا بیان۔`
جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر نہیں بلکہ میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4163]
اردو حاشہ: موت پر بیعت کرنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہم ثابت قدم رہیں گے‘ بھاگیں گے نہیں، خواہ موت والے حالات پیدا ہو جائیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ ہے کہ ہم  نے بیعت کرتے وقت یہ نہیں کہا تھا کہ اگر چہ مرجائیں۔ صرف یہ کہا تھا کہ بھاگیں گے نہیں۔ ویسے مفہوم اور نتیجے میں کوئی فرق نہیں۔ عض لوگوں نے موت کا لفظ بھی بولا ہے کہ بھاگیں گے نہیں‘ خواہ موت بھی آجائے جیسا کہ آئندہ روایت میں اس کی صراحت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4163 سے ماخوذ ہے۔