حدیث نمبر: 1307
1307 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”شہری شخص دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، تم لوگوں کو چھوڑ دو! اللہ تعالیٰ انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطا کر دے گا۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1307
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1522، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4960، 4963، 4964، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4507 ، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6042، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3442، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1223، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2176، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 11016، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14512، 14563، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1839، 2169»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1522 | سنن ترمذي: 1223 | سنن ابي داود: 3442 | سنن ابن ماجه: 2176 | سنن نسائي: 4500

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4500 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شہری دیہاتی کا مال بیچے یہ کیسا ہے؟`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ رزق (روزی) فراہم کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4500]
اردو حاشہ: مقصود یہ ہے کہ معاملات فطری طریقے سے جاری رہنے چاہییں۔ مصنوعی طریقے سے قلت پیدا کر کے یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے سے مہنگائی پیدا نہیں کرنی چاہیے بلکہ جوں جوں پیداوار آتی جائے، بازار میں فروخت ہوتی جائے اور ضرورت مند لوگوں تک پہنچتی رہے۔ ظاہر ہے اگر شہری دیہاتی کا مال بیچے گا تو ذخیرہ اندوزی کرے گا اور مصنوعی قلت پیدا کرے گا تاکہ پیداوار مہنگی فروخت ہو اور اس کا اپنا فائدہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4500 سے ماخوذ ہے۔