1303 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَي قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثني عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «أَتَي النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرَشَّتْ لَهُ صُورًا لَهَا، وَالصُّورُ النَّخْلَاتُ الْمُجْتَمِعَاتُ، وَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً، فَأَكَلَ مِنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّي الظُّهْرَ، ثُمَّ أُتِيَ بِعُلَالَةِ الشَّاةِ، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ إِلَي الْعَصْرِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» ، ثُمَّ أَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَأَيْنَ شَاتُكُمُ الْوَالِدُ؟ فَأُتِيَ بِهَا فَحَلَبَهَا وَجَعَلَ لَنَا مِنْهُ لَبْأَ، فَأَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَي الصَّلَاةِ فَصَلَّي، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، ثُمَّ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَأُتِيَ بِجَفْنَتَيْنِ، فَجُعِلَتْ إِحْدَاهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْأُخْرَي مِنْ خَلْفِهِ، فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّي وَلَمْ يَتَوَضَّأْسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری خاتون کے پاس تشریف لائے اس خاتون نے مختلف قسم کی کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بکری بھی ذبح کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت کھایا پھر جب ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ظہر کی نماز ادا کی پھر اس بکری کا باقی رہ جانے والا گوشت لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از سر نو وضو نہیں کیا۔ پھر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے اپنی بیوی سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہاری وہ بکری کہاں ہے، جس کے گھر بچہ ہونے والا ہے، تو اس بکری کو لایا گیا، انہوں نے اس کا دودھ دوہ لیا۔ انہوں نے اس کا دودھ ہمیں دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش کیا ہم نے بھی اسے پی لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا۔ پھر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو وہاں دو برتن لائے گئے ان میں سے ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دیا گیا اور دوسرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رکھ دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں تناول کیا ہم نے بھی تناول کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ ایک دوسرے کی دعوت کرنی چاہیے، دعوت میں روٹی، اور دودھ وغیرہ جتنی ڈشیں چا ہیں، بنائی جاسکتی ہیں۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم (مدینہ میں) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے (اسے) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے (اسے بھی) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 80]
1؎:
سوائے اونٹ کے گوشت کے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے، اونٹ کے گوشت میں ایک خاص قسم کی بو اور چکناہٹ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ناقض وضو کہا گیا ہے، اس سلسلے میں وارد وضو کو صرف ہاتھ منہ دھو لینے کے معنی میں لینا شرعی الفاظ کو خواہ مخواہ اپنے حقیقی معنی سے ہٹانا ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں (آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے) میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 185]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ کی گھاٹی سے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے اس وقت ہمارے سامنے ڈھال پر کچھ کھجوریں رکھیں تھیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو آپ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3762]
1۔
علامہ خطابی لکھتے ہیں۔
کہ اگر دعوت دینے والے نے پیشگی دعوت نہ دے رکھی ہو تو اچانک اس کے کھانے میں شریک ہونا نا پسند سمجھا جاتاہے۔
الا یہ کہ آثار وقرائن سے واضح ہوکہ صاحب طعام فراخ دلی سے پیش کش کر رہا ہے۔
توشریک ہوجائے۔
2۔
مذکورہ دونوں روایات (ہاتھ دھونے والی اور نہ دھونے والی) ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابل حجت ہیں۔
بنا بریں کھانے کے وقت ہاتھ دھونے ضروری نہیں۔
ہاں اگر وہ صاف نہ ہوں تو پھر دھونے ضروری ہوں گے۔