حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1297
1297 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَي الْمَدِينَةِ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم قربانی کے جانور کا گوشت مدینہ منورہ پہنچنے تک زاد راہ طور پر استعمال کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1297
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2980 | صحيح البخاري: 5424 | صحيح البخاري: 5567 | صحيح مسلم: 1972 | سنن نسائي: 4431 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 348
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1297- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم قربانی کے جانور کا گوشت مدینہ منورہ پہنچنے تک زاد راہ طور پر استعمال کرتے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1297]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت جتنی دیر چاہیں رکھ سکتے ہیں، سفر میں بھی کھانا چاہیے، جس روایت میں ہے کہ تین دن سے زیادہ نہیں کھانا وہ روایت منسوخ ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت جتنی دیر چاہیں رکھ سکتے ہیں، سفر میں بھی کھانا چاہیے، جس روایت میں ہے کہ تین دن سے زیادہ نہیں کھانا وہ روایت منسوخ ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1295 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5424 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5424. سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے عہد مبارک میں قربانی کا گوشت مدینہ طیبہ تک لاتے تھےمحمد بن عیینہ سے روایت کرنے میں عبداللہ بن محمد کی متابعت کی ہے ابن جریج نے کہا کہ میں نے سیدنا عطاء سے پوچھا: کیا سیدنا جابر ؓ نے کہا تھا: یہاں تک کہ ہم مدینہ طیبہ آ گئے؟ انہوں نے کہا: یہ نہیں کہا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5424]
حدیث حاشیہ: حالانکہ عمرو بن دینار کی روایت میں یہ موجود ہے توشاید عطاء سے یہ حدیث بیان کرنے میں غلطی ہوئی۔
کبھی انہوں نے اس لفظ کو یاد رکھا، کبھی انکار کیا۔
مسلم کی روایت میں یوں ہے۔
میں نے عطاء سے پوچھا کیا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا ہے ''حتی جئنا المدینة'' انہوں نے کہا کہ ہاں کہا ہے۔
کبھی انہوں نے اس لفظ کو یاد رکھا، کبھی انکار کیا۔
مسلم کی روایت میں یوں ہے۔
میں نے عطاء سے پوچھا کیا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا ہے ''حتی جئنا المدینة'' انہوں نے کہا کہ ہاں کہا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5424 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5424 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5424. سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے عہد مبارک میں قربانی کا گوشت مدینہ طیبہ تک لاتے تھےمحمد بن عیینہ سے روایت کرنے میں عبداللہ بن محمد کی متابعت کی ہے ابن جریج نے کہا کہ میں نے سیدنا عطاء سے پوچھا: کیا سیدنا جابر ؓ نے کہا تھا: یہاں تک کہ ہم مدینہ طیبہ آ گئے؟ انہوں نے کہا: یہ نہیں کہا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5424]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مکہ مکرمہ میں قربانی کرتے، پھر قربانی کا گوشت ذخیرہ کیا جاتا حتی کہ اسے مدینہ طیبہ لایا جاتا۔
اس سے دوران سفر میں طعام ذخیرہ کرنے کا جواز ملتا ہے۔
اس سے واضح حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ذبح کی پھر حضرت ثوبان سے فرمایا: ’’اس کا گوشت صاف کر کے بناؤ۔
میں آپ کو وہ گوشت کھلاتا رہا حتی کہ آپ مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الأضاحي، حدیث: 5110 (1975) (2)
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہے تھے: یہاں تک کہ ہم مدینہ طیبہ آ گئے۔
حضرت عطاء نے "ہاں" میں جواب دیا۔
(صحیح مسلم، الأضاحي، حدیث: 5105 (1972)
شاید عطاء سے یہ حدیث بیان کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔
کبھی انہوں نے ان الفاظ کو یاد رکھا اور بیان کیا اور کبھی بھول گئے تو انکار کر دیا، البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کی روایت کو قابل اعتماد قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 685/9)
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مکہ مکرمہ میں قربانی کرتے، پھر قربانی کا گوشت ذخیرہ کیا جاتا حتی کہ اسے مدینہ طیبہ لایا جاتا۔
اس سے دوران سفر میں طعام ذخیرہ کرنے کا جواز ملتا ہے۔
اس سے واضح حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ذبح کی پھر حضرت ثوبان سے فرمایا: ’’اس کا گوشت صاف کر کے بناؤ۔
میں آپ کو وہ گوشت کھلاتا رہا حتی کہ آپ مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الأضاحي، حدیث: 5110 (1975) (2)
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہے تھے: یہاں تک کہ ہم مدینہ طیبہ آ گئے۔
حضرت عطاء نے "ہاں" میں جواب دیا۔
(صحیح مسلم، الأضاحي، حدیث: 5105 (1972)
شاید عطاء سے یہ حدیث بیان کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔
کبھی انہوں نے ان الفاظ کو یاد رکھا اور بیان کیا اور کبھی بھول گئے تو انکار کر دیا، البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کی روایت کو قابل اعتماد قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 685/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5424 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5567 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5567. سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے زمانہ مبارک میں مدینہ طیبہ تک قربانی کا گوشت جمع رکھتے تھے۔ راوی نے کئی مرتبہ (”قربانی کا گوشت“ کے بجائے) ”ہدی کا گوشت“ کہا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5567]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں نصف یا تہائی کی کوئی قید نہیں ہے، مطلق طور پر جمع کرنے کا جواز ہے، نیز مسافر انسان تین دن سے زیادہ دنوں تک قربانی کا گوشت ذخیرہ کر سکتا ہے۔
(2)
قرآن کریم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا سارا گوشت خود کھانے کے بجائے غریبوں، محتاجوں اور دوست احباب کو بھی کھلانا چاہیے۔
اگر ضرورت ہو تو خود جمع کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث میں نصف یا تہائی کی کوئی قید نہیں ہے، مطلق طور پر جمع کرنے کا جواز ہے، نیز مسافر انسان تین دن سے زیادہ دنوں تک قربانی کا گوشت ذخیرہ کر سکتا ہے۔
(2)
قرآن کریم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا سارا گوشت خود کھانے کے بجائے غریبوں، محتاجوں اور دوست احباب کو بھی کھلانا چاہیے۔
اگر ضرورت ہو تو خود جمع کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5567 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2980 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2980. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم نبی ﷺ کے زمانے میں قربانی کا گوشت توشے کے طور پر مدینہ طیبہ لے کر جاتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2980]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ سفر کے لیے زاد سفر لے جانا توکل کے منافی نہیں جبکہ کچھ صوفیاء نے حدیث کی مخالفت کرتے ہوئے اسے توکل کے خلاف کہا ہے۔
2۔
اس حدیث میں اگرچہ سفر مدینہ کا ذکر ہے لیکن یہ مدینے کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ اگر سفر مدینہ میں زاد سفر لے جانا جائز ہے جو مبارک شہر اور پیارا وطن ہے تو سفر جہاد میں زاد سفر لے جانا بطریق اولیٰ جائز ہوا کیونکہ اس میں تو دشمن کی سر زمین پرسفر کرتا ہوتا ہے ضافت وغیرہ کا امکان بھی بہت کم ہوتا ہے پھر جہاد کے مسافر کو تو مزید قوت حاصل کرنے کے لیے زاد سفر کی ضرورت ہوتی ہے۔
1۔
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ سفر کے لیے زاد سفر لے جانا توکل کے منافی نہیں جبکہ کچھ صوفیاء نے حدیث کی مخالفت کرتے ہوئے اسے توکل کے خلاف کہا ہے۔
2۔
اس حدیث میں اگرچہ سفر مدینہ کا ذکر ہے لیکن یہ مدینے کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ اگر سفر مدینہ میں زاد سفر لے جانا جائز ہے جو مبارک شہر اور پیارا وطن ہے تو سفر جہاد میں زاد سفر لے جانا بطریق اولیٰ جائز ہوا کیونکہ اس میں تو دشمن کی سر زمین پرسفر کرتا ہوتا ہے ضافت وغیرہ کا امکان بھی بہت کم ہوتا ہے پھر جہاد کے مسافر کو تو مزید قوت حاصل کرنے کے لیے زاد سفر کی ضرورت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2980 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1972 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر ؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا، پھر بعد میں فرمایا: "کھاؤ، زادراہ بناؤ اور ذخیرہ کرو۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:5104]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ان متصوفہ کی بھی تردید ہوتی ہے کہ اگلے دن کے لیے کھانا ذخیرہ کرنا جائز نہیں ہے اور جو کسی چیز کا کچھ بھی ذخیرہ کرتا ہے، وہ ولی نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ اللہ کے ساتھ بدگمانی ہے۔
" حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود سال بھر کے لیے غلہ رکھتے تھے اور صحابہ کرام کو ذخیرہ کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور جائز اسباب اپنانا خلاف توکل نہیں ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ کسی وقتی ضرورت کے تحت اپنا سب کچھ صدقہ کر دے اور اللہ پر توکل کرے کہ وہ اور دے دے گا۔
" حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود سال بھر کے لیے غلہ رکھتے تھے اور صحابہ کرام کو ذخیرہ کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور جائز اسباب اپنانا خلاف توکل نہیں ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ کسی وقتی ضرورت کے تحت اپنا سب کچھ صدقہ کر دے اور اللہ پر توکل کرے کہ وہ اور دے دے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1972 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4431 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، پھر فرمایا: ” کھاؤ، توشہ (زاد سفر) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4431]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، پھر فرمایا: ” کھاؤ، توشہ (زاد سفر) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4431]
اردو حاشہ: حدیث مبارکہ کے الفاظ سے ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کا حکم ہے، یعنی ایسا کرنا ضروری ہے کیونکہ حدیث کے الفاظ ہیں: [كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا] یعنی کھاؤ، زادِ راہ بناؤ اور ذخیرہ کرو۔ یہ تینوں صیغے امر کے ہیں لیکن جب کوئی قرینہ صارفہ موجود ہو تو پھر امر استحباب، رخصت اور جواز وغیرہ پر بھی دلالت کرتا ہے۔ اس جگہ امر استحباب اور رخصت کے معنیٰ میں ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے رخصت ہی سمجھی ہے۔ بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں: [أن رسولَ اللهِ، نهانا أن نأكُلَه فوقَ ثلاثةِ أيامٍ، ثم رَخَّصَ لنا أن نَأْكُلَه ونُدَّخِرَه ] ”بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، پھر آپ نے ہمیں اس کے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دے دی۔“ (دیکھئے حدیث: 4433)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4431 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 348 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´قربانی کے گوشت کو خود استعمال کرنا اور ذخیرہ کر لینا صحیح ہے`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل لحوم الضحايا بعد ثلاث، ثم قال بعد: ”كلوا وتصدقوا وتزودوا وادخروا . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قربانی کے) تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا پھر اس کے بعد فرمایا: ”کھاؤ صدقہ کرو، زاد راہ بناؤ اور ذخیرہ کر لو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 348]
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل لحوم الضحايا بعد ثلاث، ثم قال بعد: ”كلوا وتصدقوا وتزودوا وادخروا . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قربانی کے) تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا پھر اس کے بعد فرمایا: ”کھاؤ صدقہ کرو، زاد راہ بناؤ اور ذخیرہ کر لو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 348]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 1972/29، من حديث ما لك به ورواه عطاء بن ابي رباح عن جابر نه نحو المعنيٰ وابوالزبيرصرح بالسماع عند أحمد 378/3 ح 15042،]
تفقه
➊ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع والا حکم منسوخ ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ ح 309، ومسلم 1971]
➋ قربانی کے گوشت کو خود استعمال کرنا اور ذخیرہ کر لینا صحیح ہے اور اسے صدقہ کر دینا یا رشتہ داروں دوستوں وغیرہم کو تحفتاً دینا اچھا کام ہے۔
➌ اس حدیث کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں۔
اس سلسلے میں مختصر تحقیق درج ذیل ہے: ● جن روایات میں آیا ہے کہ تمام ایام تشریق زبح کے دن ہیں، وہ سب کی سب ضعیف و غیر ثابت ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قربانی والے دن کے بعد (مزید) دو دن قربانی (ہوتی) ہے۔“ [موطأ امام مالك 487/2 ح 1071، وسنده صحيح]
● سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قربانی کے دن کے بعد دو دن قربانی ہے اور افضل قربانی نحر والے (پہلے) دن ہے۔“ [احكام القرآن للطحاوي 205/2 ح 1571، وسنده حسن]
● سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قربانی والے (اول) دن کے بعد دو دن قربانی ہے۔“ [احكام القرآن للطحاوي 206/2 ح 1576، وهو صحيح]
● سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قربانی کے تین دن ہیں۔“ [احكام القرآن للطحاوي 205/2 ح 1569، وهو حسن]
● یہی موقف جمہور صحابہ کرام و جمہور علماء کا ہے اوریہی راجح ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: [ماهنامه الحديث حضرو:44 ص6 - 11]
➍ قربانی کے گوشت کے حصے بنانا جائز ہے۔ ایک اپنے لئے، دوسرا غریبوں کے لئے اور تیسرا رشتہ داروں و دوست احباب کے لئے اور اگر حصہ نہ بنائیں تو بھی جائز ہے۔
➎ شریعت اسلامیہ میں ناسخ و منسوخ کا سلسلہ تربیت اور اصلاح معاشرہ کی غرض سے تھا لہٰذا اب منسوخ کے بجائے ثابت شده ناسخ پر ہی عمل کرنا چاہئے۔
[وأخرجه مسلم 1972/29، من حديث ما لك به ورواه عطاء بن ابي رباح عن جابر نه نحو المعنيٰ وابوالزبيرصرح بالسماع عند أحمد 378/3 ح 15042،]
تفقه
➊ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع والا حکم منسوخ ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ ح 309، ومسلم 1971]
➋ قربانی کے گوشت کو خود استعمال کرنا اور ذخیرہ کر لینا صحیح ہے اور اسے صدقہ کر دینا یا رشتہ داروں دوستوں وغیرہم کو تحفتاً دینا اچھا کام ہے۔
➌ اس حدیث کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں۔
اس سلسلے میں مختصر تحقیق درج ذیل ہے: ● جن روایات میں آیا ہے کہ تمام ایام تشریق زبح کے دن ہیں، وہ سب کی سب ضعیف و غیر ثابت ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قربانی والے دن کے بعد (مزید) دو دن قربانی (ہوتی) ہے۔“ [موطأ امام مالك 487/2 ح 1071، وسنده صحيح]
● سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قربانی کے دن کے بعد دو دن قربانی ہے اور افضل قربانی نحر والے (پہلے) دن ہے۔“ [احكام القرآن للطحاوي 205/2 ح 1571، وسنده حسن]
● سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قربانی والے (اول) دن کے بعد دو دن قربانی ہے۔“ [احكام القرآن للطحاوي 206/2 ح 1576، وهو صحيح]
● سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قربانی کے تین دن ہیں۔“ [احكام القرآن للطحاوي 205/2 ح 1569، وهو حسن]
● یہی موقف جمہور صحابہ کرام و جمہور علماء کا ہے اوریہی راجح ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: [ماهنامه الحديث حضرو:44 ص6 - 11]
➍ قربانی کے گوشت کے حصے بنانا جائز ہے۔ ایک اپنے لئے، دوسرا غریبوں کے لئے اور تیسرا رشتہ داروں و دوست احباب کے لئے اور اگر حصہ نہ بنائیں تو بھی جائز ہے۔
➎ شریعت اسلامیہ میں ناسخ و منسوخ کا سلسلہ تربیت اور اصلاح معاشرہ کی غرض سے تھا لہٰذا اب منسوخ کے بجائے ثابت شده ناسخ پر ہی عمل کرنا چاہئے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 105 سے ماخوذ ہے۔