1292 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: «نَهَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ» قَالَ سُفْيَانُ: " وَكُلُّ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ لَنَا فِيهِ سَمِعْتُ جَابِرًا إِلَّا هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ، يَعْنِي لُحُومَ الْخَيْلِ وَالْمُخَابَرَةَ، فَلَا أَدْرِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ جَابِرٍ فِيهِمَا أَحَدٌ أَمْ لَا، وَأَمَّا حَدِيثُ الْأَسْهُمِ فَإِنِّي أَنَا قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ جَابِرًا عَلَي مَا حَدَّثْتُكُمْ "سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مخابرہ“ سے منع کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار کے حوالے سے جو بھی روایت سنی اس میں انہوں نے یہی کہا: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، البتہ ان دو روایات کا حکم مختلف ہے۔ یعنی گھوڑوں کے گوشت والی روایت اور مخابرہ والی روایت، مجھے نہیں معلوم کہ آیا ان دونوں روایات میں عمر و بن دینار اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی اور راوی ہے یا نہیں؟ جہاں تک تیروں والی روایت کا تعلق ہے، تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اسی طرح جس طرح میں تمہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ زمین ٹھیکے پر یا حصے پر نہیں دینی چاہیے مگر دوسری روایات سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے، جب دھوکا نہ ہوتو یہ جائز ہے، جب دھوکا ہو تو یہ جائز نہیں ہے۔
زمین کاشت کے لیے دینے کی چار صورتیں بن سکتی ہیں۔
1۔
زمیندار، مزارع یا کاشت کار کو زمین اس شرط پر دیتا ہے، کہ میں اس زمین کے عوض، پیداوار میں سے بیس من یا سو من لوں گا، یہ صورت فقہاء کے نزدیک بالاتفاق ناجائز ہے۔
کیونکہ معلوم نہیں ہے کس قدر پیداوار حاصل ہو گی یا حاصل بھی ہو گی یا کسی آفت کا شکار ہو جائے گی۔
اس طرح اس میں غرر اور دھوکا ہے۔
2۔
زمیندار، کاشت کار کو زمین اس شرط پر دیتا ہے کہ فلاں فلاں ایکڑ کی پیداوار میری ہو گی اور باقی تیری ہو گی، اس طرح بہترین حصہ اپنے لیے رکھتا ہے، یہ بھی بالاتفاق ممنوع ہے، کیونکہ اس میں بھی غرر کا خطرہ ہے۔
معلوم نہیں، زمین کا کون سا حصہ، کسی آفت کا شکار ہو جائے اور اس سے پیداوار حاصل نہ ہو سکے، یا کس حصہ میں کتنی پیداوار ہو گی۔
3۔
زمیندار مزارع کو زمین ٹھیکہ پر دے، ٹھیکہ سونا، چاندی، کسی کرنسی یا کسی اور چیز کی متعین اور طے شدہ مقدار کی صورت میں ہو گا۔
بہرحال یہ طے ہے کہ یہ ٹھیکہ زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار کا معینہ مقدار میں نہیں ہو گا۔
ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء کے نزدیک یہ صورت جائز ہے، لیکن امام ربیعہ الرائے کے نزدیک ٹھیکہ صرف سونے، چاندی کے عوض ہو گا اور کسی صورت میں جائز نہیں ہے، اور امام مالک کے نزدیک غلہ و اناج کے سوا ہر چیز کے عوض جائز ہے، امام شافعی، امام ابو حنیفہ، امام احمد، صاحبین (ابو یوسف، محمد)
اور جمہور کے نزدیک، ہر چیز کے عوض جائز ہے۔
اس کی مقدار یا مالیت طے ہو گی، لیکن حسن بصری، امام طاؤس کے نزدیک زمین ٹھیکہ پر دینا جائز نہیں ہے۔
امام ابن حزم کا موقف بھی یہی ہے، اور اس نے یہ موقف عطاء، عکرمہ، مجاہد، شعبی، ابن سیرین، قاسم بن محمد اور مسروق رحمۃ اللہ علیہم کا قرار دیا ہے۔
لیکن ان تابعین کے بعد کے تمام ائمہ اور فقہاء کا ٹھیکہ کے جواز پر اتفاق ہے۔
اس لیے امام ابن قدامہ نے اپنی کتاب المغنی میں اس کو اجماعی مسئلہ قرار دیا ہے۔
(المغني، ج: 5، ص: 429، مطبوعة ادارۃ البحوث العلمیة والافتاء سعودي عرب)
زمیندار، کسان کو زمین بٹائی یا حصہ پر دے، جس کو مزارعت کا نام دیا جاتا ہے کہ اس سے جو پیداوار حاصل ہو گی اس کا آدھا حصہ لوں گا۔
اس میں کمی و بیشی بھی ہو سکتی ہے، جس کا مدار، زمیندار کی طرف سے کسان کو فراہم کردہ سہولتوں پر ہے۔
اس کے بارے میں ائمہ کے مندرجہ ذیل اقوال ہیں۔
مزارعت پر زمین دینا بلا قید جائز ہے، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد کا یہی نظریہ ہے۔
ابن حزم کا بھی یہی موقف ہے۔
بہت سے صحابہ اور تابعین سے اس کا جواز ثابت ہے۔
بٹائی پر زمین دینا کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔
امام ابو حنیفہ اور زفر کا یہی موقف ہے۔
عکرمہ، نخعی اور مجاہد بھی اس کے قائل تھے، اور امام صاحب مساقات کو بھی جائز نہیں سمجھتے۔
امام شافعی کے نزدیک مزارعت چند شرطوں کے ساتھ جائز ہے۔
پہلی شرط یہ ہے کہ یہ مساقات (باغبانی)
کے ضمن میں ہو۔
یعنی اصل میں باغ حصہ پر دیا ہے اور اس کے اندر کچھ زمین بھی ہے جس کو کاشت کیا جاتا ہے۔
(4)
مزارعت اور مساقات ایک ہی کسان کر رہا ہو۔
(5)
معاملہ بیک وقت اور مشترکہ طے ہوا ہو، الگ الگ نہیں۔
(6)
باغ کے اندر کی زمین کسی اور کو دینا ممکن نہ ہو۔
(7)
زمین میں بیج، زمیندار ڈالے گا، وغیرہ۔
مزارعت، مساقات کی ضمن میں ہو گی اور باغ کی زمین دو تہائی ہو گی اور کاشت کے لیے زمین ایک تہائی یا اس سے کم ہو گی۔
یہ امام مالک کا نظریہ ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ مزارعت اور مساقات دونوں جائز ہیں۔
احناف کا فتویٰ بھی صاحبین کے قول کے مطابق ہے اور امت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر آج تک اس پر عمل پیرا ہے۔
اور مزارعت سے جن حدیثوں میں منع کیا گیا ہے وہ مخصوص صورتیں ہیں جن میں غرر ہے، جن کو ہم نے، مزارعت کی پہلی اور دوسری صورت میں بیان کیا ہے۔
اور بعض مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے بڑے زمینداروں کو، جن کے پاس فالتو زمین تھی، ان کو آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جن کے پاس زمین نہیں تھی ہمدردی اور خیرخواہی اور ایثار و قربانی کا حکم دیا کہ تم فالتو زمین کاشت کے لیے انہیں دے دو، جب ضرورت ہو تو اپنی زمین واپس لے لینا، یہ دونوں باتیں کہ مزارعت کی مخصوص صورتیں منع ہیں۔
اور ہمدردی و خیرخواہی مطلوب ہے، آنے والی حدیثوں سے ثابت ہو جائیں گی۔
ثنیا: اس سے مراد باغ کے کسی درخت کو فروخت کرنے سے مستثنیٰ قرار دینا ہے، اگر بائع اپنا باغ فروخت کرتا ہے، یا کوئی اور چیز فروخت کرتا ہے اور ایک غیر متعین درخت یا چیز کا استثناء کر لیتا ہے، مثلا کہے کہ دو درخت یا ایک درخت میرا ہو گا۔
یا کچھ چیز میری ہو گی تو یہ بالاتفاق منع ہے۔
لیکن اگر درختوں کی تعداد معلوم ہے یا چیز کی مقدار معلوم ہے پھر وہ ایک مخصوص اور معین فروخت کو مستثنیٰ کر لیتا ہے یا چیز کی معین مقدار کا استثناء کر لیتا ہے تو پھر بالاتفاق جائز ہے۔
لیکن اگر سامان کی مقدار معلوم نہیں ہے، مثلا گندم کا ڈھیر پڑا ہے معلوم نہیں ہے کہ گندم کتنی ہے پھر اگر وہ معین مقدار کا استثناء کرتا ہے، مثلا اس ڈھیر سے دو صاع میں رکھوں گا۔
تو پھر امام ابو حنیفہ، شافعی اور جمہور کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
لیکن امام مالک کے نزدیک جائز ہے۔
صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اگر بہت کم چیز کا استثناء آتا ہے، جس میں نزاع اور جھگڑے کا خطرہ نہیں ہے، تو جائز ہونا چاہیے، جس طرح اس صورت میں جائز ہے، جب یہ کہتا ہے، اس کا آدھا حصہ میرا ہو گا یا چوتھا حصہ میرا ہو گا۔
حتي تشقه اور حتي تشقحدونوں کا اصل معنی رنگت کی تبدیلی ہے، پوری طرح سرخ اور زرد ہونا مراد نہیں ہے۔
راوی نے بات سمجھانے کے لیے اس کو سرخی اور زردی سے تعبیر کر دیا ہے۔
مخابره بقول بعض خیبر (کاشتکار)
سے مشتق ہے۔
بعض کے نزدیک خبار (نرم و ملائم زمین)
سے مشتق ہے۔
بعض کے نزدیک خبرۃ یعنی حصہ سے مشتق ہے، اس لیے جب بکری خرید کر اسے ذبح کر کے اس کے حصے بانٹتے ہیں تو کہتے ہیں تخبره اخبرة۔
فوائد ومسائل: مخابرہ کے سوا حدیث کے باقی مباحث گزر چکے ہیں، ابن اعرابی کے نزدیک مخابرۃ، مزارعت کو کہتے ہیں، چونکہ یہ معاملہ آپﷺ نے سب سے پہلے خیبر والوں کے ساتھ کیا تھا۔
اس لیے اس کومخابرہ کا نام دیا گیا۔
بقول بعض اگر بیج مالک زمین دے تو مزارعت ہے اور اگر بیج کاشتکار اور کسان ڈالے تو مخابرہ ہے۔
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ دونوں ایک ہیں۔
یعنی کسی کو زمین حصہ پر یا بٹائی پر کاشت کے لیے دینا۔
اس کی جائز اور ناجائز صورتوں کی تفصیل اگلے باب میں آرہی ہے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ ۱؎، مخابرہ ۲؎ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا، اور آپ نے عرایا ۴؎ کی اجازت دی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1313]
وضاحت:
1؎:
محاقلہ اورمزابنہ کی تفسیرکے لیے دیکھئے حدیث رقم (1224)
2؎:
مخابرہ کی تفسیرکے لیے دیکھئے: حدیث رقم (1290)
3؎:
عرایا کی تفسیرکے لیے دیکھئے: حاشہ حدیث رقم (1300)
4؎:
بیع سنین کو بیع معاومہ بھی کہتے ہیں، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کو کئی سالوں کے لیے بیچ دے، یہ بیع جائزنہیں ہے کیونکہ یہ معدوم کی بیع کی قبیل سے ہے، اس میں دھوکہ ہے، ممکن ہے کہ درخت میں پھل ہی نہ آئے، یا آئے مگرجتنی قیمت دی ہے اس سے زیادہ پھل آئے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ ۱؎ مخابرہ ۲؎ اور بیع میں کچھ چیزوں کو مستثنیٰ کرنے سے منع فرمایا ۳؎ الا یہ کہ استثناء کی ہوئی چیز معلوم ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1290]
وضاحت:
1؎:
محاقلہ اورمزابنہ کی تفسیرگزرچکی ہے دیکھئے حدیث نمبر(1224)
2؎:
مخابرہ کے معنیٰ مزارعت کے ہیں یعنی ثلث یا ربع پیداوار پر زمین بٹائی پر لینا، یہ بیع مطلقاً ممنوع نہیں، بلکہ لوگ زمین کے کسی حصہ کی پیداوارمزارع کے لیے اورکسی حصہ کی مالک زمین کے لیے مخصوص کرلیتے تھے، ایسا کرنے سے منع کیا گیاہے، کیونکہ بسا اوقات مزارع والا حصہ محفوظ رہتا اورمالک والا تباہ ہوجاتا ہے، اورکبھی اس کے برعکس ہوجاتاہے، اس طرح معاملہ باہمی نزاع اور جھگڑے تک پہنچ جاتاہے، اس لیے ایساکرنے سے منع کیا گیاہے۔
3؎:
اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً کوئی کہے کہ میں اپنا باغ بیچتا ہوں مگر اس کے کچھ درخت نہیں دوں گا اور ان درختوں کی تعیین نہ کرے تو یہ درست نہیں کیو نکہ مستثنیٰ کئے ہوئے درخت مجہول ہیں۔
اوراگرتعیین کردے توجائز ہے جیساکہ اوپرحدیث میں اس کی اجازت موجودہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ۱؎ مزابنہ ۲؎ مخابرہ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں «عن حماد» ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے «بيع السنين» کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے ۴؎ سے منع فرمایا ہے، اور عرایا ۵؎ کی اجازت دی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3404]
توضیحات (محاقله) اس کی تعریف کئی انداز میں کی گئی ہے۔
(الف) معلوم اور متعین غلے کے بدلے کھڑی کھیتی کی بیع کردینا۔
(ب) جو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل فرمائی۔
غلہ ابھی بالیوں میں ہی ہو اور اس کی بیع کردینا یہ صحیح ترین تعریف ہے۔
(مذابنۃ) درختوں پرلگی کھجوروں یا بیلوں پر لگے انگوروں کو اس جنس کے متعین پھل سے فروخت کردینا یہ صحیح ترین تعریف ہے۔
(الصحیحین) (مخابرہ) مزارعت کے ہم معنی ہے۔
بلکہ مساقاۃ مزارعۃ اور مخابرہ تینوں ایک ہی معنی میں ہیں۔
(بیع المسنین/معاومہ کسی باغ یا درختوں کے متعین پھل کو کئی سالوں کےلئے فروخت کردینا۔
اس صورت میں کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا۔
کہ پیدا وار کیسی ہوگی۔
بیماریاں لگیں گی یا نہ لگیں گی وغیرہ۔
(عرابا) کا بیان تفصیل سے پیچھے گزرا ہے۔
(حدیث 3362) (استثناء) باغ مع پھل فروخت کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ہم بھی اس میں سے کھاتے رہیں گے۔
یا تین درخت یا پانچ درخت ہم فروخت نہیں کرتے۔
مگر ان درختوں کی تعین نہ کی جائے تو اس طرح غیر معین اور مجہول مقدار یا درختوں کا استثناء ناجائز ہے۔
معلوم اور متعین ہو تو کوئی حرج نہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاومہ (کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل بیچنے) سے روکا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان میں سے ایک (یعنی ابو الزبیر) نے (معاومہ کی جگہ) «بيع السنين» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3375]
1۔
کسی باغ یا مخصوص درختوں کے پھل کوکئی سالوں کےلئے پیشگی فروخت کرنا منع ہے۔
کیونکہ معلوم نہیں کہ ان پر پھل آئے گا بھی یا نہیں۔
کم آئے گا یا زیادہ۔
لیکن بیع سلم (یا سلف) مختلف بیع ہے۔
اس میں خریدار بائع کو پیشگی رقم ادا کر دیتا ہے۔
کہ موسم آنے پر فلاں پھل یا فلاں جنس اس معیارکی اتنی مقدار میں مہیا کرنا ہوگی تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ کسی خاص کھیت یا خاص درخت یا باغ کی پیداوار کا سودا نہیں ہوتا۔
بلکہ ایک خاص معیار کی جنس یا پھل کا سودا ہوتا ہے۔
جو کہیں سے بھی حاصل ہوسکتا ہے۔
2۔
اس وقت جو سودے ہوچکے تھے۔
اور آفات کی جگہ سے پیداوار میں نقصان ہوا تھا اس کی تلافی کرائی گئی اور آئندہ کےلئے پھل وغیرہ قابل استعمال ہونے کے بعد بیع کرنے کا حکم دیا۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ سے اور بیع میں استثناء کرنے سے سوائے اس کے کہ مقدار معلوم ہو منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4637]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «حقل» (تہائی، چوتھائی پر بیع)، اور یہی مزابنہ ہے، سے منع فرمایا۔ ہشام نے معاویہ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے «عن یحییٰ عن ابی سلمہ عن جابر» کی سند سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3913]
(2) حقل کے یہ معنیٰ معروف نہیں۔ پیچھے (حدیث: 3894،3895 میں) گزر چکا ہے کہ حقل سے مراد زمین بٹائی پر دینا ہے۔ البتہ حقل کو محاقلہ کے معنیٰ میں لیں تو یہ معنیٰ بن سکتے ہیں۔ کیونکہ محاقلہ اور مزابنہ ایک چیز ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ محاقلہ کھیتی میں ہوتا ہے اور مزابنہ پھلوں میں۔ ویسے دونوں منع ہیں۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا۔ زمین کو کرائے پر نہ دینے کے سلسلہ میں (روایت کرنے میں) عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے مطر کی موافقت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3909]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مخابرہ اور مزابنہ، محاقلہ سے اور ان پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے جو ابھی کھانے کے قابل نہ ہوئے ہوں، سوائے بیع عرایا کے ۱؎۔ یونس بن عبید نے اس کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3910]
(2) مزابنہ‘ درخت پر لگے ہوئے پھل کی بیع معین مقدار میں خشک پھل کے عوض کرنا اور محاقلہ‘ کھیت میں اُگی ہوئی فصل کی بیع معین مقدار میں خشک غلے کے عوض کرنا۔ (ان دو کی ممانعت کی وجہ دیکھیے‘ فائدہ حدیث: 3894 میں۔)
(3) کچے پھل کی بیع اس لیے منع ہے کہ اس کے پکنے تک کئی آفات نازل ہوسکتی ہیں۔ بعد میں جھگڑے کا احتمال ہے‘ نیز اس میں خریدار کو نقصان کا قوی احتمال ہے جبکہ بیچنے والا اپنی رقم لے چکا ہے۔ ہوسکتا ہے پھل ضائع ہوجائے۔ خریدار رقم کہاں سے اور کیوں دے گا؟
(4) عرایا‘ عریۃ کی جمع ہے۔ یہ مزابنہ سے استثنا ہے۔ عریہ سے مراد وہ درخت ہے جو کہ کوئی باغ والا کسی غریب آدمی کو تحفہ دے دیتا ہے کہ اس سال اس درخت کا پھل تو استعمال کر۔ درخت اصل مالک ہی کا رہتا ہے‘ جبکہ پھل کی دیکھ بھال اور نگہداشت وغیرہ کے لیے اس غریب شخص کو باغ میں آنا جانا پڑے گا۔ ممکن ہے اس کے آنے جانے سے باغ والے کو تکلیف ہو یا وہ غریب شخص اتنی دیر تک پھل کے پکنے کا انتظار نہ کرسکتا ہو‘ لہٰذا شریعت نے فریقین کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے اجازت دی ہے کہ وہ اس درخت پر موجودہ پھل کی بیع خشک معین پھل کے ساتھ کرلیں۔ اس غریب شخص کو خشک پھل مل جائے گا۔ درخت پھل سمیت باغ والے کو واپس چلا جائے گا۔ یہ بھی مزابنہ ہی ہے مگر غریب شخص کے لیے تھوڑی مقدار میں (تقریباً بیس من تک) اس کی خصوصی اجازت دی گئی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ و مزابنہ اور مخابرہ نامی بیع سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔ (آگے آنے والی) ہمام بن یحییٰ کی روایت میں گویا یہ دلیل ہے کہ عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے ان کی یہ حدیث نہیں سنی ہے ۲؎ جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3911]
(2) ”مجہول استثنا“ مثلاً: کوئی شخص باغ کا پھل فروخت کرتے وقت کہے کہ اس میں سے پودوں کا پھل میں لوں گا۔ مگر پودے معین نہ کرے۔ اس قسم کا مجہول استثنا بعد میں جھگڑے کا سبب بنتا ہے‘ اس لیے منع ہے‘ نیز خریدار پر ظلم کا بھی خطرہ ہے کہ باغ کا مالک بہترین پودے اپنے لیے خاص کرلے‘ البتہ اگر پودے شروع ہی میں متعین کردے جائیں تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ سود واضح ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور مخاضرہ سے منع فرمایا ہے۔ اور کہا مخاضرہ: پھل کو پکنے سے پہلے بیچنا اور مخابرہ (درخت کی) انگور کو خشک انگور کے اتنے اتنے صاع کے بدلے بیچنا ہے۔ اس میں عمرو بن ابی سلمہ نے یحییٰ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے اپنے باپ ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ نے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روای [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3914]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ، معاومہ (کئی سالوں کی بیع) اور بیع میں الگ کرنے سے منع فرمایا اور بیع عرایا (عاریت والی بیع) میں رخصت دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4638]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ سفیان بن عیینہ نے دونوں حدیثوں کو جمع کر کے ہے اور «عن ابن عمر و جابر» کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3952]
جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مخابرہ، مزابنہ، محاقلہ اور کھانے کے لائق ہونے سے پہلے درخت پر لگے پھلوں کو بیچنے سے منع فرما، یا سوائے بیع عرایا کے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4528]