مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1281
1281 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: " قُلْتُ لِأَبِي وَكُنْتُ فِي الْجَيْشِ جَيْشِ الْخَبَطٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ، قَالَ لِي أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ أَصَابَهُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ لِي أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ أَصَابَهُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ لِي أَبِي: انْحَرْ، فَقُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ قَالَ أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نُهِيتُ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

قیس بن سعد بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: میں اس لشکر میں موجود تھا، جسے پتوں والا لشکر کا نام دیا گیا، لوگوں کو بھوک لاحق ہو گئی تو میرے والد نے مجھ سے کہا: تم قربان کرو، میں نے جواب دیا: میں قربان کر لیتا ہوں، پھر لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا تو میرے والد نے مجھے فرمایا: تم قربان کرو! میں نے جواب دیا: میں قربان کر دیتا ہوں، پھر لوگوں کو بھوک کا سامنا کرنا پڑا تو میرے والد نے مجھے کہا: تم قربان کرو، تو میں نے جواب دیا: مجھے (لشکر کے امیر کی طرف سے) اس سے منع کر دیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1281
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4361

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1281-قیس بن سعد بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: میں اس لشکر میں موجود تھا، جسے پتوں والا لشکر کا نام دیا گیا، لوگوں کو بھوک لاحق ہوگئی تو میرے والد نے مجھ سے کہا: تم قربان کرو، میں نے جواب دیا: میں قربان کر لیتا ہوں، پھر لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا تو میرے والد نے مجھے فرمایا: تم قربان کرو! میں نے جواب دیا: میں قربان کردیتا ہوں، پھر لوگوں کو بھوک کا سامنا کرنا پڑا تو میرے والد نے مجھے کہا: تم قربان کرو، تو میں نے جواب دیا: مجھے (لشکر کے امیر کی طرف سے) اس سے منع کردیا گیا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1281]
فائدہ:
اس حدیث میں 1278 حدیث کی وضاحت آ گئی ہے کہ بھوک کی وجہ سے انہوں نے اونٹ ذبح کیے تھے، جب کسی قوم پر فاقہ پڑھتا تو وہ اونٹ ذبح کر لیتے تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1279 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4361 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4361. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم تین سو (300) سواروں کو بھیجا اور ہمارا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بنایا۔ ہم قریش کے قافلے کا انتظار کرتے تھے۔ ساحل سمندر پر ہم پندرہ (15) دن تک پڑاؤ ڈالے رہے۔ ہمیں اس دوران میں سخت بھوک اور قافلے کا سامان کرنا پڑا۔ نوبت بایں جا رسید کہ ہم نے کیکر کے پتے کھا کر وقت پاس کیا، اس لیے اس لشکر کو "کیکر کے پتے کھانے والا لشکر" کہا جاتا ہے۔ پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لیے ایک جانور کنارے پر پھینک دیا اس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر جسموں پر ملا تو ہمارے جسم موٹے اور قوی ہو گئے۔ حضرت ابوعبیدہ ؓ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اسے کھڑا کیا۔ پھر لشکر سے جو طویل تر آدمی تھا اسے نیچے سے گزارا۔ سفیان بن عیینہ نے ایک مرتبہ اس طرح بیان کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:4361]
حدیث حاشیہ: بعد میں یہ سو چا گیا کہ اگر اونٹ سارے اس طرح ذبح کردئےے گئے تو پھر سفر کیسے ہوگا۔
لہذا اونٹوں کاذبح کرنابند کر دیا گیامگر اللہ نے مچھلی کے ذریعہ لشکر کی خوراک کا انتظام کردیا۔
﴿ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4361 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4361 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4361. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم تین سو (300) سواروں کو بھیجا اور ہمارا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بنایا۔ ہم قریش کے قافلے کا انتظار کرتے تھے۔ ساحل سمندر پر ہم پندرہ (15) دن تک پڑاؤ ڈالے رہے۔ ہمیں اس دوران میں سخت بھوک اور قافلے کا سامان کرنا پڑا۔ نوبت بایں جا رسید کہ ہم نے کیکر کے پتے کھا کر وقت پاس کیا، اس لیے اس لشکر کو "کیکر کے پتے کھانے والا لشکر" کہا جاتا ہے۔ پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لیے ایک جانور کنارے پر پھینک دیا اس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر جسموں پر ملا تو ہمارے جسم موٹے اور قوی ہو گئے۔ حضرت ابوعبیدہ ؓ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اسے کھڑا کیا۔ پھر لشکر سے جو طویل تر آدمی تھا اسے نیچے سے گزارا۔ سفیان بن عیینہ نے ایک مرتبہ اس طرح بیان کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:4361]
حدیث حاشیہ:

حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ حضرت قیس بن سعد ؓ نے جب لوگوں کی بھوک دیکھی تو کہنے لگے: کوئی ہے جو مجھے یہاں اونٹ دے دے،میں مدینے پہنچ کر کھجوروں سے اس کی ادائیگی کردوں گا؟ قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے کہا کہ تو کون ہے؟ انھوں نے اپنا نسب بیان کیا تو جہنی نے کہا: میں نے تجھے پہچان لیا ہے، پھرانھوں نے پانچ اونٹ پانچ وسق کھجور کے بدلے خرید لیے، پھر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت نے اس کے لیے گواہی بھی دی لیکن حضرت عمر ؓ نے انھیں روک دیا کیونکہ حضرت قیس بن سعد ؓ کا اپنا کوئی مال نہیں تھا۔
ایک اعرابی نے طعنہ دیا کہ کیا باپ اپنے بیٹے کے لیے چند وسق کھجوروں کی قربانی نہیں دے سکتا؟ یہ طعنہ سن کر ان کے باپ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے انھیں چار باغ ہبہ کردیے۔
ہرایک باغ سے کم از کم پچاس وسق کھجوریں پیدا ہوتی تھیں۔
جب اس مہم سے فارغ ہوکر مدینہ طیبہ آئے اور رسول اللہ ﷺ سے حضرت قیس ؓ کی سخاوت کا ذکر ہوا توآپ نے فرمایا: ’’سخاوت تو اس گھرانے کا طرہ امتیاز ہے۔
‘‘ (فتح الباری: 102/8)

بہرحال اس حدیث میں حضرت قیس بن سعدبن عبادہ ؓ کی فیاضی اوردریا دلی کا بیان ہے جنھوں نے ایسے حالات میں متعدد اونٹ ذبح کرکے لشکر کوکھلائے، بالآخر امیر لشکر نے انھیں منع کردیا کہ کہیں ایس نہ ہواونٹ ختم ہی ہوجائیں اور دوران سفر میں دشواری پیش آئے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4361 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔