مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1244
1244 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، يَقُولُ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَي عُمُومَةٍ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْقِيهِمْ فَضِيخًا لَهُمْ، فَأَتَانَا رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَذْعُورًا، قُلْنَا: مَا وَرَاءَكَ؟ قَالَ: «حُرِّمَتِ الْخَمْرُ» ، فَقَالُوا لِي: أَكْفِهَا يَا أَنَسُ، قَالَ: فَكَفَأْتُهَا فَقَالَ النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ: «هِيَ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے ایک انصاری چچا کے ہاں کھڑا ہوا انہیں شراب پلا رہا تھا اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک شخص گھبرائے ہوئے انداز میں ہمارے پاس آیا ہم نے دریافت کیا: تمہارے پیچھے کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا: شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے، تو ان حضرات نے مجھ سے فرمایا: اے انس! تم اسے بہا دو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے اسے بہا دیا۔ نضر بن انس کہتے ہیں: ان دنوں ان لوگوں کی شراب یہی ہوتی تھی۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1244
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2464 | سنن ترمذي: 1293 | سنن ابي داود: 3673 | سنن نسائي: 5424 | سنن نسائي: 5544 | سنن نسائي: 5545

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1244- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے ایک انصاری چچا کے ہاں کھڑا ہوا انہیں شراب پلا رہا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک شخص گھبرائے ہوئے انداز میں ہمارے پاس آیا ہم نے دریافت کیا: تمہارے پیچھے کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا: شراب کو حرام قراردے دیا گیا ہے، تو ان حضرات نے مجھ سے فرمایا: اے انس! تم اسے بہادو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے اسے بہادیا۔ نضر بن انس کہتے ہیں: ان دنوں ان لوگوں کی شراب یہی ہوتی تھی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1244]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی دوسرے کی خدمت حاصل کر سکتے ہیں، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مل جاتا تھا تو وہ اسی وقت اس پر عمل کرتے تھے، یہی لوگ ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ﴾ [59-الحشر:7] کے مصداق تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2464 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2464. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں حضرت ابو طلحہ ؓ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ اس وقت لوگ کھجور کی شراب استعمال کرتے تھے۔ اس دوران میں رسول اللہ ﷺ نے ایک منادی (اعلان) کرنے والے کو حکم دیا کہ لوگوں میں شراب کی حرمت کا اعلان کردے۔ حضرت ابوطلحہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ باہر نکل کر تمام شراب بہا دو، چنانچہ میں نے باہر نکل کر تمام شراب بہادی تو وہ مدینہ کی گلیوں میں بہہ نکلی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ جو لوگ اس حال میں شہید ہوئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی ان کا کیا حال ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ جو بھی کھاپی چکے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2464]
حدیث حاشیہ: باب کا مطلب حدیث کے لفظ فجرت في سکك المدینة سے نکل رہا ہے۔
معلوم ہوا کہ راستے کی زمین سب لوگوں میں مشترک ہے مگر وہاں شراب وغیرہ بہا دینا درست ہے بشرطیکہ چلنے والوں کو اس سے تکلیف نہ ہو۔
علماءنے کہا ہے کہ راستے میں اتنا بہت پانی بہانا کہ چلنے والوں کو تکلیف ہو منع ہے تو نجاست وغیرہ ڈالنا بطریق اولیٰ منع ہوگا۔
ابوطلحہ ؓ نے شراب کو راستے میں بہا دینے کا حکم ا س لیے دیا ہوگا کہ عام لوگوں کو شراب کی حرمت معلوم ہو جائے۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2464 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2464 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2464. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں حضرت ابو طلحہ ؓ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ اس وقت لوگ کھجور کی شراب استعمال کرتے تھے۔ اس دوران میں رسول اللہ ﷺ نے ایک منادی (اعلان) کرنے والے کو حکم دیا کہ لوگوں میں شراب کی حرمت کا اعلان کردے۔ حضرت ابوطلحہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ باہر نکل کر تمام شراب بہا دو، چنانچہ میں نے باہر نکل کر تمام شراب بہادی تو وہ مدینہ کی گلیوں میں بہہ نکلی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ جو لوگ اس حال میں شہید ہوئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی ان کا کیا حال ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ جو بھی کھاپی چکے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2464]
حدیث حاشیہ:
(1)
شراب راستے میں اس لیے بہائی گئی تاکہ لوگوں میں اسے چھوڑنے کا اعلان ہو جائے۔
اس کا فائدہ اس کی تکلیف سے زیادہ تھا، اس لیے اسے اختیار کیا گیا۔
اگر زمین سخت ہو یا راستہ تنگ ہو تو شراب یا پانی وغیرہ بہانے سے روک دیا جائے تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو اور ان کے قدم نہ پھسلیں۔
مقصد یہ ہے کہ راستہ مشترک ہوتا ہے تو اس قسم کے تصرفات ظلم و زیادتی نہیں ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ گزرنے والوں کو اس سے نقصان نہ ہو اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب زمین اس قسم کے مشروبات اپنے اندر جذب کر لے اور اس سے بدبو نہ پھیلے۔
نفیس طبع لوگ نجاستوں اور بدبو پیدا کرنے والی اشیاء راستے یا گلی میں پھینکنے سے پرہیز کرتے ہیں، اس طرح کوڑا کرکٹ کے لیے کوئی ڈرم یا ٹوکری وغیرہ استعمال کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2464 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1293 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´شراب کی بیع اور اس کی ممانعت کا بیان۔`
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی تھی جو میری پرورش میں ہیں۔ (اس کا کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا: شراب بہا دو اور مٹکے توڑ دو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1293]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس اعتبارسے یہ حدیث انس کی مسانیدمیں سے ہوگی نہ کہ ابوطلحہ کی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1293 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3673 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شراب کی حرمت کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے وقت میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3673]
فوائد ومسائل:
فائدہ: گویا جس شراب کےلئے حرمت کا حتمی حکم نازل ہوا وہ انگو ر کی بنی ہوئی نہ تھی۔
بلکہ کچی کھجور کی بنی ہوتی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3673 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5424 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´فیصلہ کی بنیاد پر حاصل ہونے مال کی شرعی حقیقت کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، حالانکہ میں ایک انسان ہوں، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے دلیل دینے میں چرب زبان ہو۔ میں تو صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں، اب اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو گویا میں اس کو جہنم کا ٹکڑا دلا رہا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5424]
اردو حاشہ: قاضی کا فیصلہ حرام کو حلال نہیں کر سکتا۔ جمہور اہل علم کا یہی مسلک ہے۔ احناف اس روایت کو اموال کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں گویا عقود‘ مثلا: بیع‘ نکاح‘ طلاق وغیرہ قاضی کے فیصلے سے مفقود ہو جائیں گے لیکن یہ بات بلا دلیل ہے۔ عقود کے لیے فریقین کی رضا مندی ضروری ہے نہ کہ قاضی کا فیصلہ (مزید دیکھیے حدیث:5403)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5424 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔