1244 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، يَقُولُ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَي عُمُومَةٍ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْقِيهِمْ فَضِيخًا لَهُمْ، فَأَتَانَا رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَذْعُورًا، قُلْنَا: مَا وَرَاءَكَ؟ قَالَ: «حُرِّمَتِ الْخَمْرُ» ، فَقَالُوا لِي: أَكْفِهَا يَا أَنَسُ، قَالَ: فَكَفَأْتُهَا فَقَالَ النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ: «هِيَ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے ایک انصاری چچا کے ہاں کھڑا ہوا انہیں شراب پلا رہا تھا اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک شخص گھبرائے ہوئے انداز میں ہمارے پاس آیا ہم نے دریافت کیا: تمہارے پیچھے کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا: شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے، تو ان حضرات نے مجھ سے فرمایا: اے انس! تم اسے بہا دو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے اسے بہا دیا۔ نضر بن انس کہتے ہیں: ان دنوں ان لوگوں کی شراب یہی ہوتی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی دوسرے کی خدمت حاصل کر سکتے ہیں، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مل جاتا تھا تو وہ اسی وقت اس پر عمل کرتے تھے، یہی لوگ ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ﴾ [59-الحشر:7] کے مصداق تھے۔
معلوم ہوا کہ راستے کی زمین سب لوگوں میں مشترک ہے مگر وہاں شراب وغیرہ بہا دینا درست ہے بشرطیکہ چلنے والوں کو اس سے تکلیف نہ ہو۔
علماءنے کہا ہے کہ راستے میں اتنا بہت پانی بہانا کہ چلنے والوں کو تکلیف ہو منع ہے تو نجاست وغیرہ ڈالنا بطریق اولیٰ منع ہوگا۔
ابوطلحہ ؓ نے شراب کو راستے میں بہا دینے کا حکم ا س لیے دیا ہوگا کہ عام لوگوں کو شراب کی حرمت معلوم ہو جائے۔
(وحیدی)
(1)
شراب راستے میں اس لیے بہائی گئی تاکہ لوگوں میں اسے چھوڑنے کا اعلان ہو جائے۔
اس کا فائدہ اس کی تکلیف سے زیادہ تھا، اس لیے اسے اختیار کیا گیا۔
اگر زمین سخت ہو یا راستہ تنگ ہو تو شراب یا پانی وغیرہ بہانے سے روک دیا جائے تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو اور ان کے قدم نہ پھسلیں۔
مقصد یہ ہے کہ راستہ مشترک ہوتا ہے تو اس قسم کے تصرفات ظلم و زیادتی نہیں ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ گزرنے والوں کو اس سے نقصان نہ ہو اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب زمین اس قسم کے مشروبات اپنے اندر جذب کر لے اور اس سے بدبو نہ پھیلے۔
نفیس طبع لوگ نجاستوں اور بدبو پیدا کرنے والی اشیاء راستے یا گلی میں پھینکنے سے پرہیز کرتے ہیں، اس طرح کوڑا کرکٹ کے لیے کوئی ڈرم یا ٹوکری وغیرہ استعمال کرنی چاہیے۔
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی تھی جو میری پرورش میں ہیں۔ (اس کا کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا: ” شراب بہا دو اور مٹکے توڑ دو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1293]
وضاحت:
1؎:
اس اعتبارسے یہ حدیث انس کی مسانیدمیں سے ہوگی نہ کہ ابوطلحہ کی۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے وقت میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3673]
فائدہ: گویا جس شراب کےلئے حرمت کا حتمی حکم نازل ہوا وہ انگو ر کی بنی ہوئی نہ تھی۔
بلکہ کچی کھجور کی بنی ہوتی تھی۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، حالانکہ میں ایک انسان ہوں، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے دلیل دینے میں چرب زبان ہو۔ میں تو صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں، اب اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو گویا میں اس کو جہنم کا ٹکڑا دلا رہا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5424]