1239 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ» ، فَأَعَادَهَا أَنَسٌ، فَقَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ قَالَ سُفْيَانُ: " فَسَّرَتْهُ الْعُلَمَاءُ: حَالَفَ: آخَي "سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے: ”اسلام میں حلف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ روایت دوبارہ بیان کی اور بولے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین اور انصار کے درمیان حلف (ایک دوسرے کا حلیف ہونا) قائم کیا تھا۔ سفیان کہتے ہیں: علماء نے اس کی وضاحت یہ کی ہے، بھائی چارہ قائم کیا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
زمانہ جاہلیت میں کسی کو بھی حلیف بنا لیا جاتا تھا، ہماری شریعت نے اس سے منع فرما دیا ہے، کیونکہ جب کوئی کسی کا حلیف بن جا تا ہے تو وہ وراثت کا بھی حق دار بن جاتا ہے، جبکہ مواخاۃ میں ایسی چیز نہیں ہوتی، اس کے علاوہ حدیث میں وضاحت ہے کہ زمانہ جاہلیت کے حلف کا اسلام کی حالت میں بھی اعتبار کیا جائے گا، اگر کسی نے زمانہ جاہلیت میں کسی کو اپنی وراثت کا حق دار بنایا تھا، پھر وہ دونوں مسلمان ہو گئے، تو ان کے زمانہ جاہلیت کے حلف کا اعتبار کرتے ہوئے اس کو دی ہوئی وراثت اس کے پاس رہے گی۔
اسلام میں عقد حلف نہیں ہے کیونکہ اس عقد سے باہمی اتفاق کی صورت مطلوب ہوتی ہے اور اسلام نے تمام مسلمانوں کو جمع اور یکجا کر دیا ہے اور ان کے دل جوڑ دیے ہیں، اب عقد حلف کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عقد حلف کا وجود ہے، بہرحال جس عقد حلف کی نفی ہے اس سے مراد دور جاہلیت کا عہد ہے جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنتے تھے، اسلام نے اسے ختم کر دیا ہے، اور جس عقد حلف کا اس حدیث میں ذکر ہے اس سے مراد سلسلۂ مؤاخات ہے اور باہمی تعاون کے لیے عقد حلف کا جواز ہے۔
اسلامی اخوت اور بھائی چارے کا عقد حلف اب بھی موجود ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسلام نے غیر شرعی حلف عقد کو ختم کیا ہے اور وہ حلف اور عہد جائز ہے کیونکہ اسلامی اخوت اور مظلوم کی مدد کرنا وغیرہ اسلام میں پسندیدہ امر ہے، لہذا یہ منسوخ نہیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 617/10)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا، تو ان (یعنی انس) سے کہا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا ہے کہ اسلام میں حلف (عہد و پیمان) نہیں ہے؟ تو انہوں نے دو یا تین بار زور دے کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح مل کر رہیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2926]
اہل اسلام وایمان (وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى) کی بنیاد پر جو عہد معاہدہ کر لیں جائز ہے۔
مگر جاہلیت کی طرح معاہدے جو محض عصبیت پر طے ہوتے تھے، ان کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
نبیﷺ کے فرمان: ’’اسلام میں حلف نہیں‘‘ کا مطلب بھی یہی ہے۔