1216 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنِي عَلَي خِدْمَتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ لَنَا دَاجِنٍ، وَشِيبَ لَهُ بِمَاءٍ فِي بِئْرٍ فِي الدَّارِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، وَعُمَرُ نَاحِيتَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَاوِلْ أَبَا بَكْرٍ، فَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: «الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے میں اس وقت دس سال کا لڑکا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس وقت میں 20 سال کا لڑکا تھا میری امی اور خالائیں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں پھر ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں گھر تشریف لائے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی پالتو بکری کا دودھ دوہ لیا اور اس میں گھر میں موجود کنویں کا پانی ملا دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک دیہاتی تھا، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک کونے میں تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! (دیہاتی سے پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (اپنا بچا ہوا دودھ دیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دیہاتی کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”پہلے دائیں طرف والوں کا حق ہوتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دائیں طرف والے کو بائیں طرف والے پر ترجیح دینی چاہیے، جب انسان بیٹھے تو ہر جگہ دائیں طرف بیٹھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اسلام میں حق کے مقابلہ پر کسی کے لیے رعایت نہیں ہے۔
کوئی کتنی ہی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو۔
حق اس سے بھی بڑا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بزرگی میں کس کو شک ہو سکتا ہے مگر آنحضرت ﷺ نے آپ کو نظر انداز فرما کر دیہاتی کو وہ پانی دیا اس لیے کہ قانون دیہاتی ہی کے حق میں تھا۔
امام عادل کی یہی شان ہونی چاہئیے۔
اور ﴿اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾ (المائدة: 8)
کا بھی یہی مطلب ہے۔
یہاں اس دیہاتی سے اجازت بھی نہیں لی گئی جیسے کہ ابن عباس ؓ سے لی گی تھی۔
اس ڈر سے کہ کہیں دیہاتی بد دل نہ ہوجائے۔
(1)
حدیث میں ہے کہ تمام مسلمان نمک، گھاس اور پانی میں شریک ہیں۔
(سنن ابن ماجة، الرھون، حدیث: 2472)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ پانی میں کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کی تردید فرمائی اور ثابت کیا کہ پانی میں ملکیت جاری ہوتی ہے اور اس کا صدقہ کرنا یا ہبہ کرنا جائز ہے جیسا کہ حدیث بالا سے واضح ہے۔
مسلمان پانی، گھاس اور نمک میں شریک ہیں، اس کا مطلب شرکت ملک نہیں بلکہ شرکت اباحت ہے، یعنی ان میں اجارہ داری نہیں کوئی بھی پہلے جا کر اسے استعمال کر سکتا ہے، اپنے برتن میں ڈال سکتا ہے، اپنے مویشیوں کے لیے کاٹ سکتا ہے۔
(عمدة القاري: 52/9) (2)
رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر اعرابی کے حق کو مقدم رکھا اور یہی ہونا چاہیے تھا۔
اگر آپ حضرت عمر ؓ کا مشورہ قبول کر لیتے تو اس سے یہ اصول بن جاتا کہ بڑوں کے ہوتے ہوئے چھوٹوں کا حق نہیں رہتا لیکن دین اسلام میں حق کے مقابلے میں کسی کے لیے رعایت نہیں۔
کوئی کتنا بڑا ہو، حق اس سے بھی بڑا ہے، اگر وہ کسی چھوٹے کو پہنچتا ہے تو بڑوں کا فرض ہے کہ اسے فراخ دلی سے منتقل ہونے دیں، لیکن اس دور میں اس قسم کا ایثار کرنا بہت کم ہے۔
شریعت اسلامیہ اس بارے میں تنگ نظر نہیں ہے، اس نے ایسے مواقع کے لیے ہر ممکن سہولتیں دی ہیں جو معیوب نہیں ہیں۔
مثلاً اپنے دوست احباب سے پانی پلانے کی فرمائش کرنا جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت انس ؓ کے یہاں تشریف لاکر پانی طلب فرمایا۔
حضرت انس ؓ بھی مزاج رسالت کے قدر داں تھے۔
انہوں نے پانی اور دودھ ملاکر لسی بناکر پیش کردیا۔
آداب مجلس کا یہاں دوسرا واقعہ وہ پیش آیا جو روایت میں مذکور ہے۔
حضرت انس ؓ نے سنت رسول ﷺ کے اظہار اور اس کی اہمیت بتلانے کے لیے تین بار یہ لفظ دہرائے۔
واقعہ یہی ہے کہ سنت رسول ﷺ کی بڑی اہمیت ہے خواہ وہ سنت کتنی ہی چھوٹی کیو ں نہ ہو۔
فدائیان رسول ﷺ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت ہر کام میں سنت رسول ﷺ کو سامنے رکھیں، اسی میں دارین کی بھلائی ہے۔
حضرت عمر فاروق ؓ نے ازخود آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کا بچا ہوا تبرک ابوبکر ؓ کا حق ہے انہیں ملنا چاہیے، نیز عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس ؓ کے گھر تشریف لا کر ازخود پانی پینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
بہرحال ہر انسان کے لیے اس کی زندگی میں دوست احباب کے ساتھ بے تکلفی کے بہت سے مواقع آتے ہیں۔
شریعت اسلامیہ اس کے متعلق تنگ نظر نہیں ہے۔
ایسے مواقع پر دین اسلام نے ہمیں ہر ممکن سہولت دی ہے جو معیوب نہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس ؓ سے پانی طلب کیا۔
چونکہ حضرت انس ؓ آپ کے مزاج شناس تھے، انہوں نے دودھ میں پانی ملا کر آپ کے حضور پیش کیا تو آپ نے نوش فرمایا۔
(1)
دودھ جب نکالا جاتا ہے تو گرم ہوتا ہے۔
گرم علاقوں میں اس کی گرمی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، اس لیے عرب لوگ اس کی گرمی کا توڑ ٹھنڈے پانی سے کیا کرتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو آپ نے پینے کے لیے پانی طلب فرمایا تو ہم نے اپنی بکری کا دودھ دوہا اور اس میں کنویں کا پانی ملا کر آپ کو پیش کیا۔
(صحیح البخاري، الھبة و فضلھا و التحریض علیھا، حدیث: 2571) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانا کھلاتے یا کوئی مشروب پلاتے وقت دائیں طرف سے شروع کرنا چاہیے، خواہ بائیں جانب بڑے بڑے بزرگ ہی تشریف فرما کیوں نہ ہوں۔
واللہ أعلم
(1)
اگر لوگ کسی کے آگے یا پیچھے بیٹھے ہوں یا بائیں جانب بیٹھے ہوں تو بڑے کو ترجیح ہو گی، یعنی پینے پلانے کا آغاز بڑے آدمی سے ہو گا۔
اگر دائیں بائیں بیٹھے ہوں تو دائیں جانب والوں کو ترجیح ہو گی، پھر بڑے چھوٹے کا خیال نہیں رکھا جائے گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں جانب بہت پسند تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسندیدہ کام دائیں جانب سے شروع کرتے تھے۔
بہرحال مساویانہ حیثیت کے وقت دائیں جانب کو مقدم کیا جائے گا۔
واللہ أعلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دے دیا اور فرمایا: ” دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3726]
فائدہ: ان دونوں حدیثوں سے واضح ہوا کہ ساقی خود آخر میں پیے۔
اور جسے مجلس میں دودھ وغیرہ پیش کیا جائے۔
وہ اوروں کی طرف بڑھائے۔
تو دایئں والے کو دے اور پھر اسی طرح آگے پیش کیا جائے۔
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بلبن قد شيب بماء وعن يمينه اعرابي وعن يساره ابو بكر الصديق، فشرب ثم اعطى الاعرابي وقال: ”الايمن فالايمن.“»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں (کنویں کا) پانی ملایا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک اعرابی (دیہاتی) اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دودھ) پیا پھر (باقی دودھ) اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: ”دایاں (مقدم ہے) پھر (جو اس کے بعد) دایاں ہو۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 471]
[الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 926/2 ح 787، ك 49 ح 17، التمهيد 151/6، الاستذكار: 1720، أخرجه البخاري 5619، ومسلم 2029، من حديث مالك به]
تفقہ:
➊ اپنے پینے کے لئے دودھ میں پانی ڈالنا جائز ہے لیکن اسے خالص دودھ کے نام پر بیچنا جائز نہیں ہے۔
➋ دوسروں کو پلانے والا پہلے خود پی سکتا ہے۔
➌ کھانے پینے کی چیزیں اگر دوسروں کو تحفتاً دی جائیں تو دائیں طرف سے ابتدأ کرنا چاہئے۔
➍ تحفہ قبول کرنا مسنون ہے بشرطیکہ کوئی شرعی عذر مانع نہ ہو۔
➎ دودھ پینا مسنون اور صحت و توانائی کے لئے بہترین غذا ہے۔