1208 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَلَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، فَقَالَ: لَأُطِيفَنَّ اللَّيْلَةَ بِسَبْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَجِيءُ بِغُلَامٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ، أَوْ قَالَ لَهُ الْمَلَكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَنَسِيَ فَأَطَافَ بِسَبْعِينَ امْرَأَةً، فَلَمْ تَجِئْ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ بِشَيْءٍ إِلَّا وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ غُلَامٍ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمَا حَنَثَ، وَلَكَانَ دَرَكًا فِي حَاجَتِهِ "سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سیدنا سلیمان علیہ السلام نے قسم اٹھاتے ہوئے یہ کہا: آج رات میں اپنی ستر (70) بیویوں کے ساتھ صحبت کروں گا اور وہ سب لڑکوں کو جنم دیں گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے ان کے ساتھی نے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) فرشتے نے ان سے کہا: آپ ان شاء اللہ کہہ دیجئے! لیکن انہیں خیال نہیں رہا اور انہوں نے اپنی ستر (70) بیویوں کے ساتھ صحبت کی، تو ان میں صرف ایک کے ہاں بچہ پیدا ہوا، جو نا مکمل تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ان شاء اللہ کہہ دیتے تو ان کی قسم نہ ٹوٹتی اور وہ اپنا مقصد بھی حاصل کر لیتے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ہر کام کے ساتھ ان شاءاللہ کہنے کی فرضیت ثابت ہوتی ہے، اگر کوئی نبی کسی کام کا ارادہ کرتا ہے اور اس ارادے کو عملی جامہ بھی پہنا تا ہے لیکن ان شاء اللہ نہیں کہتا تو اس نبی کا کام بھی نہیں ہوتا، چہ جائیکہ کوئی عام انسان کسی کام کا ارادہ کرے اور اس کے ساتھ ان شاء اللہ نہ کہے۔
نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نیت اور کام کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں، اس کے ساتھ ان شاءاللہ ضرور کہنا چاہیے، اگر کوئی آدمی ان شاء اللہ کہنا بھول جائے تو دوسرے کو اسے یاد کرا دینا چاہیے
۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام مشکل کشا نہیں ہوتے مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، انبیاء علیہم السلام میں عام انسانوں سے چالیس گنا زیادہ طاقت ہوتی ہے۔
انسان کے اپنی اولاد کے بارے میں اچھے جذبات ہونے چاہئیں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اولاد دے گا تو وہ مجاہد بنے گی، یا محدث محقق، امام کعبہ، پوری دنیا پر اسلام کو غالب کرے گی، اے اللہ! ہماری اولاد کو ایسا ہی کرنا، آمین۔
اس حدیث میں حنث سے مراد قسم ٹوٹنا نہیں بلکہ عدم وقوع ہے، یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو ارادہ کیا تھا وہ پورا نہ ہوا اور ''لم يحنث'' کے معنی یہ ہیں کہ اگر سلیمان علیہ السلام ان شاءاللہ کہہ لیتے تو اس طرح ہوتا جیسا کہ انہوں نے ارادہ کیا تھا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن منیر کے حوالے سے لکھا ہے: ’’امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر عام حالات و واقعات میں ان شاءاللہ کہا جا سکتا ہے تو ایسی خبریں جنہیں قسم سے پختہ کر دیا گیا ہو ان میں ان شاءاللہ کہنا کیوں جائز نہیں، یعنی قسم میں ان شاءاللہ کہنے کی مشروعیت بیان کرنا ہے۔
(فتح الباري: 738/11)
اگر سلیمان ؑ مشیت الہی کا سہارا لیتے تو اللہ ضرور ان کی منشا پوری کرتا، مگر اللہ کو یہ منظور نہ تھا اس لیے وہ ان شاء اللہ کہنا بھی بھول گئے۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب اپنے عزم کا اظہار کیا تو ان کے ساتھی نے کہا: ان شاء اللہ کہہ دیں لیکن اس یاد دہانی کے باوجود انھوں نے ان شاء اللہ نہ کہا۔
(صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث: 2819)
دوسری روایت میں ہے کہ فرشتے نے ان شاء اللہ کہنے کی یاد دہانی کرائی لیکن انھوں نے یہ کلمہ نہ کہا بلکہ بھول گئے۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5242)
دراصل انھیں اپنے آپ پر اس قدر خود اعتمادی تھی اور ظاہری اسباب پر بھروسا تھا کہ یاد دہانی کے باوجود اس پر عمل نہ کر سکے انھیں اپنی مراد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو جس قدر بھی اسباب مہیا ہوں اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا سہارا ضرور لینا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر کوئی کام بھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔
اگر حضرت سلیمان علیہ السلام مشیت الٰہی کا سہارا لیتے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی منشا پوری کرتا مگر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا اس لیے یاد دہانی کے باوجود وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے۔
2۔
اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔
’’کسی چیز کے متعلق یہ کبھی نہ کہیں کہ میں یہ ضرور کروں گا الا یہ کہ اللہ چاہے۔
‘‘ (الکھف18۔
23)
مطلب یہ ہے کہ ہر کام اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہی ہوتا ہے لہٰذا اس قاعدے کو ہر وقت کو ہرملحوظ رکھنا چاہیے کیونکہ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ وہ فلاں وقت کام کر سکے گا یا نہیں اور نہ کوئی اپنے افعال میں خود مختار ہی ہے کہ جو چاہے کر سکے لہٰذا کوئی شخص خواہ پورے صدق دل اور سچی نیت سے بھی کوئی وعدہ یا مستقبل سے متعلق کوئی بات کرے تو اسے ان شاء اللہ ضرور کہہ لینا چاہیے مگر افسوس کہ کچھ بد نیت قسم کے لوگوں نے ان شاء اللہ کو اپنی بدینتی پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے۔
ان کے دل میں یہ بات ہوتی ہے کہ اپنا کام چلائیں بعد میں جو ہوگا دیکھا جائے گا۔
ان لوگوں نے اس بابرکت کلمے کو اس قدر بد نام کردیا ہے کہ جب کوئی اپنے وعدےکے ساتھ ان شاء اللہ کہتا ہے تو سننے والا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس کی نیت میں فتور ہے ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ بدترین قسم کا مذاق ہے جس کا ایمان دار آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔
1۔
قرآن کریم میں ہے کہ ہم نے حضرت سلیمان ؑ کو آزمائش میں ڈالا اور اس کے تخت پر ایک جسد لاکرڈال دیا۔
(ص: 34)
کچھ لوگوں نے اس آیت کی تفسیر مذکورہ بالا حدیث سے کی ہے، حالانکہ اس حدیث کاآیت کریمہ سے کوئی تعلق نہیں جس کی درج ذیل وجوہات ہیں:۔
یہ حدیث صحیح بخاری کے علاوہ دیگرکتب حدیث میں بھی ہے لیکن کسی محدث نے اس حدیث کو مذکورہ آیت کی تفسیر میں بیان نہیں کیا۔
۔
خود امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو متعدد مقامات پر ذکر کیا ہے لیکن انھوں نے بھی اسے کتاب التفسیر میں بیان نہیں کیا۔
۔
کسی حدیث میں یہ اشارہ تک نہیں کہ یہ ادھورا بچہ کسی نے حضرت سلیمان ؑ کےتخت پر کرسی پر لاکرڈال دیاہو۔
یہ مفسرین کا اپنی طرف سے اضافہ ہے۔
یہ بات یقینی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کی آزمائش کا تعلق اسی بات سے ہے۔
اب اس بے جان دھڑسے کیا مراد ہے؟ اس کے متعلق کوئی معقول توجیہ ہمیں ابھی تک دستیاب نہیں ہوسکی، البتہ مفسرین کی بےسروپا اور غیر معقول باتوں سے ہمیں اتفاق نہیں ہے، جو انھوں نے حضرت سلیمان ؑ کی طرف منسوب کی ہیں۔
باعث تعجب ہے کہ حافظ ابن حجر ؒ جیسے ثقہ محدث نے بھی انھیں نقل کرکے خاموشی اختیار کی ہے۔
2۔
روایات میں حضرت سلیمان ؑ کی بیویوں کی تعداد مختلف بیان ہوئی ہے۔
جمع کی صورت یہ ہے کہ بیویاں ساٹھ تھیں اور ان سے زائد عورتیں لونڈیاں تھیں۔
واللہ أعلم۔
یعنی لفظ لم یحنث کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مراد کے خلاف نہ ہوتا۔
ابن تین نے کہا کہ حنث قسم سے ہوتی ہے لہٰذا احتمال ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس امر پر قسم کھائی ہو یا ان کا جملہ لأطوفن اللیلة ہی قسم کی جگہ ہے جو ان شاءاللہ نہ کہنے سے پوری نہ ہوگی۔
(1)
مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاں ایک ہزار عورت تھی جن میں تین سوعورتیں آزاد اور سات سو باندیاں تھیں۔
چونکہ ایک عدد دوسرے عدد کے منافی نہیں ہوتا، اس لیے روایات میں تعداد کے متعلق تضاد نہیں ہے۔
(2)
اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء علیہ السلام کو مردمی قوت بہت دی ہوئی تھی، اس لیے ان کا اتنی عورتوں سے ملاپ کرنا خلاف عقل نہیں ہے۔
ہاں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ بیویوں کی تعداد آزاد اور لونڈیوں کو ملا کر نوے سے زائد اور سو سے کم تھی، بعض راویوں نے صرف آزاد بیویوں کا تذکرہ کیا، تو تعداد کم بیان کی اور بعض نے آزاد اور لونڈیوں کو ملایا، اور نوے سے زائد کو نظرانداز کر کے ان کی تعداد نوے بیان کر دی، اور بعض نے کمی کو پورا کرتے ہوئے سو (100)
کر دیا اور ہر بیوی کے حاملہ ہونے کی خواہش اور آرزو کا اظہار کرتے وقت، فرشتہ کے یاد دلانے کے باوجود، ان کے مجاہد فی سبیل اللہ ہونے کی تمنا کی، ان شاءاللہ کہنا بھول گئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا، وگرنہ اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے، تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق، اللہ کے ہاں ان کی یہ آرزو اور تمنا شرف قبولیت حاصل کر لیتی اور ہر بیوی جوان شہسوار جنتی، اور یہ بات آپ نے اللہ تعالیٰ کے بتانے کی بنا پر بتائی، وگرنہ یہ لازم نہیں ہے کہ جس آرزو اور خواہش کے ساتھ انسان ان شاءاللہ کہہ لے وہ آرزو و ضرور پوری ہو گی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ﴿سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّـهُ صَابِرًا﴾ کہا تھا، لیکن اس کے باوجود خضر علیہ السلام نے کہا، ﴿ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا﴾ یہ اس معاملہ کی حقیقت ہے، جس پر آپ صبر نہیں کر سکے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سلیمان بن داود علیہ السلام نے (قسم کھا کر) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: " ان شاءاللہ " (اگر اللہ نے چاہا) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3862]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سلیمان علیہ السلام نے کہا: آج رات میں نوے (۹۰) عورتوں (بیویوں) کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان سے کہا گیا: آپ ان شاءاللہ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان علیہ السلام اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا "، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اگر انہوں نے " ان [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3887]