حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1194
1194 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الْعَزِيزِ مُوسَي بْنَ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيَّ يُحَدَّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ "اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص اپنے بھائی سے یہ کہے: اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے، تو اس نے تعریف میں مبالغہ کر دیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1194- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب کوئی شخص اپنے بھائی سے یہ کہے: اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیردے، تو اس نے تعریف میں مبالغہ کردیا۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1194]
فائدہ:
اس حدیث میں " جزاک اللہ " کہنے کی فضلیت بیان ہوئی ہے، زندگی میں ہر انسان کسی دوسرے کا محتاج ہے، تو جب بھی کوئی نیکی کرے تو جواب میں "جزاک اللہ " کہنا چاہیے، اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے اور اس کلمے سے کسی کے سامنے نیکی کے امور پر مدح کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔ ہاں وہ تعریف جس میں مبالغہ ہو، مطلقاً حرام ہے، خواہ جس کی تعریف کی جا رہی ہے، وہ موجود ہو یا نہ موجود ہو
اس حدیث میں " جزاک اللہ " کہنے کی فضلیت بیان ہوئی ہے، زندگی میں ہر انسان کسی دوسرے کا محتاج ہے، تو جب بھی کوئی نیکی کرے تو جواب میں "جزاک اللہ " کہنا چاہیے، اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے اور اس کلمے سے کسی کے سامنے نیکی کے امور پر مدح کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔ ہاں وہ تعریف جس میں مبالغہ ہو، مطلقاً حرام ہے، خواہ جس کی تعریف کی جا رہی ہے، وہ موجود ہو یا نہ موجود ہو
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1192 سے ماخوذ ہے۔