حدیث نمبر: 1181
1181 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ آبَاطَ الْمَطِيِّ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَلَا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب وہ وقت آئے گا جب لوگ علم کے حصول کے لیے اونٹوں کے جگر پگھلا دیں گے لیکن انہیں کوئی ایسا عالم نہیں ملے گا جو مدینہ کے عالم سے زیادہ علم رکھتا ہو۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1181
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3736، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 306، 307، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4277، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2680، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1842، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8095، والبزار فى «مسنده» برقم: 8925، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4016، 4017، 4018»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2680 | مشكوة المصابيح: 246

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1181- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: عنقریب وہ وقت آئے گا جب لوگ علم کے حصول کے لیے اونٹوں کے جگر پگھلادیں گے لیکن انہیں کوئی ایسا عالم نہیں ملے گا جو مدینہ کے عالم سے زیادہ علم رکھتا ہو۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1181]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علم قیامت تک چلتا رہے گا، اور علم کے طالب دور دراز کا سفر کرتے رہیں گے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مدینہ منورہ علم کا سر چشمہ تھا، ہے اور رہے گا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1179 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2680 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عالم مدینہ کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ لوگ علم کی تلاش میں کثرت سے لمبے لمبے سفر طے کریں گے، لیکن (کہیں بھی) انہیں مدینہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2680]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ابن جریج اور ابوالزبیر مدلس ہیں، اورروایت عنعنہ سے ہے، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس کا ایک شاہد مروی ہے، مگر اس میں زہر بن محمد کثیر الغلط، اور سعید بن ابی ہند مدلس ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2680 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 246 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´حصول علم کی ترغیب`
«. . . ‏‏‏‏وَعَن أبي هُرَيْرَة رِوَايَةً: «يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ فَلَا يَجِدُونَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَالم الْمَدِينَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ فِي جَامِعِهِ. قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: إِنَّهُ مَالِكُ بْنُ أنس وَمثله عَن عبد الرَّزَّاق قَالَ اسحق بْنُ مُوسَى: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: هُوَ الْعُمَرِيُّ الزَّاهِدُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عبد الله . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (فرماتے ہیں) قریب ہے وہ زمانہ کہ لوگ علم حاصل کرنے کے لئے اونٹوں کے جگروں کو ماریں گے، یعنی اونٹوں کو نہایت تیزی کے ساتھ سفروں میں چلائیں گے اور علم حاصل کرنے کے لئے دور دراز ملکوں کا سفر کریں گے مگر مدینہ کے عالم سے کسی بڑے عالم کو کہیں نہیں پائیں گے۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے، ابن عیینہ اور عبدالرزاق نے کہا ہے کہ مدینے کے بڑے عالم سے مراد امام مالک بن انس ہیں، اور اسحاق بن موسی کا بیان ہے کہ میں نے ابن عیینہ سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ عالم مدینہ سے عمری زاہد مراد ہیں یعنی عمر کے خاندان سے جن کا نام حضرت عبدالعزیز بن عبداللہ ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 246]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ اس میں ابن جریج اور ابوالزبیر المکی دونوں مدلس ہیں اور روایت «عن» سے ہے، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
[الانتقاء لابن عبدالبر ص20] میں اس کا ایک منقطع (یعنی ضعیف) شاہد بھی ہے۔

فائدہ:
جب یہ روایت ضعیف ہے تو پھر یہ کہنا کہ اس سے مراد فلاں ہیں یا فلاں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
◄ یہ بالکل برحق ہے کہ امام مالک بہت بڑے ثقہ امام تھے اور عبدالعزیز بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر العمری بھی ثقہ تھے، لیکن پہلے حدیث کا صحیح ہونا ضروری ہے، اس کے بعد ہی فقہ الحدیث پر غور ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 246 سے ماخوذ ہے۔