حدیث نمبر: 1141
1141 - قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ أَيْضًا، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1141
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث « إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2827، 4239، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2724، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 3992، 13041، 13042، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1140، 1141، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2908، 2909»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2724 | مسند الحميدي: 1140

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2724 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جو شخص مال غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ اس وقت آیا جب خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے بھی حصہ دیجئیے ۱؎ تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا: اللہ کے رسول! اسے حصہ نہ دیجئیے، تو میں نے کہا: ابن قوقل کا قاتل یہی ہے، تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تعجب ہے ایک وبر پر جو ہمارے پاس ضال کی چوٹی سے اتر کر آیا ہے مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جسے اللہ نے میرے ہاتھوں عزت دی اور اس کے ہاتھ سے مجھ کو ذلیل نہیں کیا ۲؎۔ ابودا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2724]
فوائد ومسائل:

جولوگ معرکے میں کسی طرح شریک نہ ہوں۔
ان کا غنیمت میں باقاعدہ حصہ نہیں ہوتا۔
البتہ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں۔
کہ جولوگ غنیمت جمع کرلئے جانے کے بعد لشکراسلام سے جا ملیں اور غنیمت تقسیم نہ ہوئی ہو تو انھیں بھی اس میں سے حصہ ملے گا۔


ابن قوقل (نعمان بن قوقلرضی اللہ تعالیٰ عنہ) انصاری صحابی تھے۔
جو غزوہ احد میں ابان بن سعید کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے۔
جب کہ ابان حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے ہیں۔
اورغزوہ خیبر حدیبیہ کے بعد ہوا ہے۔


پہلی روایت میں ہے کہ ابان بن سعید نے غنیمت کا مطالبہ کیا تھا۔
تو ابو ہریرہرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار کیا تھا۔
اور دوسری میں ہے کہ ابو ہریرہرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال کیا تو ابان نے انکار کیا۔
حافظ منذری نے بحوالہ ابو بکر الخطیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوسری روایت کو راحج کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2724 سے ماخوذ ہے۔