1136 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، وَسَمِعْنَاهُ مِنْهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَحَظَ إِلَيْهِ، قَالَ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَي أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: " أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ؟ "، قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ مسجد میں شعر سنا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات پر انہیں ڈانٹا، تو وہ بولے: میں نے اس مسجد میں اس وقت شعر سنائے، جب اس مسجد میں وہ ہستی موجود تھی جو آپ سے زیادہ بہتر ہے۔ پھر وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: میں آپ کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میری طرف سے کفار کو شعر میں جواب دو۔ اے اللہ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کر۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کی قسم! جی ہاں۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسجد وغیرہ میں اچھے اشعار، جو قرآن و حدیث کے موافق ہوں، پڑھنے درست ہیں، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن و حدیث کا دفاع کرنا فرض ہے، اور جو دفاع قرآن و حدیث پر کام کرتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا «الـلـهـم أيده بروح القدس» کا مصداق ہے۔ اے اللہ! راقم کو بھی اس دعا کا مصداق کرنا، آمین۔
سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گھور کر دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں شعر پڑھتا تھا حالانکہ اس (مسجد) میں آپ سے بہتر شخص (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) موجود ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5013]
1۔
مسجد میں دین اور اخلاقی موضوعات پر مشتمل اشعار کا پڑھنا جائز ہے۔
2۔
مگر یہ حقیقت بھی برمحل ہے۔
کہ شرعی مزاج شعروشاعری سے کوئی زیادہ مناسبت نہیں رکھتا۔
اسی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شعر پڑھنے کو ناپسنددیدگی کی نظر سے دیکھا۔
3۔
رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں کسی بڑے سے بڑے صالح متقی اور مصلح کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔
4۔
کسی صاحب فضل سے اگر کہیں فکر وعمل میں اختلافی صورت در پیش ہو تو اس کا جواب نہایت ادب واخلاق اور دلیل سے دیا جانا چاہیے۔
5۔
کوئی ادنیٰ اگر شرعی دلیل وحجت میں قوی ہو تو اس کے قبول کرلینے میں کسی بھی صاحب فضل کو عارنہیں ہونی چاہیے۔