حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1131
1131 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّي تُقَاتِلُوا قَوْمًا وُجُوهُهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّي تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے جن کے چہرے ان ڈھالوں کی مانند ہیں جن پر چمڑا لگایا جاتا ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے جن کے جوتے بالوں سے بنے ہوتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1131- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے جن کے چہرے ان ڈھالوں کی مانند ہیں جن پر چمڑا لگایا جاتا ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے جن کے جوتے بالوں سے بنے ہوتے ہیں۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1131]
فائدہ:
اس حدیث میں ایک پیشینگوئی کا ذکر ہے، جو پوری ہوئی، اس حدیث میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنھوں نے حرام چیزوں کو حلال قرار دے دیا تھا، انھیں معتصم کے دور میں طبرستان اور رَیْ کے علاقے میں قتل کیا گیا، یہ 201 ھ کا واقعہ ہے، یا اس کے پہلے گا۔ (فتح الباری: 19 / 147)
اس حدیث میں ایک پیشینگوئی کا ذکر ہے، جو پوری ہوئی، اس حدیث میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنھوں نے حرام چیزوں کو حلال قرار دے دیا تھا، انھیں معتصم کے دور میں طبرستان اور رَیْ کے علاقے میں قتل کیا گیا، یہ 201 ھ کا واقعہ ہے، یا اس کے پہلے گا۔ (فتح الباری: 19 / 147)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1131 سے ماخوذ ہے۔