حدیث کتب ›
حدیث نمبر: 1124
1124 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَيَحْيَي بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعَي الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو غلام دو آمیوں کی مشترکہ ملکیت ہوا اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے کو آزاد کرے، تو اگر وہ خوشحال ہو، تو غلام کی قیمت کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی۔ اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو، تو غلام سے مزدوری کروائی جائے گی اور اسے مشقت کا شکار نہیں کیا جائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اسلام غلام کے ساتھ بھی احسان اور نیکی کا درس دیتا ہے، اور ظلم و جبر تو مطلقاً حرام ہے۔
اس حدیث میں غلام کے متعلق ایک مسئلہ بیان ہوا ہے کہ اگر ایک غلام کے دو مالک ہیں، ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، اب وہ غلام آدھا آزاد ہے اور آدھا غلام ہے تو دوسرے مالک کو بھی آزاد کر دینا چاہیے، تا کہ غلام مکمل آزاد ہو جائے
اب اس کے دو طریقے ہیں، یا تو غلام دوسرے مالک کو قیمت ادا کر دے اور وہ آزاد ہو جائے، اگر اس کے پاس رقم نہیں ہے، تو اس سے اس کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے، اور وہ محنت و مشقت کر کے رقم جمع کرے اور اپنے دوسرے مالک کو ادا کر دے اور مکمل آزاد ہو جائے۔
اسلام کسی شخص کو آدھا آزاد اور آدھا غلام پسند نہیں کرتا، کیونکہ اس پر حدود کس طرح لاگو ہوں گی، اس طرح دین کے کئی ایک دوسرے مسائل ہیں، جب وہ آدھا غلام اور آدھا آزاد ہو گا تب کئی ایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیز دیکھیں (فتح الباری: 219/1)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اسلام غلام کے ساتھ بھی احسان اور نیکی کا درس دیتا ہے، اور ظلم و جبر تو مطلقاً حرام ہے۔
اس حدیث میں غلام کے متعلق ایک مسئلہ بیان ہوا ہے کہ اگر ایک غلام کے دو مالک ہیں، ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، اب وہ غلام آدھا آزاد ہے اور آدھا غلام ہے تو دوسرے مالک کو بھی آزاد کر دینا چاہیے، تا کہ غلام مکمل آزاد ہو جائے
اب اس کے دو طریقے ہیں، یا تو غلام دوسرے مالک کو قیمت ادا کر دے اور وہ آزاد ہو جائے، اگر اس کے پاس رقم نہیں ہے، تو اس سے اس کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے، اور وہ محنت و مشقت کر کے رقم جمع کرے اور اپنے دوسرے مالک کو ادا کر دے اور مکمل آزاد ہو جائے۔
اسلام کسی شخص کو آدھا آزاد اور آدھا غلام پسند نہیں کرتا، کیونکہ اس پر حدود کس طرح لاگو ہوں گی، اس طرح دین کے کئی ایک دوسرے مسائل ہیں، جب وہ آدھا غلام اور آدھا آزاد ہو گا تب کئی ایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیز دیکھیں (فتح الباری: 219/1)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1122 سے ماخوذ ہے۔