حدیث کتب › مسند الحميدي ›
مسند الحميدي
— عدالتی فیصلوں کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایات
باب: حدیث نمبر 1116
حدیث نمبر: 1116
1116 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدٍ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ، أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا، كَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا أَفْرَدَ أَحَدَهُمَا، وَرُبَّمَا جَمَعَهُمَا، وَرُبَّمَا شَكَّ وَأَكْثَرُ ذَلِكَ يَقُولُهُ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بچہ فراش والے کو ملے گا، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1116- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بچہ فراش والے کوملے گا، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1116]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی مرد کسی کی بیوی سے بدکاری کرے اور اس سے بچہ پیدا ہو جائے تو وہ بچہ اس کا شمار ہوگا جس کے گھر میں پیدا ہوا ہے، خواہ وہ حقیقت میں اس کے نطفے سے نہ بھی ہو اور بدکاری کرنے والے کو پکڑا جائے گا، اگر وہ کنوارہ ہو تو اس کو سو کوڑے مارے جائیں گے، اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کو رجم کیا جائے گا، یعنی ہر زانی کو رجم نہیں کیا جائے گا، ہاں جب اس میں رجم کی شرط ہوگی، تب ہی اس کو رجم کیا جائے گا، اور رجم کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ شادی شدہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کرم فرمائے اور پوری دنیا میں اسلام نافذ ہو، ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور زمین پر فساد اور گناہوں کی شرح کم ہو، اور شادی شدہ زانیوں کو رجم کیا جائے اور شادی شدہ بدکارہ عورت کو رجم کیا جائے، اس سے امن قائم ہوگا، ان شاء اللہ۔
کوئی شہر اور کوئی گاؤں بدکاری سے خالی نہیں رہا، بس اللہ تعالیٰ کرم کرے اور لوگوں کو اسلام سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شیطان کو رسوا کرے، آمین۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی مرد کسی کی بیوی سے بدکاری کرے اور اس سے بچہ پیدا ہو جائے تو وہ بچہ اس کا شمار ہوگا جس کے گھر میں پیدا ہوا ہے، خواہ وہ حقیقت میں اس کے نطفے سے نہ بھی ہو اور بدکاری کرنے والے کو پکڑا جائے گا، اگر وہ کنوارہ ہو تو اس کو سو کوڑے مارے جائیں گے، اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کو رجم کیا جائے گا، یعنی ہر زانی کو رجم نہیں کیا جائے گا، ہاں جب اس میں رجم کی شرط ہوگی، تب ہی اس کو رجم کیا جائے گا، اور رجم کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ شادی شدہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کرم فرمائے اور پوری دنیا میں اسلام نافذ ہو، ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور زمین پر فساد اور گناہوں کی شرح کم ہو، اور شادی شدہ زانیوں کو رجم کیا جائے اور شادی شدہ بدکارہ عورت کو رجم کیا جائے، اس سے امن قائم ہوگا، ان شاء اللہ۔
کوئی شہر اور کوئی گاؤں بدکاری سے خالی نہیں رہا، بس اللہ تعالیٰ کرم کرے اور لوگوں کو اسلام سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شیطان کو رسوا کرے، آمین۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1114 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6818 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6818. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ”بچہ صاحب فراش کا ہے اور حرام کار کے لیے پتھروں کی سزا ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6818]
حدیث حاشیہ: یہ اسلام کا عدالتی فیصلہ ہے جس کا اثر بچے کی پوری زندگی حق حقوق توریث وغیرہ پر پڑتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6818 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6818 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6818. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ”بچہ صاحب فراش کا ہے اور حرام کار کے لیے پتھروں کی سزا ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6818]
حدیث حاشیہ:
عربی زبان میں حجر کے دو معنی ہیں: ٭حرمان اور محرومیت کے معنی دیتا ہے۔
٭پتھر جن سے زانی کو رجم کیا جاتا ہے۔
بعض حضرات نے اس حدیث میں پہلے معنی مراد لیے ہیں کہ زانی کے لیے محرومی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اسے بچہ نہیں دیا جائے گا۔
علامہ عینی رحمہ اللہ نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس سے مراد محرومی نہیں بلکہ پتھر ہیں جن سے زانی کو رجم کیا جاتا ہے بشرطیکہ رجم کی شرائط پائی جاتی ہوں کیونکہ ہر زانی کے لیے پتھر کی سزا نہیں بلکہ کنوارے زانی کے لیے کوڑوں کی سزا ہے۔
(فتح الباري: 156/12)
واللہ أعلم
عربی زبان میں حجر کے دو معنی ہیں: ٭حرمان اور محرومیت کے معنی دیتا ہے۔
٭پتھر جن سے زانی کو رجم کیا جاتا ہے۔
بعض حضرات نے اس حدیث میں پہلے معنی مراد لیے ہیں کہ زانی کے لیے محرومی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اسے بچہ نہیں دیا جائے گا۔
علامہ عینی رحمہ اللہ نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس سے مراد محرومی نہیں بلکہ پتھر ہیں جن سے زانی کو رجم کیا جاتا ہے بشرطیکہ رجم کی شرائط پائی جاتی ہوں کیونکہ ہر زانی کے لیے پتھر کی سزا نہیں بلکہ کنوارے زانی کے لیے کوڑوں کی سزا ہے۔
(فتح الباري: 156/12)
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6818 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6750 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6750. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”بچہ صاحب فراش کا ہوگا۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6750]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم اسے اپنا بھتیجا خیال کرتے ہو، حالانکہ جس لونڈی نے اسے جنم دیا ہے وہ تیرے بھائی کا فراش نہ تھی، نسب تو اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب فراش ثابت ہو۔
تیرا بھائی عتبہ زانی تھا اور زانی کی طرف بچہ منسوب نہیں ہوتا، لہٰذا وہ اس بچے سے محروم ہے اور بچے کے بجائے اس کے مقدر میں پتھر ہیں۔
(2)
چونکہ اس بچے کی مشابہت عتبہ سے ملتی جلتی تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قانونی ضابطوں کو پورا کرنے کے بعد احتیاط کے طور پر حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہما کو پردے کا حکم دیا۔
جب قانونی طور پر اس کا نسب ثابت ہوگیا تو وراثت بھی اسی ضابطے کے تحت جاری ہوگی۔
اگر صاحب فراش اس کا انکار کر دے تو اسے ماں کی طرف منسوب کیا جائے گا اور وہی اس کی وارث ہوگی جیسا کہ پہلے عنوان میں یہ مسئلہ بیان ہو چکا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کتاب الفرائض میں اسی مقصد کے لیے بیان کی ہے۔
واللہ أعلم
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم اسے اپنا بھتیجا خیال کرتے ہو، حالانکہ جس لونڈی نے اسے جنم دیا ہے وہ تیرے بھائی کا فراش نہ تھی، نسب تو اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب فراش ثابت ہو۔
تیرا بھائی عتبہ زانی تھا اور زانی کی طرف بچہ منسوب نہیں ہوتا، لہٰذا وہ اس بچے سے محروم ہے اور بچے کے بجائے اس کے مقدر میں پتھر ہیں۔
(2)
چونکہ اس بچے کی مشابہت عتبہ سے ملتی جلتی تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قانونی ضابطوں کو پورا کرنے کے بعد احتیاط کے طور پر حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہما کو پردے کا حکم دیا۔
جب قانونی طور پر اس کا نسب ثابت ہوگیا تو وراثت بھی اسی ضابطے کے تحت جاری ہوگی۔
اگر صاحب فراش اس کا انکار کر دے تو اسے ماں کی طرف منسوب کیا جائے گا اور وہی اس کی وارث ہوگی جیسا کہ پہلے عنوان میں یہ مسئلہ بیان ہو چکا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کتاب الفرائض میں اسی مقصد کے لیے بیان کی ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6750 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1157 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بچہ شوہر یا مالک کا ہو گا۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بچہ صاحب فراش (یعنی شوہر یا مالک) کا ہو گا ۱؎ اور زانی کے لیے پتھر ہوں گے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1157]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بچہ صاحب فراش (یعنی شوہر یا مالک) کا ہو گا ۱؎ اور زانی کے لیے پتھر ہوں گے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1157]
اردو حاشہ:
وضاخت: 1؎:
فراش سے صاحب فراش یعنی شوہر یا مالک مراد ہے کیونکہ یہی دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں۔
2؎:
زانی کے لیے پتھر ہے، یعنی ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ حجر سے مراد یہ ہے کہ اسے رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر سے مارمار کر ہلاک کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ رجم صرف شادی شدہ کو کیا جائے گا، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی اسی کی طرف بچے کی نسبت ہو گی اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرنے کا دعویٰ کرے اور یہ بھی دعویٰ کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ اس بچے کی مشابہت بھی ہو اور صاحب فراش کے ساتھ نہ ہو اس ساری صورتحال کے باوجود بچہ کو صاحب فراش کی طرف منسوب کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہ ہو گا اور اگر اس نے اس کی نفی کر دی تو پھر بچہ ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس بچہ کا نسب ماں کے ساتھ جوڑا جائے گا زانی کے ساتھ نہیں۔
وضاخت: 1؎:
فراش سے صاحب فراش یعنی شوہر یا مالک مراد ہے کیونکہ یہی دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں۔
2؎:
زانی کے لیے پتھر ہے، یعنی ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ حجر سے مراد یہ ہے کہ اسے رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر سے مارمار کر ہلاک کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ رجم صرف شادی شدہ کو کیا جائے گا، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی اسی کی طرف بچے کی نسبت ہو گی اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرنے کا دعویٰ کرے اور یہ بھی دعویٰ کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ اس بچے کی مشابہت بھی ہو اور صاحب فراش کے ساتھ نہ ہو اس ساری صورتحال کے باوجود بچہ کو صاحب فراش کی طرف منسوب کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہ ہو گا اور اگر اس نے اس کی نفی کر دی تو پھر بچہ ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس بچہ کا نسب ماں کے ساتھ جوڑا جائے گا زانی کے ساتھ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1157 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3512 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شوہر اگر بچے کا انکار نہ کرے تو جس کی عورت ہو گی بچہ اسی کا مانا جائے گا۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بچہ فراش والے کا ہے (یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3512]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بچہ فراش والے کا ہے (یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3512]
اردو حاشہ: (1) شادی شدہ عورت سے جو بچہ پیدا ہو‘ وہ خاوند ہی سے مقصود ہوگا۔ اسی طرح لونڈی سے جوبچہ پیدا ہو‘ وہ اس کے مالک ہی کا متصور ہوگا جب تک خاوند یا مالک نفی نہ کرے‘ خواہ اس بچے کے ناجائز ہونے کا کوئی امکانی ثبوت بھی ہو کیونکہ بچے کے جائز یا ناجائز ہونے کا مسئلہ مخفی ہوتا ہے اور اس کی تہہ تک پہنچنا مشکل امر ہے۔
(2) ”پتھر“ یعنی زانی کو حد لگے گی۔ جس کی ایک صورت پتھر ہیں۔ یہ محاورہ بھی ہوسکتا ہے‘ یعنی زانی کے لیے ناکامی ہے۔ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ نسب تو پاکیزہ چیز ہے۔
(2) ”پتھر“ یعنی زانی کو حد لگے گی۔ جس کی ایک صورت پتھر ہیں۔ یہ محاورہ بھی ہوسکتا ہے‘ یعنی زانی کے لیے ناکامی ہے۔ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ نسب تو پاکیزہ چیز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3512 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3513 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شوہر اگر بچے کا انکار نہ کرے تو جس کی عورت ہو گی بچہ اسی کا مانا جائے گا۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لڑکا فراش والے (یعنی شوہر) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر ہے (یعنی اسے مار لگے گی یا پتھروں سے رجم کر دیا جائے گا)۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3513]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لڑکا فراش والے (یعنی شوہر) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر ہے (یعنی اسے مار لگے گی یا پتھروں سے رجم کر دیا جائے گا)۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3513]
اردو حاشہ: ”فراش“ یا بستر کنایہ ہے بیوی اور لونڈی۔ فراش والے سے مراد خاوند یا مالک ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3513 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2006 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2006]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2006]
اردو حاشہ:
فائدہ: الحجر، جیم کی جزم کے ساتھ ہوتو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بچے کے قانونی فوائد (وراثت وغیرہ)
سے محروم ہے، اور جیم کے فتحہ کے ساتھ مطلب یہ ہے کہ سزا کا مستحق ہے، اسے رجم کیا جانا چاہیے۔
فائدہ: الحجر، جیم کی جزم کے ساتھ ہوتو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بچے کے قانونی فوائد (وراثت وغیرہ)
سے محروم ہے، اور جیم کے فتحہ کے ساتھ مطلب یہ ہے کہ سزا کا مستحق ہے، اسے رجم کیا جانا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2006 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 963 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کیلئے پتھر۔ “ (بخاری و مسلم) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ایک قصہ کے متعلق بھی اسی طرح روایت ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے نسائی نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ابوداؤد نے یہی روایت بیان کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 963»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کیلئے پتھر۔ “ (بخاری و مسلم) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ایک قصہ کے متعلق بھی اسی طرح روایت ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے نسائی نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ابوداؤد نے یہی روایت بیان کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 963»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحدود، باب للعاهر الحجر، حديث:6818، ومسلم، الرضاع، باب الولد للفراش...، حديث:1458، وحديث عائشة: أخرجه البخاري، الفرائض، حديث:6749، 2053، ومسلم، الرضاع، حديث:1457، وحديث ابن مسعود: أخرجه النسائي، الطلاق، حديث:3517 وهو صحيح، وحديث عثمان: أخرجه أبوداود، الطلاق، حديث: 2275، وهو صحيح.»
تشریح: 1.حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ بیوی یا لونڈی جب بچے کو جنم دے تو اس بچے کا نسب اسی آدمی کے ساتھ ملحق کیا جائے گا جو خاوند یا آقا ہے اور وہ اس کا بچہ شمار کیا جائے گا۔
اور بوجہ ولادت ان دونوں کے مابین وراثت وغیرہ کے احکام جاری ہوں گے۔
اور اگر کوئی دوسرا شخص اس عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کا دعویٰ کرے اور یہ دعویٰ بھی کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے اور اس کے ساتھ اس بچے کی مشابہت بھی ہو جبکہ صاحب فراش کے ساتھ نہ ہو تو اس ساری صورتحال کے باوجود بچے کو صاحب فراش کے ساتھ ملحق کیا جائے گااور اس میں زانی کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
اور یہ سب کچھ اس صورت میں ہے جب صاحب فراش بچے کی نفی نہ کرے۔
اگر اس نے نفی کر دی تو پھر بچہ ماں کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا اور اس کا نسب ماں کے ساتھ ہوگا‘ زانی کے ساتھ نہیں۔
یاد رہے! جمہور کا قول ہے کہ عورت صرف نکاح سے فراش بن جاتی ہے۔
اب اگر چھ ماہ یا اس سے زیادہ مدت کے بعد بچے کو جنم دیتی ہے اور خاوند کا اس کے ساتھ جماع کرنا بھی ممکن ہے تو بچہ خاوند کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا اور اگر جماع کا امکان نہ ہو تو پھر بچے کو اس کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا۔
2. احناف کہتے ہیں کہ محض عقد کی وجہ سے بچے کو عورت کے خاوند کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا‘ خواہ جماع کا امکان ہو یا نہ ہو‘ حتیٰ کہ اگر مغرب کے رہنے والے نے مشرق میں رہنے والی خاتون سے نکاح کیا اور دونوں میں سے کسی نے بھی اپنا وطن مالوف نہ چھوڑا یا کسی آدمی نے عقد نکاح کے بعد طلاق دے دی‘ پھر چھ ماہ بعد اس عورت نے بچہ جنم دیا تو اس صورت میں بچہ اسی مرد کے ساتھ ملحق کیا جائے گا۔
یہ قول ایسا ہے کہ اس کی تردید کی ضرورت ہی نہیں۔
3. امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس طرف گئے ہیں کہ عورت سے دخول محقق کی معرفت ضروری ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ اور صاحب منار السبیل نے ان کی تائید کی ہے اور یہ بات لفظ فراش سے لغوی‘ عرفی اور عقلی طور پر سمجھی جاسکتی ہے۔
«أخرجه البخاري، الحدود، باب للعاهر الحجر، حديث:6818، ومسلم، الرضاع، باب الولد للفراش...، حديث:1458، وحديث عائشة: أخرجه البخاري، الفرائض، حديث:6749، 2053، ومسلم، الرضاع، حديث:1457، وحديث ابن مسعود: أخرجه النسائي، الطلاق، حديث:3517 وهو صحيح، وحديث عثمان: أخرجه أبوداود، الطلاق، حديث: 2275، وهو صحيح.»
تشریح: 1.حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ بیوی یا لونڈی جب بچے کو جنم دے تو اس بچے کا نسب اسی آدمی کے ساتھ ملحق کیا جائے گا جو خاوند یا آقا ہے اور وہ اس کا بچہ شمار کیا جائے گا۔
اور بوجہ ولادت ان دونوں کے مابین وراثت وغیرہ کے احکام جاری ہوں گے۔
اور اگر کوئی دوسرا شخص اس عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کا دعویٰ کرے اور یہ دعویٰ بھی کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے اور اس کے ساتھ اس بچے کی مشابہت بھی ہو جبکہ صاحب فراش کے ساتھ نہ ہو تو اس ساری صورتحال کے باوجود بچے کو صاحب فراش کے ساتھ ملحق کیا جائے گااور اس میں زانی کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
اور یہ سب کچھ اس صورت میں ہے جب صاحب فراش بچے کی نفی نہ کرے۔
اگر اس نے نفی کر دی تو پھر بچہ ماں کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا اور اس کا نسب ماں کے ساتھ ہوگا‘ زانی کے ساتھ نہیں۔
یاد رہے! جمہور کا قول ہے کہ عورت صرف نکاح سے فراش بن جاتی ہے۔
اب اگر چھ ماہ یا اس سے زیادہ مدت کے بعد بچے کو جنم دیتی ہے اور خاوند کا اس کے ساتھ جماع کرنا بھی ممکن ہے تو بچہ خاوند کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا اور اگر جماع کا امکان نہ ہو تو پھر بچے کو اس کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا۔
2. احناف کہتے ہیں کہ محض عقد کی وجہ سے بچے کو عورت کے خاوند کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا‘ خواہ جماع کا امکان ہو یا نہ ہو‘ حتیٰ کہ اگر مغرب کے رہنے والے نے مشرق میں رہنے والی خاتون سے نکاح کیا اور دونوں میں سے کسی نے بھی اپنا وطن مالوف نہ چھوڑا یا کسی آدمی نے عقد نکاح کے بعد طلاق دے دی‘ پھر چھ ماہ بعد اس عورت نے بچہ جنم دیا تو اس صورت میں بچہ اسی مرد کے ساتھ ملحق کیا جائے گا۔
یہ قول ایسا ہے کہ اس کی تردید کی ضرورت ہی نہیں۔
3. امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس طرف گئے ہیں کہ عورت سے دخول محقق کی معرفت ضروری ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ اور صاحب منار السبیل نے ان کی تائید کی ہے اور یہ بات لفظ فراش سے لغوی‘ عرفی اور عقلی طور پر سمجھی جاسکتی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 963 سے ماخوذ ہے۔