حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1112
1112 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَفِي الْمُزَفَّتِ» ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ عِنْدِهِ: «وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ وَالنَّقِيرَ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دباء اور مزفت میں نبیذ تیار نہ کرو۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے یہ بات بیان کی حنتم اور نقیر (دباء، مزفت، حنتم اور نقیر یہ چاروں برتن ہیں جن میں زمانہ جاہلیت میں شراب پی جاتی تھی تو برتنوں سے اس لیے منع فرمایا تاکہ برتنوں کو دیکھ کر طبیعت اس طرف مائل نہ ہو) سے بھی اجتناب کرو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1112- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دباء اور مزفت میں نبیذ تیار نہ کرو۔" پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے یہ بات بیان کی حنتم اور نقیر (دباء، فرفت، حنتم اور نقیر یہ چاروں برتن ہیں جن میں زمانہ جہالت میں شراب پی جاتی تھی تو برتنوں سے اس لئے منع فرمایا تاکہ برتنوں کو دیکھ کر طبیعت اس طرف مائل نہ ہو) سے بھی اجتناب کرو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1112]
فائدہ:
پہلے یہی حکم تھا کہ ان برتنوں میں نبیذ تیار نہ کی جائے کیونکہ ان برتنوں میں نبیذ جلد ہی شراب کی شکل اختیار کر جاتی ہے، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں میں نبیذ تیار کرنے کی اجازت دے دی تھی، اس کی تفصیل صحیح مسلم (977) میں موجود ہے۔ نیز صحیح مسلم (17) میں چار طرح کے برتنوں کا ذکر ہے، جو دو برتن سیدنا ابوہریرہ نے الگ اپنی طرف سے بیان کیے ہیں، ان کا ذکر بھی مرفوع حدیث میں ملتا ہے۔
پہلے یہی حکم تھا کہ ان برتنوں میں نبیذ تیار نہ کی جائے کیونکہ ان برتنوں میں نبیذ جلد ہی شراب کی شکل اختیار کر جاتی ہے، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں میں نبیذ تیار کرنے کی اجازت دے دی تھی، اس کی تفصیل صحیح مسلم (977) میں موجود ہے۔ نیز صحیح مسلم (17) میں چار طرح کے برتنوں کا ذکر ہے، جو دو برتن سیدنا ابوہریرہ نے الگ اپنی طرف سے بیان کیے ہیں، ان کا ذکر بھی مرفوع حدیث میں ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1110 سے ماخوذ ہے۔