حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1110
1110 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، وَحَدَّثَنِي وَلَيْسَ مَعِي وَلَا مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدَنُ جُبَارٌ، وَالْبِيَرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ معدنیات میں گر کر مرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ کنوئیں میں گر کر مرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا، اور خزینے میں پانچویں حصے کی ادائیگی لازم ہوگی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1110- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ معدنیات میں گر کر مرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ کنوئیں میں گر کر مرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا، اور خزینے میں پانچویں حصے کی ادائیگی لازم ہوگی۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1110]
فائدہ:
اس حدیث میں ہے کہ ہر وہ نقصان جو جانور کے مارنے سے ہو یا کان یا کنویں کے گرنے سے ہو تو اس کی چٹی اور دیت جانور، کان اور کنویں کے مالک پر نہیں ہوگی، کیونکہ مالک نے تو مزدور کو اپنے کام کی غرض سے کام پر لگایا تھا نہ کہ وہ اس کو مارنا چاہتا تھا۔ نیز اس حدیث میں مدفون چیز ملنے پر پانچواں حصہ اس کی زکاۃ دینے کا مسئلہ ہے تفصیل کے لیے دیکھیے۔ (فتح الباری: 3 / 365)
اس حدیث میں ہے کہ ہر وہ نقصان جو جانور کے مارنے سے ہو یا کان یا کنویں کے گرنے سے ہو تو اس کی چٹی اور دیت جانور، کان اور کنویں کے مالک پر نہیں ہوگی، کیونکہ مالک نے تو مزدور کو اپنے کام کی غرض سے کام پر لگایا تھا نہ کہ وہ اس کو مارنا چاہتا تھا۔ نیز اس حدیث میں مدفون چیز ملنے پر پانچواں حصہ اس کی زکاۃ دینے کا مسئلہ ہے تفصیل کے لیے دیکھیے۔ (فتح الباری: 3 / 365)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1109 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3085 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دفینہ کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " دفینہ میں خمس (پانچواں حصہ) ہے ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3085]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " دفینہ میں خمس (پانچواں حصہ) ہے ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3085]
فوائد ومسائل:
کسی اجاڑ زمین میں یا قدیم پرانی آبادی میں کسی کا دفن کردہ مال جس کا مالک معلوم نہ ہو رکاز کہلاتا ہے، جسے ایسا مال ملے وہ خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنے کے بعد اس کا مالک بن جاتا ہے۔
کسی اجاڑ زمین میں یا قدیم پرانی آبادی میں کسی کا دفن کردہ مال جس کا مالک معلوم نہ ہو رکاز کہلاتا ہے، جسے ایسا مال ملے وہ خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنے کے بعد اس کا مالک بن جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3085 سے ماخوذ ہے۔