حدیث نمبر: 1083
1083 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، وَابْنُ طَاوُسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ هِبَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثَابَهُ، فَلَمْ يَرْضَ، ثُمَّ أَثَابَهُ، فَلَمْ يَرْضَ، ثُمَّ أَثَابَهُ فَرَضِيَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَهَبَّ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشَيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

طاؤس بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلے کے طور پر اسے مزید چیز دی، تو وہ راضی ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ طے کیا ہے کہ آئندہ میں صرف کسی قریشی یا انصاری یا ثقفی سے تحفہ قبول کروں گا۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1083
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، غير أنه مرسل وقد أخرجه البزار فى «مسنده» برقم: 4713، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16521، 19920، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33164 ، وله شواهد من حديث أبى هريرة الدوسي وحديث عبد الله بن عباس فأما حديث أبى هريرة الدوسي أخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3537، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3945، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3768 ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7480، 8033، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6383، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33165، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16522، 19921، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12146، والبزار فى «مسنده» برقم: 8020، 8425، 8507، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6558، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2378 وأما حديث عبد الله بن عباس أخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 2731، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6384، والطبراني فى "الكبير"، 10897، والبزار فى «مسنده» برقم: 4712، والضياء المقدسي فى «الأحاديث المختارة»، 45، 46»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3790 | سنن ترمذي: 3945 | سنن ترمذي: 3946 | سنن ابي داود: 3537 | مسند الحميدي: 1082

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3790 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا عطیہ دینا (کیسا ہے)۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کر لیا ہے تھا کہ قریشی، انصاری، ثقفی، دوسی کو چھوڑ کر کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3790]
اردو حاشہ: (1) اس فرمان کا سبب یہ ہوا کہ ایک اعرابی نے آپ کو ایک اونٹ تحفے میں دیا۔ اس کا مقصد معاوضـہ لینا تھا۔ آپ نے اسے چھ اونٹ دے دیے‘ پھر بھی وہ راضی نہ ہوا‘ اس لیے آپ نے یہ ارشاد فرمایا کیونکہ لوگوں نے آپ کو عام بادشاہوں کی طرح سمجھ رکھا تھا کہ جن سے حیلے بہانوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔
(2) قریشی‘ انصاری‘ ثقفی‘ دوسی چونکہ آپ کے تربیت یافتہ اور آپ کی حیثیت سے واقف تھے‘ وہ آپ کو تحفہ تبرک کی غرض سے دیتے تھے‘ اس لیے آپ نے ان قبیلوں کو مستثنیٰ قراردیا ہے۔
(3) اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ اگر تحفہ دینے والہ لالچی شخص ہو اور جو عوض دیا جائے اس پر راضی نہ ہوتا ہو تو تحفہ قبول کرنے سے انکار بھی کیا جاسکتا ہے۔
(4) تحفہ دینے والے کو اس کے تحفے کے مقابل عوض دینا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3790 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3946 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے ق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3946]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سابقہ حدیث میں ایوب بن مسکین (یا ابن ابی مسکین) صدوق ہیں، لیکن صاحب اوہام ہیں، اور اس سند میں محمد بن اسحاق صدوق لیکن مدلس ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث اورسابقہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو:الصحیحة رقم: 1684)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3946 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3945 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں ، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3945]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے قبیلہ ثقیف کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3945 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3537 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ہدیہ اور تحفہ قبول کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3537]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
در اصل بعض لوگ بہت زیادہ بدلہ لینے کی غرض سے نبی کریم ﷺ کو ہدیہ دینے لگے تھے۔
تب آپ ﷺ نے یہ عزم ظاہر فرمایا اور مذکورہ خاندانوں کے لوگ طبعا ً غنی تھے۔
اور ان میں بالمعوم طمع نہیں ہوتی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3537 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1082 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1082- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی تحفے کے طور پر پیش کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (بدلے کے طور پر) تین اونٹنیاں دیں۔ لیکن وہ اس سے راضی نہیں ہوا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید تین اونٹنیاں دیں وہ پھر بھی راضی نہیں ہوا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین اونٹنیاں دیں۔ وہ نو اونٹنیاں لے کر راضی ہوگیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے یہ طے کرلیا ہے کہ اب میں صرف کسی قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی شخص کا تحفہ ہی قبول کیا کروں گا۔‏‏‏‏ سفیان کہتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1082]
فائدہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیاض ہونے کا ثبوت ملتا ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو کوئی آپ کو ہدیہ دے، اس کے بدلے میں اس سے بہتر ہدیہ دینا سنت ہے بعض لوگ ساری عمر ہدیہ لینے میں ہی رہتے ہیں اور دیتے نہیں ہیں، یہ اندا محل نظر ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1081 سے ماخوذ ہے۔