حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1070
1070 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أَحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أَحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ» ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، ثَلَاثًا: أَشْهَدُ لِلَّهِاردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میری یہ خواہش ہے کہ مجھے اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے۔ پھر زندہ کیا جائے۔ پھر شہید کر دیا جائے پھر زندہ کیا جائے پھر شہید کر دیا جائے۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے: ”میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1070- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میری یہ خواہش ہے کہ مجھے اللہ کی راہ میں شہید کردیا جائے۔ پھر زندہ کیا جائے۔ پھر شہید کردیا جائے پھر زندہ کیا جائے پھر شہید کردیا جائے۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے: ”میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1070]
فائدہ:
اس حدیث سے میدان قتال میں شہید ہونے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، شہادت ایک ایسی ایمانی لذت ہے جو مؤمن بار پا لینا چاہتا ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کے راستے میں شہید ہونے کی خواہش ہونی چاہیے، اور اس کی خاطر جدوجہد میں لگے رہنا چاہیے، ان شاء اللہ اس کو شہادت کا رتبہ ہی ملے گا، خواہ وہ بستر پر ہی کیوں نہ فوت ہوا ہو، اے اللہ! ہمیں شہادت کی موت نصیب فرما، آمین۔
اس حدیث سے میدان قتال میں شہید ہونے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، شہادت ایک ایسی ایمانی لذت ہے جو مؤمن بار پا لینا چاہتا ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کے راستے میں شہید ہونے کی خواہش ہونی چاہیے، اور اس کی خاطر جدوجہد میں لگے رہنا چاہیے، ان شاء اللہ اس کو شہادت کا رتبہ ہی ملے گا، خواہ وہ بستر پر ہی کیوں نہ فوت ہوا ہو، اے اللہ! ہمیں شہادت کی موت نصیب فرما، آمین۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1069 سے ماخوذ ہے۔