حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1044
1044 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص روزے دار ہونے کی حالت میں صبح کرے، تو وہ بری بات نہ کہے، وہ جہالت کا مظاہرہ نہ کرے، اگر کوئی شخص اسے گالی دے، یا اس کے ساتھ لڑنے کی کوشش کرے، تو وہ یہ کہہ دے: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1044- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص روزے دار ہونے کی حالت میں صبح کرے، تو وہ بری بات نہ کہے، وہ جہالت کا مظاہرہ نہ کرے، اگر کوئی شخص اسے گالی دے، یا اس کے ساتھ لڑنے کی کوشش کرے، تو وہ یہ کہہ دے: میں نے روزہ رکھ ہوا ہے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1044]
فائدہ:
اس حدیث میں روزے کی حفاظت کا بیان ہے کہ روزہ رکھنے کے بعد اس کی ہر طرح سے حفاظت بھی کرنی ہے، اور حفاظت یہ ہے کہ گالی وغیرہ نہیں دینی، اپنے آپ کو ترازو حدیث کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس حدیث میں روزے کی حفاظت کا بیان ہے کہ روزہ رکھنے کے بعد اس کی ہر طرح سے حفاظت بھی کرنی ہے، اور حفاظت یہ ہے کہ گالی وغیرہ نہیں دینی، اپنے آپ کو ترازو حدیث کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1044 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7492 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7492. سیدنا ابو ہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ”روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ وہ (روزے دار) میری خاطر اپنی خواہشات اور کھانا پینا چھوڑتا ہے اور روزہ ڈھال ہے، نیز روزے دار کے لیے خوشیاں ہیں: ایک خوشی روزہ افطار کرتے وقت اور دوسری خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7492]
حدیث حاشیہ: روزہ سے متعلق یہ حدیث کلام الہی کے طورپر وارد ہوئی ہے۔
یعنی اللہ نےخود ایسا ایسا فرمایا ہے۔
یہ اس کا کلام ہے جو قرآن کےعلاوہ ہے۔
اس سے بھی کلام الہی ثابت ہوا اور معتزلہ جہمیہ کا رد جو اللہ کے کلام کرنے سے منکر ہیں۔
ترجمہ باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس حدیث کو اللہ کا کلام فرمایا۔
یعنی اللہ نےخود ایسا ایسا فرمایا ہے۔
یہ اس کا کلام ہے جو قرآن کےعلاوہ ہے۔
اس سے بھی کلام الہی ثابت ہوا اور معتزلہ جہمیہ کا رد جو اللہ کے کلام کرنے سے منکر ہیں۔
ترجمہ باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس حدیث کو اللہ کا کلام فرمایا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7492 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7492 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7492. سیدنا ابو ہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ”روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ وہ (روزے دار) میری خاطر اپنی خواہشات اور کھانا پینا چھوڑتا ہے اور روزہ ڈھال ہے، نیز روزے دار کے لیے خوشیاں ہیں: ایک خوشی روزہ افطار کرتے وقت اور دوسری خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7492]
حدیث حاشیہ:
1۔
ان دونوں احادیث قدسیہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام صرف قرآن مجید کے ساتھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے حسب موقع کلام کرتا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ احادیث کے مضامین کو اللہ تعالیٰ کا قول قرار دیا ہے حالانکہ یہ احادیث قرآن کریم کے علاوہ ہیں۔
اس سے معتزلہ اور جہمیہ کی تردید بھی مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
2۔
قبل ازیں عنوان میں ایک آیت کا حوالہ تھا، چنانچہ مسلمان صلح حدیبیہ کے موقع پر بہت رنجیدہ تھے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ان سے وعدہ کیا تھا کہ انھیں بلاشرکت غیرے ایک فتح حاصل ہوگی جبکہ منافقین اس وعدے کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔
یہ وعدہ بھی اللہ تعالیٰ کا کلام تھا جو قرآن مجید کے علاوہ تھا۔
واللہ أعلم۔
1۔
ان دونوں احادیث قدسیہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام صرف قرآن مجید کے ساتھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے حسب موقع کلام کرتا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ احادیث کے مضامین کو اللہ تعالیٰ کا قول قرار دیا ہے حالانکہ یہ احادیث قرآن کریم کے علاوہ ہیں۔
اس سے معتزلہ اور جہمیہ کی تردید بھی مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
2۔
قبل ازیں عنوان میں ایک آیت کا حوالہ تھا، چنانچہ مسلمان صلح حدیبیہ کے موقع پر بہت رنجیدہ تھے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ان سے وعدہ کیا تھا کہ انھیں بلاشرکت غیرے ایک فتح حاصل ہوگی جبکہ منافقین اس وعدے کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔
یہ وعدہ بھی اللہ تعالیٰ کا کلام تھا جو قرآن مجید کے علاوہ تھا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7492 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5927 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5927. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں: ”اللہ تعالٰی نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے لیکن روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اور روزے دار کے منہ کی خوشبو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5927]
حدیث حاشیہ: روزہ ایسا عمل ہے کہ آدمی اس میں خالص خدا کے ڈر سے کھانے پینے اور شہوت رانی سے باز رہتا ہے اور دوسرا کوئی آدمی اس پر مطلع نہیں ہو سکتا اس لیے اس کا ثواب بھی بڑا ہے ایسے پاک عمل کی تشبیہ مشک سے دی گئی یہی مشک کے پاک ہونے کی دلیل ہے۔
مجتہد اعظم حضرت امام بخاری کا یہ اجتہاد بالکل درست ہے۔
مجتہد اعظم حضرت امام بخاری کا یہ اجتہاد بالکل درست ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5927 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5927 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5927. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں: ”اللہ تعالٰی نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے لیکن روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اور روزے دار کے منہ کی خوشبو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5927]
حدیث حاشیہ:
(1)
’’روزہ اللہ کے لیے ہے۔
‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بھی عبادت روزے سے نہیں کی گئی کیونکہ کفارومشرکین نے کسی وقت بھی معبودان باطلہ کی عبادت روزے سے نہیں کی، نیز روزہ ایک ایسا خفیہ عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا مطلع نہیں ہو سکتا۔
روزے کے پاک عمل کو ایک پاک چیز سے تشبیہ دی گئی ہے۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ مشک پاک ہے، اور یہ بہترین خوشبو ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہاری خوشبوؤں سے بہترین خوشبو کستوری ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 36/3)
(1)
’’روزہ اللہ کے لیے ہے۔
‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بھی عبادت روزے سے نہیں کی گئی کیونکہ کفارومشرکین نے کسی وقت بھی معبودان باطلہ کی عبادت روزے سے نہیں کی، نیز روزہ ایک ایسا خفیہ عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا مطلع نہیں ہو سکتا۔
روزے کے پاک عمل کو ایک پاک چیز سے تشبیہ دی گئی ہے۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ مشک پاک ہے، اور یہ بہترین خوشبو ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہاری خوشبوؤں سے بہترین خوشبو کستوری ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 36/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5927 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7538 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7538. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”نبی ﷺ تمہارے رب سے روایت کرتے ہیں کہ اس (رب) نے فرمایا: ہر عمل کا کفارہ ہے اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور بلاشبہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بڑھ کر ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7538]
حدیث حاشیہ: اس حدیث کی مطابقت باب سےظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7538 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7538 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7538. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”نبی ﷺ تمہارے رب سے روایت کرتے ہیں کہ اس (رب) نے فرمایا: ہر عمل کا کفارہ ہے اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور بلاشبہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بڑھ کر ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7538]
حدیث حاشیہ:
گناہ کے کفارے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ پر پردہ ڈال دیتا ہے اور سے معاف کردیتا ہے۔
اگرچہ ہر عمل کی جزا اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے، تاہم اکثر طور پر اعمال کی جزا فرشتوں کے سپردکر دیتا ہے لیکن روزے کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی جزا فرشتوں کے حوالے کرنے کے بجائے وہ خود دیتا ہے کیونکہ روزہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے نہیں رکھا جاتا اور نہ اس میں کوئی ریا اور نمودونمائش کا پہلو ہی ہوتا ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ روایت اور مروی میں فرق ہے۔
واللہ أعلم۔
گناہ کے کفارے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ پر پردہ ڈال دیتا ہے اور سے معاف کردیتا ہے۔
اگرچہ ہر عمل کی جزا اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے، تاہم اکثر طور پر اعمال کی جزا فرشتوں کے سپردکر دیتا ہے لیکن روزے کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی جزا فرشتوں کے حوالے کرنے کے بجائے وہ خود دیتا ہے کیونکہ روزہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے نہیں رکھا جاتا اور نہ اس میں کوئی ریا اور نمودونمائش کا پہلو ہی ہوتا ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ روایت اور مروی میں فرق ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7538 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1894 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1894. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’روزہ ایک ڈھال ہے لہذا روزے دار کو چاہیے کہ وہ نہ تو فحش کلامی کرے اور نہ جاہلوں ہی جیسا کوئی کام کرے۔ ہاں اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کو دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبوسے زیادہ بہتر ہے۔ (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) روزہ دار ا پنا کھانا۔ پینا اور اپنی خواہشات میرے لیے چھوڑنا ہے۔ لہذا روزہ میرے ہی لیے ہے اور میں ہی اس کابدلہ دوں گا اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1894]
حدیث حاشیہ: جہالت کی باتیں مثلاً ٹھٹھا مذاق، بیہودہ جھوٹ اور لغو باتیں اور چیخنا چلانا، غل مچانا۔
سعید بن منصور کی روایت میں یوں ہے کہ فحش نہ بکے نہ کسی سے جھگڑے۔
ابو الشیخ نے ایک ضعیف حدیث میں نکالا کہ روزے دار جب قبروں میں سے اٹھیں گے تو اپنے منہ کی بو سے پہچان لئے جائیں گے اور ان کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہوگی۔
ابن علام نے کہا کہ دنیا ہی میں روزہ دار کے منہ کى بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے اور روزہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ریا و نمود کو دخل نہیں ہوتا۔
آدمی خالص خدا ہی کے ڈر سے اپنی تمام خواہشیں چھوڑ دیتا ہے۔
اس وجہ سے روزہ خاص اس کی عبادت ہے اور اس کا ثواب بہت ہی بڑا ہے بشرطیکہ روزہ حقیقی روزہ ہو۔
سعید بن منصور کی روایت میں یوں ہے کہ فحش نہ بکے نہ کسی سے جھگڑے۔
ابو الشیخ نے ایک ضعیف حدیث میں نکالا کہ روزے دار جب قبروں میں سے اٹھیں گے تو اپنے منہ کی بو سے پہچان لئے جائیں گے اور ان کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہوگی۔
ابن علام نے کہا کہ دنیا ہی میں روزہ دار کے منہ کى بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے اور روزہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ریا و نمود کو دخل نہیں ہوتا۔
آدمی خالص خدا ہی کے ڈر سے اپنی تمام خواہشیں چھوڑ دیتا ہے۔
اس وجہ سے روزہ خاص اس کی عبادت ہے اور اس کا ثواب بہت ہی بڑا ہے بشرطیکہ روزہ حقیقی روزہ ہو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1894 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1894 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1894. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’روزہ ایک ڈھال ہے لہذا روزے دار کو چاہیے کہ وہ نہ تو فحش کلامی کرے اور نہ جاہلوں ہی جیسا کوئی کام کرے۔ ہاں اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کو دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبوسے زیادہ بہتر ہے۔ (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) روزہ دار ا پنا کھانا۔ پینا اور اپنی خواہشات میرے لیے چھوڑنا ہے۔ لہذا روزہ میرے ہی لیے ہے اور میں ہی اس کابدلہ دوں گا اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1894]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ حدیث کئی ایک اعتبار سے روزے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے: ایک تو یہ کہ روزہ ڈھال ہے۔
ایک قلعہ، روایت میں ہے کہ روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے۔
(جامع الترمذي، الصوم، حدیث: 764)
مسند امام احمد کی روایت میں روزے کو ایک مضبوط قلعہ قرار دیا گیا ہے۔
(مسندأحمد: 402/2)
اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ روزہ گناہوں سے بچنے کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے۔
جب انسان روزہ دار ہوتا ہے تو شیطان کے وار سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
دوسری وجہ فضیلت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر کہا گیا ہے جبکہ دوسری احادیث میں خون شہید کو مشک کہا گیا ہے، حالانکہ شہید اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ اسلام کا رکن اور فرض عین ہے جبکہ جہاد فرض کفایہ ہے۔
مذکورہ فرق اسی وجہ سے ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ روزے کے عمل کو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، حالانکہ عبادت ہر قسم کی اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے۔
یہ اس لیے کہ روزہ ایسا عمل ہے جس پر لوگ مطلع نہیں ہو سکتے۔
اس میں ریاکاری کے امکان کم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ جب اس عمل کا ثواب دے گا تو اعداد و شمار کے بغیر بے حد و حساب ثواب عنایت کرے گا۔
(2)
روزہ دار کی جزا خود اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا جبکہ دوسرے اعمال کی جزا فرشتوں کی وساطت سے دی جاتی ہے۔
بہرحال اس حدیث میں کئی ایک پہلوؤں سے روزے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔
امام بخاری ؒ کا مقصود بھی روزے کی فضیلت کو ثابت کرنا ہے۔
(1)
یہ حدیث کئی ایک اعتبار سے روزے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے: ایک تو یہ کہ روزہ ڈھال ہے۔
ایک قلعہ، روایت میں ہے کہ روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے۔
(جامع الترمذي، الصوم، حدیث: 764)
مسند امام احمد کی روایت میں روزے کو ایک مضبوط قلعہ قرار دیا گیا ہے۔
(مسندأحمد: 402/2)
اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ روزہ گناہوں سے بچنے کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے۔
جب انسان روزہ دار ہوتا ہے تو شیطان کے وار سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
دوسری وجہ فضیلت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر کہا گیا ہے جبکہ دوسری احادیث میں خون شہید کو مشک کہا گیا ہے، حالانکہ شہید اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ اسلام کا رکن اور فرض عین ہے جبکہ جہاد فرض کفایہ ہے۔
مذکورہ فرق اسی وجہ سے ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ روزے کے عمل کو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، حالانکہ عبادت ہر قسم کی اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے۔
یہ اس لیے کہ روزہ ایسا عمل ہے جس پر لوگ مطلع نہیں ہو سکتے۔
اس میں ریاکاری کے امکان کم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ جب اس عمل کا ثواب دے گا تو اعداد و شمار کے بغیر بے حد و حساب ثواب عنایت کرے گا۔
(2)
روزہ دار کی جزا خود اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا جبکہ دوسرے اعمال کی جزا فرشتوں کی وساطت سے دی جاتی ہے۔
بہرحال اس حدیث میں کئی ایک پہلوؤں سے روزے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔
امام بخاری ؒ کا مقصود بھی روزے کی فضیلت کو ثابت کرنا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1894 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1904 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1904. حضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کا ارشادگرامی ہے: ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں مگر روزہ، وہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کابدلہ دوں گا۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہوتو وہ بری باتیں اور شوروغوغا نہ کرے۔ اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ اسے یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔ روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے ایک تو روزہ کھولنے کے وقت خوش ہوتا ہے، دوسرے جب وہ اپنے مالک سے ملے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر خوش ہوگا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1904]
حدیث حاشیہ: یعنی دنیا میں بھی آدمی نیک عمل سے کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھاتا ہے گو اس کی ریا کی نیت نہ ہو مثلاً لوگ اس کو اچھا سمجھتے ہیں مگر روزہ ایسی مخفی عباد ت ہے جس کا صلہ اللہ دے گا بندوں کو اس میں کوئی دخل نہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1904 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1904 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1904. حضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کا ارشادگرامی ہے: ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں مگر روزہ، وہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کابدلہ دوں گا۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہوتو وہ بری باتیں اور شوروغوغا نہ کرے۔ اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ اسے یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔ روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے ایک تو روزہ کھولنے کے وقت خوش ہوتا ہے، دوسرے جب وہ اپنے مالک سے ملے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر خوش ہوگا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1904]
حدیث حاشیہ:
(1)
عبادت کا اظہار مکروہ ہے، اسے ہر ممکن انداز سے مخفی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر اس کے اظہار میں کچھ فائدہ ہو تو اسے ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ریا اور شہرت مقصود نہ ہو۔
اس مقام پر روزے کے عمل کو ظاہر کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ شاید سب و شتم کرنے والا جاہل مزید بدتمیزی سے باز آ جائے اور شرم کی وجہ سے وہ روزے دار کی طرح بن جائے۔
یہاں ایک اشکال ہے: حدیث میں وضاحت ہے کہ جب روزے دار سے کوئی بدتمیزی کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزے دار ہونے کا زبان سے اظہار کر دے لیکن امام بخاری ؒ نے لفظ هل سے عنوان قائم کیا ہے جو تردد پر دلالت کرتا ہے؟ حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ روزے دار کو زبان سے کہنا چاہیے یا خود کو مخاطب کر کے اپنے دل میں کہہ دے۔
بعض شارحین کا خیال ہے کہ اسے اپنے دل میں کہنا چاہیے جبکہ بعض حضرات کے نزدیک زبان سے کہنا زیادہ بہتر ہے اور اگر دونوں کو جمع کر لے تو بہت ہی اچھا ہے، اس اختلاف کی بنا پر امام بخاری نے لفظ هل سے عنوان قائم کیا ہے۔
(فتح الباري: 136/4)
اس مسئلے میں تین قول ہیں: ٭ دل میں کہے، زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
٭ زبان سے کہہ دے تاکہ جاہل آدمی بے ہودگی سے باز آ جائے۔
٭ فرض روزے میں زبان سے کہے اور نفل روزے میں دل سے کہے۔
دوسرا قول ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔
(عمدةالقاري: 10/8) (2)
روزہ دار افطاری کے وقت اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے روزہ پورا کرنے کی توفیق دی اور روزے کو فاسد کرنے والی اشیاء سے اسے محفوظ رکھا، نیز سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کے بعد کھانے پینے سے طبعی طور پر خوشی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت اس لیے خوش ہو گا کہ اس نے روزہ قبول کر لیا ہے اور اسے اچھا بدلہ دیا ہے۔
(فتح الباري: 152/4)
(1)
عبادت کا اظہار مکروہ ہے، اسے ہر ممکن انداز سے مخفی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر اس کے اظہار میں کچھ فائدہ ہو تو اسے ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ریا اور شہرت مقصود نہ ہو۔
اس مقام پر روزے کے عمل کو ظاہر کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ شاید سب و شتم کرنے والا جاہل مزید بدتمیزی سے باز آ جائے اور شرم کی وجہ سے وہ روزے دار کی طرح بن جائے۔
یہاں ایک اشکال ہے: حدیث میں وضاحت ہے کہ جب روزے دار سے کوئی بدتمیزی کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزے دار ہونے کا زبان سے اظہار کر دے لیکن امام بخاری ؒ نے لفظ هل سے عنوان قائم کیا ہے جو تردد پر دلالت کرتا ہے؟ حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ روزے دار کو زبان سے کہنا چاہیے یا خود کو مخاطب کر کے اپنے دل میں کہہ دے۔
بعض شارحین کا خیال ہے کہ اسے اپنے دل میں کہنا چاہیے جبکہ بعض حضرات کے نزدیک زبان سے کہنا زیادہ بہتر ہے اور اگر دونوں کو جمع کر لے تو بہت ہی اچھا ہے، اس اختلاف کی بنا پر امام بخاری نے لفظ هل سے عنوان قائم کیا ہے۔
(فتح الباري: 136/4)
اس مسئلے میں تین قول ہیں: ٭ دل میں کہے، زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
٭ زبان سے کہہ دے تاکہ جاہل آدمی بے ہودگی سے باز آ جائے۔
٭ فرض روزے میں زبان سے کہے اور نفل روزے میں دل سے کہے۔
دوسرا قول ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔
(عمدةالقاري: 10/8) (2)
روزہ دار افطاری کے وقت اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے روزہ پورا کرنے کی توفیق دی اور روزے کو فاسد کرنے والی اشیاء سے اسے محفوظ رکھا، نیز سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کے بعد کھانے پینے سے طبعی طور پر خوشی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت اس لیے خوش ہو گا کہ اس نے روزہ قبول کر لیا ہے اور اسے اچھا بدلہ دیا ہے۔
(فتح الباري: 152/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1904 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1151 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا کسی دن روزہ ہو تو وہ شہوت انگیز حرکت نہ کرے اور نہ شورو غوغا کرے اور نہ جذبات کی رو میں بہ جائے (جہالت نادانی کاکام نہ کرے) اگر کوئی انسان اسے گالی یا لڑائی جھگڑے پر ابھارے تو وہ سوچ لے میں تو روزہ دار ہوں میں تو روزے دار ہوں۔‘‘ فلیقل دل میں کہے سوچ لے یا زبان سے کہہ دے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2703]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جس طرح روزے دار کے لیے کھانے پینے اورتعلقات زن وشوہر سے احتراز ضروری ہے، اسی طرح روزے کی حالت میں اپنی زبان اور دوسرے اعضاء کو خلاف شریعت کاموں سے بچانا ضروری ہے زبان سے فحش گفتگو یا فحش حرکات بلاضرورت شوروشرابا اورچیخ وپکار کرنا حلم وتحمل کے برعکس جذبات کی رو میں بہ کر جہالت ونادانی کے کام کرنا یا کوئی اشتعال دلا کر گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے پر آمادہ کرے تو اس کے ساتھ الجھنا درست نہیں ہے۔
بلکہ وہ دل میں سوچ لے یا ضرورت اور موقع ومحل کا تقاضا ہو تو زبان سے بھی کہہ دے، میں روزے دار ہوں اور میرے لیے سب وشتم اور لڑائی جھگڑا کرنا جائز ہے۔
‘‘شاتمه: گالی گلوچ پر ابھارے۔
قاتله: لڑائی جھگڑے پر اکسائے۔
بلکہ وہ دل میں سوچ لے یا ضرورت اور موقع ومحل کا تقاضا ہو تو زبان سے بھی کہہ دے، میں روزے دار ہوں اور میرے لیے سب وشتم اور لڑائی جھگڑا کرنا جائز ہے۔
‘‘شاتمه: گالی گلوچ پر ابھارے۔
قاتله: لڑائی جھگڑے پر اکسائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1151 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 764 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´روزے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارا رب فرماتا ہے: ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ جہنم کے لیے ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اگر تم میں سے کوئی جاہل کسی کے ساتھ جہالت سے پیش آئے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہہ دینا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 764]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارا رب فرماتا ہے: ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ جہنم کے لیے ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اگر تم میں سے کوئی جاہل کسی کے ساتھ جہالت سے پیش آئے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہہ دینا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 764]
اردو حاشہ:
1؎:
یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ اعمال سبھی اللہ ہی کے لیے ہوتے ہیں اور وہی ان کا بدلہ دیتا ہے پھر ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘ کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ روزے میں ریا کاری کا عمل دخل نہیں ہے جبکہ دوسرے اعمال میں ریا کاری ہو سکتی ہے کیونکہ دوسرے اعمال کا انحصار حرکات پر ہے جبکہ روزے کا انحصار صرف نیت پر ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ دوسرے اعمال کا ثواب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ اس سے سات سو گنا تک ہو سکتا ہے لیکن روزے کا ثواب صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ اللہ ہی اس کا ثواب دے گا دوسروں کے علم میں نہیں ہے اسی لیے فرمایا: ((الصَّوْمُ لِيْ وَأَنَا أَجْزِي بِه))
1؎:
یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ اعمال سبھی اللہ ہی کے لیے ہوتے ہیں اور وہی ان کا بدلہ دیتا ہے پھر ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘ کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ روزے میں ریا کاری کا عمل دخل نہیں ہے جبکہ دوسرے اعمال میں ریا کاری ہو سکتی ہے کیونکہ دوسرے اعمال کا انحصار حرکات پر ہے جبکہ روزے کا انحصار صرف نیت پر ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ دوسرے اعمال کا ثواب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ اس سے سات سو گنا تک ہو سکتا ہے لیکن روزے کا ثواب صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ اللہ ہی اس کا ثواب دے گا دوسروں کے علم میں نہیں ہے اسی لیے فرمایا: ((الصَّوْمُ لِيْ وَأَنَا أَجْزِي بِه))
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 764 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2363 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´روزے میں غیبت کی برائی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ (برائیوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے، جب تم میں کوئی صائم (روزے سے ہو) تو فحش باتیں نہ کرے، اور نہ نادانی کرے، اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2363]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ (برائیوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے، جب تم میں کوئی صائم (روزے سے ہو) تو فحش باتیں نہ کرے، اور نہ نادانی کرے، اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2363]
فوائد ومسائل:
(1) فحش گوئی اور اعمال جہالت سے مسلمان کو ہر حال میں بچنا چاہیے مگر روزہ دار کو ان سے پرہیز کی بہت زیادہ تاکید ہے۔
چنانچہ زبانی طور پر اپنے مقابل کو بتا دے کہ میں روزے سے ہوں اور غلط طرز عمل کو مزید بڑھنے بڑھانے سے باز رہے۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ یہ بات اپنے دل میں کہے اور اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ روزے سے ہے۔
لیکن یہ موقف ظاہر نص کے خلاف ہے۔
(2) اور روزے کی حالت میں اس ہدایت پر عمل کرنے ہی سے روزہ ڈھال ہو سکتا ہے۔
(1) فحش گوئی اور اعمال جہالت سے مسلمان کو ہر حال میں بچنا چاہیے مگر روزہ دار کو ان سے پرہیز کی بہت زیادہ تاکید ہے۔
چنانچہ زبانی طور پر اپنے مقابل کو بتا دے کہ میں روزے سے ہوں اور غلط طرز عمل کو مزید بڑھنے بڑھانے سے باز رہے۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ یہ بات اپنے دل میں کہے اور اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ روزے سے ہے۔
لیکن یہ موقف ظاہر نص کے خلاف ہے۔
(2) اور روزے کی حالت میں اس ہدایت پر عمل کرنے ہی سے روزہ ڈھال ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2363 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2218 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس حدیث میں ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے، شور و شغب نہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے مار پیٹ کرے تو اس سے کہہ دے (بھائی) میں روزے سے ہوں، (مار پیٹ گالی گلوچ کچھ نہیں کر سکتا) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2218]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے، شور و شغب نہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے مار پیٹ کرے تو اس سے کہہ دے (بھائی) میں روزے سے ہوں، (مار پیٹ گالی گلوچ کچھ نہیں کر سکتا) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2218]
اردو حاشہ: (1) ”ہر عمل اس کے لیے ہے۔“ یعنی ہر عمل میں چاہے تو وہ مخلص ہو، چاہے تو اخلاص کو ختم کر دے، اس کا مدار اسی پر ہے اور اس کا اس کو مفاد ہو سکتا ہے، مثلاً: لوگ اس کی تعریف کریں یا اس کو کچھ بدلہ وعوض دیں کیونکہ وہ اعمال لوگوں کو نظر آتے ہیں مگر روزہ تو صرف اللہ تعالیٰ کو نظر آتا ہے، لہٰذا اس کا مکمل اجر تو اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔
(2) ”نہ شہوانی بات کرے۔“ گویا یہ چیزیں روزے کی ڈھال میں سوراخ کرنے والی ہیں جس سے ڈھال ناکارہ ہو جائے گی۔
(3) ”وہ کہہ دے۔“ یعنی لڑائی کرنے والے سے کہے تاکہ اسے شرم آئے۔ یا اپنے دل میں کہے، اپنے آپ کو سمجھانے کے لیے، پہلا مفہوم الفاظ حدیث کے زیادہ قریب ہے۔
(2) ”نہ شہوانی بات کرے۔“ گویا یہ چیزیں روزے کی ڈھال میں سوراخ کرنے والی ہیں جس سے ڈھال ناکارہ ہو جائے گی۔
(3) ”وہ کہہ دے۔“ یعنی لڑائی کرنے والے سے کہے تاکہ اسے شرم آئے۔ یا اپنے دل میں کہے، اپنے آپ کو سمجھانے کے لیے، پہلا مفہوم الفاظ حدیث کے زیادہ قریب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2218 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2217 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس حدیث میں ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابن آدم جو بھی نیکی کرتا ہے ان اس کے لیے دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، وہ اپنی شہوت اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑتا ہے، روزہ ڈھال ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اسے اپنے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملنے کے وقت ح [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2217]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابن آدم جو بھی نیکی کرتا ہے ان اس کے لیے دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، وہ اپنی شہوت اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑتا ہے، روزہ ڈھال ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اسے اپنے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملنے کے وقت ح [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2217]
اردو حاشہ: (1) ”دس گنا سے سات سو گنا تک۔“ کم از کم دس گنا تو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وعدے کی بنا پر ہے: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ (الانعام: 160) ”جو شخص ایک نیکی لائے گا اس کے لیے اس کا دس گنا (ثواب) ہے۔“ اور زائد اپنے اپنے خلوص کی کمی بیشی کے لحاظ سے۔
(2) ”ڈھال ہے۔“ یعنی گناہوں سے اور قیامت کے دن آگ سے ڈھال ہوگا۔ گناہوں سے مضبوط ڈھال بنا رہا تو آگ سے بھی مضبوط ڈھال ہوگا۔ یہاں کمزور ڈھال ثابت ہوا تو آخرت میں بھی کمزور ڈھال ہوگا، لہٰذا روزے کو ہر قسم کی کمزوری سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
(2) ”ڈھال ہے۔“ یعنی گناہوں سے اور قیامت کے دن آگ سے ڈھال ہوگا۔ گناہوں سے مضبوط ڈھال بنا رہا تو آگ سے بھی مضبوط ڈھال ہوگا۔ یہاں کمزور ڈھال ثابت ہوا تو آخرت میں بھی کمزور ڈھال ہوگا، لہٰذا روزے کو ہر قسم کی کمزوری سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2217 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3823 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عمل کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی کا ہر عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3823]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی کا ہر عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3823]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: یہ حدیث کتا ب الصیام کے پہلے باب میں گزر چکی ہے۔
دیکھئے حدیث: 1638۔
فوائد و مسائل: یہ حدیث کتا ب الصیام کے پہلے باب میں گزر چکی ہے۔
دیکھئے حدیث: 1638۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3823 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1638 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´روزے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1638]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1638]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: یہ بندوں پر اللہ کا خاص فضل ہے۔
کہ بندہ جو اس کی توفیق سے نیکی کرتا ہے۔
اس کا ثواب صرف ایک نیکی کے برابر دینے کی بجائے بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
﴿مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ (الأنعام: 6: 160)
جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوا اس کے لئے اس کا دس گنا ہے۔
حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کی بیان کردہ یہ مقدار کم از کم ہے۔
ثواب اس سے کہیں زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔
(2)
ثواب کی کثرت کا دارومدار حسن نیت اخلاص اور اتباع سنت پر ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان اس قدر عظیم الشان تھا۔
کہ ان کا للہ کی راہ میں دیا ہوا آدھ سیر غلہ بعد والوں کے احد پہاڑ برابر سونا خرچ کرنے سے افضل ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 161)
اس لئے ہرشخص کے حالات وکیفیات کے مطابق نیکی کی ثواب سینکڑوں گنا تک پہنچ سکتا ہے۔
(3)
عمل وہی قبول ہوتا ہے۔
جو خالص اللہ کی رضا کےلئے کیا گیا ہو۔
ریا اور دکھاوے کی غرض سے کیا جانے والا عمل اللہ کے ہاں ناقابل قبول ہے۔
چونکہ روزے کا تعلق نیت سے ہوتا ہے۔
اور دوسرے ظاہری اعمال مثلا نماز زکواۃ اور حج وغیرہ کی نسبت روزہ پوشیدہ ہوتا ہے اور اس میں ریا کا شائبہ بھی کم ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے اس کےاجر کو بھی پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
(4)
روزے کا اصل فائدہ تبھی حاصل ہوتا ہے۔
جب انسان دل کی غلظ خواہشات پورا کرنے سے پرہیز کرے۔
یعنی جس طرح کھانا کھانے سے پرہیز کرتا ہے۔
اسی طرح جھوٹ اور غیبت وغیرہ سے بھی اجتناب کرے۔
(5)
روزہ کھولتے وقت اس بات کی خوشی ہوتی ہے۔
کہ اللہ کے فضل سے ایک نیک کام مکمل کرنے کی توفیق ملی۔
(6)
قیامت کو خوشی اس لئے ہوگی کہ روزے کا ثواب اس کی توقع سے بڑھ کرملے گا۔
اور اللہ کی رضا حاصل ہوگی۔
(7)
منہ کی بو سے بو مراد ہے۔
جو پیٹ خالی رہنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
چونکہ یہ اللہ کی اطاعت کا ایک کام کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
اس لئے اللہ کو بہت محبوب ہے۔
(8)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ روزے کی حالت میں شام کے وقت مسواک کرنے سے بچنا چاہیے۔
تاکہ اللہ کی پسندیدہ بو ختم نہ ہوجائے۔
لیکن یہ درست نہیں کیونکہ مسواک سے وہ بو ختم ہوتی ہے۔
جو منہ کی صفائی نہ ہونے کیوجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بو دوسری ہے۔
اس کا مسواک کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
فوائد ومسائل: یہ بندوں پر اللہ کا خاص فضل ہے۔
کہ بندہ جو اس کی توفیق سے نیکی کرتا ہے۔
اس کا ثواب صرف ایک نیکی کے برابر دینے کی بجائے بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
﴿مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ (الأنعام: 6: 160)
جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوا اس کے لئے اس کا دس گنا ہے۔
حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کی بیان کردہ یہ مقدار کم از کم ہے۔
ثواب اس سے کہیں زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔
(2)
ثواب کی کثرت کا دارومدار حسن نیت اخلاص اور اتباع سنت پر ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان اس قدر عظیم الشان تھا۔
کہ ان کا للہ کی راہ میں دیا ہوا آدھ سیر غلہ بعد والوں کے احد پہاڑ برابر سونا خرچ کرنے سے افضل ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 161)
اس لئے ہرشخص کے حالات وکیفیات کے مطابق نیکی کی ثواب سینکڑوں گنا تک پہنچ سکتا ہے۔
(3)
عمل وہی قبول ہوتا ہے۔
جو خالص اللہ کی رضا کےلئے کیا گیا ہو۔
ریا اور دکھاوے کی غرض سے کیا جانے والا عمل اللہ کے ہاں ناقابل قبول ہے۔
چونکہ روزے کا تعلق نیت سے ہوتا ہے۔
اور دوسرے ظاہری اعمال مثلا نماز زکواۃ اور حج وغیرہ کی نسبت روزہ پوشیدہ ہوتا ہے اور اس میں ریا کا شائبہ بھی کم ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے اس کےاجر کو بھی پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
(4)
روزے کا اصل فائدہ تبھی حاصل ہوتا ہے۔
جب انسان دل کی غلظ خواہشات پورا کرنے سے پرہیز کرے۔
یعنی جس طرح کھانا کھانے سے پرہیز کرتا ہے۔
اسی طرح جھوٹ اور غیبت وغیرہ سے بھی اجتناب کرے۔
(5)
روزہ کھولتے وقت اس بات کی خوشی ہوتی ہے۔
کہ اللہ کے فضل سے ایک نیک کام مکمل کرنے کی توفیق ملی۔
(6)
قیامت کو خوشی اس لئے ہوگی کہ روزے کا ثواب اس کی توقع سے بڑھ کرملے گا۔
اور اللہ کی رضا حاصل ہوگی۔
(7)
منہ کی بو سے بو مراد ہے۔
جو پیٹ خالی رہنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
چونکہ یہ اللہ کی اطاعت کا ایک کام کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
اس لئے اللہ کو بہت محبوب ہے۔
(8)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ روزے کی حالت میں شام کے وقت مسواک کرنے سے بچنا چاہیے۔
تاکہ اللہ کی پسندیدہ بو ختم نہ ہوجائے۔
لیکن یہ درست نہیں کیونکہ مسواک سے وہ بو ختم ہوتی ہے۔
جو منہ کی صفائی نہ ہونے کیوجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بو دوسری ہے۔
اس کا مسواک کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1638 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1691 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´غیبت اور فحش کلامی پر روزہ دار کے لیے وارد وعید کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو گندی اور فحش باتیں اور جماع نہ کرے، اور نہ ہی جہالت اور نادانی کا کام کرے، اگر کوئی اس کے ساتھ جہالت اور نادانی کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1691]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو گندی اور فحش باتیں اور جماع نہ کرے، اور نہ ہی جہالت اور نادانی کا کام کرے، اگر کوئی اس کے ساتھ جہالت اور نادانی کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1691]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: (1)
روزے کے فوائد کماحقہ حاصل کرنے کے لئے آداب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے
(2)
جہل (ناروا حرکت)
سے مراد لڑائی جھگڑے کی بات ہے۔
یعنی روزے دار کو لڑائی میں پہل بھی نہیں کرنی چاہیے۔
اور اگر کوئی دوسرا شخص ایسی بات کرے۔
یا ایسی حرکت کرے جس سےروزے دار کو غصہ آجائے تب بھی روزے دار کو جواب میں جھگڑنا نہیں چاہیے بلکہ اپنے روزے کا خیال کرتے ہوئے برداشت اورتحمل سے کام لیتے ہوئے جھگڑے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(3)
یہ کہنا کہ میں روزے سے ہوں اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ دل میں اپنے روزے کا خیال کرے تاکہ جھگڑے سے بچنا ممکن ہوسکے۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جھگڑنے والے سے کہہ دے کہ میں تمہاری غلط حرکت کا جواب تمہارے انداز میں اس لئے نہیں دے رہا کہ میرا روزہ مجھے اس سے روکتا ہے۔
امید ہے اس سے اس کو شرم آ جائے گی۔
اور وہ روزے دار کے روزے کا احترام کرتے ہوئے جھگڑا ختم کردے گا۔
فوائد و مسائل: (1)
روزے کے فوائد کماحقہ حاصل کرنے کے لئے آداب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے
(2)
جہل (ناروا حرکت)
سے مراد لڑائی جھگڑے کی بات ہے۔
یعنی روزے دار کو لڑائی میں پہل بھی نہیں کرنی چاہیے۔
اور اگر کوئی دوسرا شخص ایسی بات کرے۔
یا ایسی حرکت کرے جس سےروزے دار کو غصہ آجائے تب بھی روزے دار کو جواب میں جھگڑنا نہیں چاہیے بلکہ اپنے روزے کا خیال کرتے ہوئے برداشت اورتحمل سے کام لیتے ہوئے جھگڑے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(3)
یہ کہنا کہ میں روزے سے ہوں اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ دل میں اپنے روزے کا خیال کرے تاکہ جھگڑے سے بچنا ممکن ہوسکے۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جھگڑنے والے سے کہہ دے کہ میں تمہاری غلط حرکت کا جواب تمہارے انداز میں اس لئے نہیں دے رہا کہ میرا روزہ مجھے اس سے روکتا ہے۔
امید ہے اس سے اس کو شرم آ جائے گی۔
اور وہ روزے دار کے روزے کا احترام کرتے ہوئے جھگڑا ختم کردے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1691 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 246 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´روزے کی فضیلت`
«. . . 342- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”الصيام جنة، فإذا كان أحدكم صائما فلا يرفث ولا يجهل، فإن امرؤ قاتله أو شاتمه فليقل: إني صائم، إني صائم.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے، پس اگر تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو فحش بات نہ کہے اور نہ جہالت کی بات کہے، اگر کوئی آدمی اس سے لڑے یا گالیاں دے تو یہ کہہ دے میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 246]
«. . . 342- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”الصيام جنة، فإذا كان أحدكم صائما فلا يرفث ولا يجهل، فإن امرؤ قاتله أو شاتمه فليقل: إني صائم، إني صائم.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے، پس اگر تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو فحش بات نہ کہے اور نہ جہالت کی بات کہے، اگر کوئی آدمی اس سے لڑے یا گالیاں دے تو یہ کہہ دے میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 246]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1894، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ روزے کے تقاضے پورے کرنے والے مسلمان، روزے کی حالت میں برائیوں سے اس طرح محفوظ رہتے ہیں جس طرح ڈھال کے ذریعے سے مخالف کی تلوار وغیرہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔
➋ قیامت کے دن روزے جہنم کی آگ سے بچائیں گے۔
➌ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: آپ مجھے کوئی حکم دیں جسے میں (مضبوطی سے) پکڑ لوں۔ آپ نے فرمایا: «عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ۔» تو روزے رکھ، کیونکہ ان جیسا کوئی (عمل) نہیں ہے۔ [سنن النسائي 4/165 ح2222 وسنده صحيح وصححه ابن حبان: 929 وابن حجر فى فتح الباري 4/104، تحت ح1894]
➍ روزے کی حالت میں ممنوعہ کاموں میں سے بعض کا ارتکاب روزے کو ختم کر سکتا ہے اور اس کے ثواب کو بھی ملیامیٹ کرسکتا ہے لہٰذا ہر قسم کے ممنوعہ امور سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔
➎ دن کو روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع جائز نہیں ہے لیکن روزہ افطار کرنے کے بعد رات کو صبح طلوع ہونے سے پہلے تک جائز ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث: 343]
[وأخرجه البخاري 1894، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ روزے کے تقاضے پورے کرنے والے مسلمان، روزے کی حالت میں برائیوں سے اس طرح محفوظ رہتے ہیں جس طرح ڈھال کے ذریعے سے مخالف کی تلوار وغیرہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔
➋ قیامت کے دن روزے جہنم کی آگ سے بچائیں گے۔
➌ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: آپ مجھے کوئی حکم دیں جسے میں (مضبوطی سے) پکڑ لوں۔ آپ نے فرمایا: «عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ۔» تو روزے رکھ، کیونکہ ان جیسا کوئی (عمل) نہیں ہے۔ [سنن النسائي 4/165 ح2222 وسنده صحيح وصححه ابن حبان: 929 وابن حجر فى فتح الباري 4/104، تحت ح1894]
➍ روزے کی حالت میں ممنوعہ کاموں میں سے بعض کا ارتکاب روزے کو ختم کر سکتا ہے اور اس کے ثواب کو بھی ملیامیٹ کرسکتا ہے لہٰذا ہر قسم کے ممنوعہ امور سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔
➎ دن کو روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع جائز نہیں ہے لیکن روزہ افطار کرنے کے بعد رات کو صبح طلوع ہونے سے پہلے تک جائز ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث: 343]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 342 سے ماخوذ ہے۔