1033 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَي بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ: «ارْكَبْهَا» ، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: «ارْكَبْهَا» ، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: «ارْكَبَنَّهَا وَيْلَكَ، أَوْ وَيْحَكَ ارْكَبْهَا»سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس گزرے جو اپنے قربانی کے جانوروں کو ساتھ لے کر جا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ!“ اس نے عرض کی: یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کی: یہ قربانی کا جانور ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔ تم برباد ہو جاؤ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تمہارا ستیاناس ہو! تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
«بدنته» اس جانور کو کہا: جا تا ہے جس کو قربانی کے لیے خاص کیا گیا ہو، نیز اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کے لیے خاص کیے ہوئے جانور پر سواری کرنا درست ہے۔
اگر کوئی مکان وقف کرے تو اس میں خود بھی رہ سکتا ہے۔
یہ بھی ظاہر ہوا کہ قربانی کے جانور پر بوقت ضرورت سواری کی جا سکتی ہے، اگر وہ دودھ دینے والا جانور ہے تو اس کا دودھ بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے و۔
وہ جانور برائے قربانی متعین کرنے کے بعد عضو معطل نہیں بن جاتا۔
عام طور پر مشرکین اپنے شرکیہ افعال کے لئے موسوم کردہ جانوروں کو بالکل آزاد سمجھنے لگ جاتے ہیں جو ان کی نادانی کی دلیل ہے، غیر اللہ کے ناموں پر اس طرح جانور چھوڑنا شرک ہے۔
(1)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ وقف کرنے والا اپنی وقف کی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اگرچہ اس نے اپنے لیے فائدہ اٹھانے کی شرط نہ کی ہو۔
حدیث میں اونٹ کا ذکر ہے، اس پر مکان وغیرہ کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی مکان وقف کرے تو اس کے کسی حصے میں خود بھی رہائش رکھی جا سکتی ہے۔
(2)
یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور پر بوقت ضرورت سواری کی جا سکتی ہے۔
اگر وہ دودھ دینے والا جانور ہو تو اس کا دودھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
قربانی کے لیے متعین کرنے کے بعد اسے بالکل بے کار نہیں بنا دینا چاہیے جیسا کہ مشرکین اس طرح کے جانوروں کو بالکل آزاد کر دیتے تھے۔
بہرحال امام بخاری ؒ کے نزدیک وقف مطلق اور صدقۂ مطلق میں کوئی فرق نہیں۔
اس سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔
وقف مشروط کے متعلق امام بخاری ؒ نے آئندہ مستقل عنوان بھی قائم کیا ہے، وہاں تفصیل سے اس موضوع پر گفتگو ہو گی۔
(صحیح البخاري، الوقف، باب: 33)
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ویلك بول کر اس کو اونٹ پر سوار کرایا۔
معلوم ہوا کہ ایسے مواقع پر لفظ ویلك بول سکتے ہیں یعنی تجھ پر افسوس ہے۔
اسلام نے اس غلط تصور کو ختم کیا اور آنحضرت ﷺ نے باصرار حکم دیا کہ اس پر سواری کرو تاکہ راستہ کی تھکن سے بچ سکو۔
قربانی کے جانور ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے معطل کرکے چھوڑ دیا جائے۔
اسلام اسی لیے دین فطرت ہے کہ اس نے قدم قدم پر انسانی ضروریات کو ملحوظ نظر رکھا ہے اور ہر جگہ عین ضروریات انسانی کے تحت احکامات صادر کئے ہیں، خود عرب میں اطراف مکہ سے جو لاکھوں حاجی آج کل بھی حج کے لیے مکہ شریف آتے ہیں ان کے لیے یہی احکام ہیں باقی دور دراز ممالک اسلامیہ سے آنے والوں کے لیے قدرت نے ریل، موٹر، جہاز وجود پذیر کرد ئیے ہیں۔
یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ آج کل سفر حج بے حد آسان ہو گیا پھر بھی کوئی دولت مند مسلمان حج کو نہ جائے تو اس کی بدبختی میں کیا شبہ ہے۔
مگر ایک بھی کافی ہو جاتی ہے۔
(1)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے لیے روانہ ہوتے وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنی قربانی کی اونٹنی منگوائی اور کوہان کی دائیں جانب نیزہ مارا، وہاں سے خون بہا کر اسے علامت لگا دی کہ یہ قربانی کا جانور ہے اور اس سے خون صاف کر دیا، پھر اس کے گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈالا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3016(1243) (2)
بعض حضرات کا موقف ہے کہ قربانی کو ہار پہنانے کے لیے جوتے متعین نہیں ہیں کوئی بھی چیز نشانی اور علامت کے طور پر گلے میں لٹکائی جا سکتی ہے۔
(3)
جوتے کے ہار میں یہ حکمت بیان کی جاتی ہے کہ عرب جوتوں کو سواری شمار کرتے تھے کیونکہ وہ پہننے والے کی حفاظت کرتے ہیں اور راستے کی گندگی اٹھا لیتے ہیں۔
کسی جانور کے گلے میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ جانور اس کی سواری نہیں رہا بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے وقف ہو گیا ہے۔
اس اعتبار سے جوتوں کے ہار کو مستحب کہا جاتا ہے۔
(4)
محمد بن بشار کی متابعت ہمیں نہیں مل سکی۔
(فتح الباري: 693/3)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس پر سوار ہو جاؤ "، وہ بولا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس پر سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎ "، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار میں فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1760]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا ہے آپ نے فرمایا: " اس پر سوار ہو جاؤ "، اس نے کہا: اللہ کے رسول! ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ نے (پھر) فرمایا: " سوار ہو جاؤ "، تمہارا، برا ہو، راوی کو شک ہے «ويلك» " تمہارا برا ہو " ۱؎ کا کلمہ آپ نے دوسری بار میں کہا یا تیسری بار میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2801]
(2) پہلی دفعہ فرمانے پر وہ اس لیے سوار نہ ہوا کہ شاید رسول اللہﷺ کو علم نہ ہو کہ یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ دوبارہ پھر وہ سوار نہ ہوا کہ ابھی متردد تھا، پھر جب آپ نے سختی سے فرمایا اور اس کو بھی کوئی اشکال باقی نہ رہا تو پھر وہ سوار ہوا۔
(3) "تجھ پر افسوس!" ظاہراً تو یہ بددعا ہے مگر عرف عام میں یہ کلمہ ترحم وشفقت ہے۔ آپ کا مقصود بھی بددعا دینا نہ تھا۔
(4) "دوسری یا تیسری دفعہ" آئندہ حدیث میں "چوتھی دفعہ" کا ذکر بھی ہے۔
(5) جس طرح مجبوراً سوار ہونا جائز ہے، اسی طرح اس پر سامان سفر بھی لادا جا سکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: " اس کا کیا معاملہ ہے "؟ اس کے بیٹوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بوڑھے سوار ہو جاؤ، اللہ تم سے اور تمہاری نذر سے بے نیاز ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2135]
فوائد و مسائل:
(1)
ایسی نذر ماننا درست نہیں جسے پورا کرنے میں انتہائی مشقت ہو۔
(2)
جب انسان محسوس کرے کہ نذر پوری کرنا بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے تو نذر توڑ کر کفارہ دے دے۔
(3)
اپنے آپ پر اتنی مشقت ڈالنا مناسب نہیں جس کو نبھانا دشوار ہو۔
اللہ کی رضا ان اعمال کی خلوص کے ساتھ ادائیگی کے ساتھ بھی حاصل ہو سکتی ہے جسے آدمی آسانی سے ادا کرسکے، تاہم نفلی عبادات کا مناسب حد تک اہتمام کرنا ضروری ہے۔
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک آدمی قربانی کے جانور کو اس کے گلے میں پٹہ ڈالے پیدل ہانکے چلا جا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: "اس پر سوار ہو جا"، اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کا جانور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تجھ پر افسوس ہے! اس پر سوار ہو جا، تجھ پر افسوس ہے! اس پر سوار بھی ہو جا۔" [صحيفه همام بن منبه/متفرق/حدیث: 11]
2- بہتر یہ ہے کہ حکم کی فورا تعمیل کی جائے، اور قاعدہ بھی یہی ہے کہ ((اَلْأَمْرُ لِلْفَوْرِ)) "امر فی الفور کام کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ "
3- اور جو کوئی حکم کی تعمیل میں دیر کرے، اسے ادب سکھانا بھی ثابت ہے، نبی صلی الله علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ آدمی اونٹ پر ایک مرتبہ کہنے سے سوار نہیں ہوا، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اسے دو مرتبہ ڈانٹا، اور کہا: ((وَيْلَكَ)) "تجھ پر افسوس ہے."
4- جب کوئی شخص کسی کے لیے کسی کام میں مصلحت دیکھے تو اس کی طرف اس کی رہنمائی کرنے میں بالکل دیر نہ کرے، جیسا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کیا۔
5- اور علامت کے طور پر جانوروں کے گلے میں پٹہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
6- اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حاجی اپنے قربانی کے جانور مثلاً اونٹ وغیرہ پر بوقت ضرورت سوار ہو کر حج کا سفر کر سکتا ہے۔ ایسا کرنا بالکل جائز ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا علی رضی الله عنہ سے سوال کیا گیا: ((هَلْ يَرْكَبُ الرَّجُلُ هَدِيَّته؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ، قَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالرِّجَالِ يَمْشُوْنَ فَيَأْمُرُهُمْ بِرُكُوْبِ هَدِيَّتِهِمْ.))
"کیا کوئی شخص قربانی کے جانور پر سوار ہو سکتا ہے؟ تو آپ رضی الله عنہ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، یقیناً نبی صلی الله علیہ وسلم پیدل چلنے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے تھے تو آپ صلی الله علیہ وسلم ان کو ان کے قربانی کے جانوروں پر سوار ہونے کا حکم دیتے۔ "
بوقت مجبوری کوئی بھی شخص قربانی کے جانور پر سوار ہوگا وگرنہ نہیں، اور جب ضرورت پوری ہو جائے تو آدمی سواری سے اتر جائے۔ صحیح مسلم میں ہے: ((اِرْكَبْهَا بِالْمَعْرُوْفِ إِذَا اُلْجِئْتَ إِلَيهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا)) (صحیح مسلم: 3214)
"جب تم مجبور ہو تو اچھے طریقے سے اس پر سوار ہو جاؤ، اس وقت تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری نہ ملے۔ "
مذکورہ حدیث کے مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ جب دوسری سواری مل جائے تو اس پر سوار نہیں ہو سکتے۔
ابراہیم نخعی رحمة الله علیہ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ تھک جاتے تو تھوڑی دیر کے لیے سوار ہوجاتے اور جب تھکان دور ہو جاتی تو اس سے اتر جاتے۔ (عمدة القاری: 8/ 192-193)
زمانہ جاہلیت میں عرب لوگ سائبہ وغیرہ جو جانور مذہبی نیاز نذر کے طور پر چھوڑ دیتے۔ اور ان پر سوار ہونا معیوب جانا کرتے تھے۔ قربانی کے جانوروں کے متعلق بھی جو کعبہ میں لے جائے جائیں ان کا ایسا ہی تصور تھا۔ اسلام نے اس غلط تصور کو ختم کیا، اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ادب سکھاتے ہوئے حکم دیا کہ اس پر سواری کرو تاکہ راستہ کی تھکن سے بچ سکو۔ قربانی کے جانور ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے معطل کرکے چهوڑ دیا جائے، اسلام اسی لیے دین فطرت ہے کہ اس نے قدم قدم پر انسانی ضروریات کو ملحوظ نظر رکھا ہے اور ہر جگہ عین ضروریات انسانی کے تحت احکامات صادر کیے ہیں۔ خود عرب میں اطراف مکہ سے جو لاکھوں حاجی حج کے لیے مکہ شریف آتے ہیں ان کے لیے یہی احکام ہیں۔ آج کل باقی دور دراز اسلامی ممالک سے آنے والوں کے لیے ریل، موٹر گاڑیاں، بحری و ہوائی جہاز موجود ہیں۔ یہ محض الله کا فضل ہے کہ آج کل سفر حج بے حد آسان ہو گیا ہے، پھر بھی کوئی دولت مند مسلمان حج کو نہ جائے تو اس کی بدبختی میں کیا شبہ ہے۔
«. . . 350- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا يسوق بدنة، فقال: "اركبها" فقال: يا رسول الله، إنها بدنة، فقال: "اركبها" فقال: يا رسول الله، إنها بدنة، فقال: "ويلك" فى الثانية والثالثة. . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی دیکھا جو قربانی کا جانور لے کر (پیدل) جا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس پر سوار ہو جاؤ۔ " اس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ قربانی کا جانور ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس پر سوار ہو جاؤ۔ " اس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ قربانی کا جانور ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری دفعہ فرمایا: "تمہاری خرابی ہو (اس پر سوار ہو جاؤ)۔" . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 343]
[وأخرجه البخاري 1689، ومسلم 1322، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنا ضروری ہے۔
➋ حدیث حجت ہے۔
➌ قربانی والے جانور پر بوقتِ ضرورت سواری جائز ہے۔
➍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی مخالفت میں خرابی ہی خرابی ہے۔
➎ حج کے لئے پیدل اور سوار ہو کر دونوں طرح جانا جائز ہے۔
➏ اپنے آپ کو شرعی عذر کے بغیر مشقت میں ڈالنا جائز نہیں ہے۔