حدیث نمبر: 1030
1030 - ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مردوں کی سب سے زیادہ بہتر ان کی پہلی صف ہوتی ہے اور سب سے کم بہتر آخری ہوتی ہے۔ جبکہ خواتین کی سب سے زیادہ بہتر آخری ہوتی ہے اور سب سے کم بہتر پہلی ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1030
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 440، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1561، 1693، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2179، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 819 ، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 896، وأبو داود فى «سننه» برقم: 678، والترمذي فى «جامعه» برقم: 224، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1304، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1000، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5209، 5210، 5248، 5249، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7479، 8544»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 821 | صحيح مسلم: 440 | سنن ترمذي: 224 | سنن ابي داود: 678 | سنن ابن ماجه: 1000

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1030- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: مردوں کی سب سے زیادہ بہتر ان کی پہلی صف ہوتی ہے اور سب سے کم بہتر آخری ہوتی ہے۔ جبکہ خواتین کی سب سے زیادہ بہتر آخری ہوتی ہے اور سب سے کم بہتر پہلی ہوتی ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1030]
فائدہ:
اس حدیث میں عورتوں کی بہترین صف آ خری صف کو کہا گیا ہے، اور مردوں کی بہترین صف پہلی صف کو کہا گیا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خواتین مسجد میں باجماعت نماز ادا کر سکتی ہیں، امام کے پیچھے مردوں کی صفیں ہوں گی، پھر مردوں کے پیچھے عورتیں صفیں بنائیں گی۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1030 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 821 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عورتوں کی سب سے بہتر اور مردوں کی سب سے بدتر صفوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎، اور بد تر صف آخری صف ہے ۲؎، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے ۳؎، اور ان کی سب سے بدتر صف پہلی صف ہے ۴؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 821]
821۔ اردو حاشیہ: مردوں کے لیے پہلی صف ہر لحاظ سے بہترین ہے کیونکہ صف اول افضل بھی ہے اور عورتوں سے دور بھی۔ بہترین سے مراد بہت زیادہ ثواب والی۔ مردوں کی آخری صف ثواب اور درجے کے لحاظ سے بھی کم ثواب والی ہے اور اگر وہ عورتوں سے قریب ہے تو مزید نقص پیدا ہو جائے گا کیونکہ مردوں اور عورتوں کا قرب نماز سے غفلت اور فتنے کا موجب ہے۔ عورتوں کی اول صف کا بدترین اور آخری صف کا بہترین ہونا تب ہے کہ اگر وہ مردوں کے پیچھے کھڑی ہیں۔ اگر وہ مردوں سے الگ ہیں تو یہ فرق نہیں ہو گا۔ ویسے عورت کی افضل نماز گھر ہی میں ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ عورت کے مسجد میں آکر باجماعت نماز پڑھنے کو اس کے گھر میں نماز پڑھنے سے افضل یا اس کے برابر کر دے تو کوئی بعید امر نہیں مگر ہم ظاہری نص کی روشنی میں یہی کہیں گے کہ عورت کی نماز گھر ہی میں افضل ہے الا یہ کہ مسجد میں نماز باجماعت کے علاوہ تعلیم و تربیت کی محفل کا بھی اہتمام ہو تو ممکن ہے اس غرض سے آنے والی خاتون افضلیت کو پالے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 821 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 224 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پہلی صف کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎ اور سب سے بری آخری صف اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ۲؎ ہے اور سب سے بری پہلی صف ۳؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 224]
اردو حاشہ:
1؎:
پہلی صف سے مراد وہ صف ہے جو امام سے متصل ہو ’’سب سے بہتر صف پہلی صف ہے‘‘ کامطلب یہ ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے اس میں جو لوگ ہوتے ہیں وہ امام سے براہِ راست فائدہ اٹھاتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں اور بُرے خیالات سے محفوظ رہتے ہیں، اور آخری صف سب سے بُری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے، یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔

2؎:
عورتوں کی سب سے آخری صف اس لیے بہتر ہے کہ یہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس صف میں شریک عورتیں شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں۔

3؎:
یہ حکم اس صورت میں ہے جب مردوں، عورتوں کی صفیں آگے پیچھے ہوں، اگر عورتیں مردوں سے الگ نماز پڑھ رہی ہوں تو ان کی پہلی صف ہی بہتر ہو گی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 224 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 678 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورتوں کی صف کا بیان اور یہ کہ وہ پہلی صف سے پیچھے ہو۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی بہترین صف (اجر و فضیلت میں) پہلی صف ہے اور کم تر آخری صف ہے۔ اور عورتوں کی بہترین صف وہ ہے جو سب سے آخر میں ہو اور (اجر و فضیلت میں) کم تر وہ ہے جو سب سے پہلی ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 678]
678۔ اردو حاشیہ:
مردوں کے لیے نمازوں اور دیگر امور حیات کے لیے گھروں سے باہر نکلنا مطلو ب ہے، اس لیے ان کے لیے اولین صف میں جگہ اور زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں گزارنا باعث اجر و فضلیت ہے اور جوجس قدر تاخیر سے آتا ہے اس کا درجہ کم ہوتا چلا جاتا ہے مگر عورتوں کے لیے افضل و اعلیٰ یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ٹکی رہیں۔ تاہم نماز کے لیے ان کا مسجد میں آنا جائز ہے، تو جو عورت عین وقت پر گھر سے نکلتی اور کم سے کم وقت گھر سے باہر رہتی ہے اور اس وجہ سے آخری صفوں میں جگہ پاتی ہے، وہ افضل ہے اس عورت سے جو پہلے آتی، پہلی صف میں جگہ لیتی اور زیادہ وقت گھر سے باہر رہتی ہے۔ نیز مردوں کی آخری صف عورتوں سے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی پہلی صف مردوں کے قریب ہوتی ہے۔ اس لیے بھی ان دونوں صفوں کو کمتر درجے کی قرار دیا گیا جبکہ مردوں کی پہلی صف اور عورتوں کی آخری صف ایک دوسرے سے دور ہوتی ہے اور وہاں تشویش اور توجہ بٹنے کا اندیشہ نہیں رہتا اس لیے ان کا اجر زیادہ ہے۔ آج کل مردوں اور عورتوں کی نماز میں باقاعدہ آڑ اور الگ حصے کا جو انتظام ہے، اس میں اس تشویش کا بھی امکان بہت کم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 678 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1000 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عورتوں کی صف کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے ۱؎، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1000]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بہترین صف سے مراد وہ صف ہے۔
جس میں ثواب سب سے زیادہ ہے۔
اور سب سے نکمی صف سے مراد وہ صف ہے۔
جس میں ثواب سب سے کم ہے۔
تاہم ثواب اس میں بھی موجود ہے
(2)
عورتوں کی پچھلی صفوں کے افضل ہونے کی حکمت یہ ہے کہ وہ مردوں کے اختلاط سے دور ہوتی ہیں۔
اسی وجہ سے عورت کا گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1000 سے ماخوذ ہے۔