حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1029
1029 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذَّنِينَ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: ”امام ضامن ہے اور مؤذن امانت دار ہے۔ اے اللہ! اماموں کی رہنمائی کر اور اذان دینے والوں کی مغفرت کر دے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1029- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ”امام ضامن ہے اور مؤذن امانت دار ہے۔ اے اللہ! اماموں کی رہنمائی کر اور اذان دینے والوں کی مغفرت کر دے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1029]
فائدہ:
اس حدیث میں مؤذن اور امام کو تاکید کی گئی ہے کہ اسلام کے اہم ترین رکن نماز کا وقت پر ادا کرنا بہت ہی ضروری ہے، اور اگر مؤذن اور امام سستی کریں گے تو اس اہم ترین رکن ” نماز“ میں کمی واقع ہوگی۔ بلکہ اس سے بڑھ کر امام اور مؤذن کا تعلق پورے گاؤں اور محلے سے ہوتا ہے، اس سے امام اور مؤذن کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ہر وقت الرٹ رہنا چاہیے۔
اس حدیث میں مؤذن اور امام کو تاکید کی گئی ہے کہ اسلام کے اہم ترین رکن نماز کا وقت پر ادا کرنا بہت ہی ضروری ہے، اور اگر مؤذن اور امام سستی کریں گے تو اس اہم ترین رکن ” نماز“ میں کمی واقع ہوگی۔ بلکہ اس سے بڑھ کر امام اور مؤذن کا تعلق پورے گاؤں اور محلے سے ہوتا ہے، اس سے امام اور مؤذن کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ہر وقت الرٹ رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1028 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 207 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´امام ضامن اور مؤذن امین ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” امام ضامن ہے ۱؎ اور مؤذن امین ۲؎ ہے، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ۳؎ اور مؤذنوں کی مغفرت فرما “ ۴؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 207]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” امام ضامن ہے ۱؎ اور مؤذن امین ۲؎ ہے، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ۳؎ اور مؤذنوں کی مغفرت فرما “ ۴؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 207]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی امام مقتدیوں کی نماز کا نگراں اور محافظ ہے، کیونکہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام کی نماز کی صحت پر موقوف ہے، اس لیے اسے آداب طہارت اور آداب نماز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
2؎:
یعنی لوگ اس کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں، اس لیے اسے وقت کا خیال رکھنا چاہئے، نہ پہلے اذان دے اور نہ دیر کرے۔
3؎:
یعنی جو ذمہ داری انہوں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآں ہونے کی توفیق دے۔
4؎:
یعنی اس امانت کی ادائیگی میں ان سے جو کوتاہی ہو اسے بخش دے۔
1؎:
یعنی امام مقتدیوں کی نماز کا نگراں اور محافظ ہے، کیونکہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام کی نماز کی صحت پر موقوف ہے، اس لیے اسے آداب طہارت اور آداب نماز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
2؎:
یعنی لوگ اس کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں، اس لیے اسے وقت کا خیال رکھنا چاہئے، نہ پہلے اذان دے اور نہ دیر کرے۔
3؎:
یعنی جو ذمہ داری انہوں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآں ہونے کی توفیق دے۔
4؎:
یعنی اس امانت کی ادائیگی میں ان سے جو کوتاہی ہو اسے بخش دے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 207 سے ماخوذ ہے۔