حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1028
1028 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَرَأَي رَجُلًا يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ بَعْدَ الْأَذَانِ، فَقَالَ: «أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
اشعث بن سلیم محاربی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف فرما تھے انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اذان ہونے کے بعد مسجد سے باہر چلا گیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1028-اشعث بن سلیم محاربی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف فرما تھے انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جواذان ہونے کے بعد مسجد سے باہر چلا گیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے سیدنا ابوالقاسم رضی اللہ عنہ کی نافرمانی کی ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1028]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اذان ہو جانے کے بعد مسجد سے باہر نہیں نکلنا چاہیے، اس سے وہ صورت مستثنٰی ہے کہ اگر مسجد میں ایسا آدمی بھی موجود ہے جس نے کسی دوسری مسجد میں جا کر نماز کروانی ہے یا کسی نے دوسری مسجد میں جا کر درس دینا ہے، وہ مسجد سے نکل سکتا ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اذان ہو جانے کے بعد مسجد سے باہر نہیں نکلنا چاہیے، اس سے وہ صورت مستثنٰی ہے کہ اگر مسجد میں ایسا آدمی بھی موجود ہے جس نے کسی دوسری مسجد میں جا کر نماز کروانی ہے یا کسی نے دوسری مسجد میں جا کر درس دینا ہے، وہ مسجد سے نکل سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1027 سے ماخوذ ہے۔