حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1026
1026 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ، أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ بِهِ جَنَابَةٌ فَلَا يَنَمْ حَتَّي يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس شخص کو جنابت لاحق ہو وہ اس وقت تک نہ سوئے جب تک وہ نماز کے وضو کی طرح وضو نہیں کر لیتا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1026- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جسں شخص کو جنابت لاحق ہو وہ اس وقت تک نہ سوئے جب تک وہ نماز کے وضو کی طرح وضو نہیں کرلیتا۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1026]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنبی سونے سے پہلے وضو کر لے، پھر سوئے اور یہ وضو کرنا مستحب ہے، وضو صرف نماز کے لیے کرنا فرض ہے، باقی تمام امور کے لیے وضو کرنا مستحب ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنبی سونے سے پہلے وضو کر لے، پھر سوئے اور یہ وضو کرنا مستحب ہے، وضو صرف نماز کے لیے کرنا فرض ہے، باقی تمام امور کے لیے وضو کرنا مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1025 سے ماخوذ ہے۔