حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1008
1008 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرُو بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا وَهُنَّ تَفِلَاتٌ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مساجد میں جانے سے نہ روکو اور خواتین ایسی حالت میں نہ نکلیں کہ ان سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1008- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مساجد میں جانے سے نہ روکو اور خواتین ایسی حالت میں نہ نکلیں کہ ان سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1008]
فائدہ:
تقدم: 950، اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورتیں اگر مسجد میں نماز پڑھنے کی غرض سے جانا چا ہیں اور وہ اجازت طلب کریں تو انھیں اجازت دے دینی چاہیے۔ موجودہ دور پرفتن ہے، جب کوئی عورت مسجد میں جانا چاہے تو اگر ممکن ہو سکے محرم ساتھ جائے اور مسجد میں چھوڑ کر واپس آ جائے، پھر نماز کے اختتام پر وہ خود جا کر گھر واپس لے آئے۔
تقدم: 950، اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورتیں اگر مسجد میں نماز پڑھنے کی غرض سے جانا چا ہیں اور وہ اجازت طلب کریں تو انھیں اجازت دے دینی چاہیے۔ موجودہ دور پرفتن ہے، جب کوئی عورت مسجد میں جانا چاہے تو اگر ممکن ہو سکے محرم ساتھ جائے اور مسجد میں چھوڑ کر واپس آ جائے، پھر نماز کے اختتام پر وہ خود جا کر گھر واپس لے آئے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1007 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 565 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورتوں کے مسجد جانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 565]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 565]
565۔ اردو حاشیہ:
یہ عمل عورتوں کے لئے اپنے شوق پر مبنی ہے اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے۔ صحابیات آیا کرتی تھیں لیکن اس کے لئے ضرورری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔ تاہم افضل یہی ہے کہ عورتیں گھر میں باپردہ ہو کر نماز پڑھیں۔ جیسا کہ آئندہ کی مذید احادیث سے واضح ہے۔
یہ عمل عورتوں کے لئے اپنے شوق پر مبنی ہے اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے۔ صحابیات آیا کرتی تھیں لیکن اس کے لئے ضرورری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔ تاہم افضل یہی ہے کہ عورتیں گھر میں باپردہ ہو کر نماز پڑھیں۔ جیسا کہ آئندہ کی مذید احادیث سے واضح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 565 سے ماخوذ ہے۔