کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: حدیث نمبر 1298
حدیث نمبر: 1298
1298 - أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَي قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَجِيءَ بِهِ إِلَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ، فَنَهَانِي قَوْمِي، وَأُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ، وَيَنْهَانِي قَوْمِي، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُفِعَ بِهِ، فَسَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ، فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» ، قَالُوا: ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا تَبْكُوا، أَوْ فَلِمَ تَبْكِي؟ فَمَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّي رُفِعَ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے موقع پر میرے والد شہید ہو گئے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا ان کی میت کی بے حرمتی کی گئی تھی میں نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے کا ارادہ کیا، تو میری قوم کے افراد نے مجھے منع کر دیا میں ان کے منہ سے کپڑا ہٹانا چاہ رہا تھا، لیکن میری قوم کے افراد مجھے منع کر رہے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں وہاں سے اٹھا لیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاتون کے رونے کی آواز سنی تو دریافت کیا: ”یہ کون ہے؟“ لوگوں نے بتایا: عمرو کی صاحبزادی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عمرو کی بہن ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ نہ روؤ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم کیوں رو رہی ہو؟ فرشتوں نے اس کے اٹھائے جانے تک مسلسل اپنے پروں کے ذریعے اس پر سایہ کیا ہوا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1298
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1244، 1293، 2816، 4080، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2471، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7021، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1841، 1844، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1981، 1984، 8190، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6814، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14407، 14516، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1817، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2021»