حدیث نمبر: 1287
1287 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ؟ إنَّهُ قَدْ آذَي اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: فَائْذَنْ لِي، قَالَ: «فَأَذِنَ لَهُ» ، فَأَتَي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ كَعْبًا، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ طَلَبَ مِنَّا صَدَقَةً، وَقَدْ عَنَّانَا، وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَقْرِضُكُ، فَقَالَ: وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلَّنَّهُ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةُ: إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ، فَنَكْرَهُ أَنْ نَتْرُكَهُ حَتَّي نَنْظُرَ إِلَي أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ، فَقَالَ: أَرْهِنُونِي، قَالَ: أَيَّ شَيْءٍ أُرْهِنُكَ؟ قَالَ: أَرْهِنُونِي أَبْنَاءَكُمْ، فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدٌ: يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، يُقَالُ لَهُ: رَهِينَةٌ وَسَقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَنِسَاءَكُمْ، قَالَ: أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ، فَنُرْهِنُكَ نِسَاءَنَا، وَلَكِنْ نُرْهِنُكَ اللَّأَمَةَ، قَالَ: نَعَمْ، فَوَاعَدَهُ أَنْ يَجِيئَهُ، قَالَ: وَكَانُوا أَرْبَعَةً، سَمَّي عَمْرٌو اثْنَيْنِ: مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَأَبَا نَائِلَةَ، فَأَتَوْهُ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ يَنْفُحُ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا كَاللَّيْلَةِ رِيحًا أَطْيَبَ، فَقَالَ: عِنْدِي فُلَانَةُ أَعْطَرُ الْعَرَبِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: ائْذَنْ لِي أَنْ أَشُمَّ؟ قَالَ: شُمَّ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَعُودَ، قَالَ: فَعَادَ، فَتَشَبَّثَ بِرَأْسِهِ، وَقَالَ: اضْرِبُوهُ، فَضَرَبُوهُ حَتَّي قَتَلُوهُ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کون شخص کعب بن الاشرف سے میری جان چھڑائے گا؟ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیتا ہے۔“ تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کی: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ، کعب بن الاشرف کے پاس آئے اور بولے: یہ صاحب (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) ہم سے صدقہ بھی طلب کر رہے ہیں، انہوں نے تو ہمیں مشقت کا شکار کر دیا ہے، میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں، تاکہ تم سے کچھ قرضہ حاصل کروں، تو کعب بولا: اللہ کی قسم! تم ضرور ان سے اکتا جاؤ گے، تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بولے: ہم ان کی پیروی کر چکے ہیں اور ہمیں یہ اچھا نہیں لگتا کہ ہم انہیں چھوڑ دیں ابھی ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں، آگے چل کر ان کی کیا صورتحال ہوتی ہے۔ کعب نے کہا: تم میرے پاس کوئی چیز رہن کے طور پر رکھواؤ! سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: میں کون سی چیز تمہارے پاس رہن کے طور پر رکھواؤں۔ کعب نے کہا: تم اپنے بیٹوں کو میرے پاس رہن رکھوادو! تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کوئی شخص ہم میں سے کسی کے بچے کو گالی دیتے ہوئے کہے گا کھجور کے دو وسق کے عوض میں اسے رہن رکھوا دیا گیا تھا۔ کعب نے کہا: پھر اپنی عورتوں کو (رہن رکھوادو) تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم عرب کے خوبصورت ترین آدمی ہو، تو کیا ہم اپنی عورتیں تمہارے پاس رہن رکھوا دیں؟ البتہ ہم اپنا اسلحہ (زرہیں) تمہارے پاس رہن رکھوا دیتے ہیں۔ کعب بولا: ٹھیک ہے۔ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس آئیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ چار افراد تھے جن میں سے دو کے نام عمرو نے بیان کیے ہیں ایک سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے سیدنا ابونائلہ رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ چار حضرات کعب بن اشرف کے پاس آئے وہ اس وقت چادر اوڑھے ہوئے تھا، جس میں سے پاکیزہ خوشبو پھوٹ رہی تھی ان حضرات نے کہا: ہم نے آج جیسی پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔ وہ بولا: میری بیوی فلاں عورت ہے، جو عرب کی سب سے معطر عورت ہے، تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے اجازت دو کہ میں اس خوشبو سونگھ لوں، تو اس نے کہا: تم سونگھ لو! پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے دوبارہ اجازت دو کہ میں دوبارہ اسے سونگھوں۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ دوبارہ اس کے قریب ہوئے، تو انہوں نے اس کا سر پکڑ لیا اور بولے: اس کو مار دو! ان حضرات نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔