حدیث نمبر: 1283
1283 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو كُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيْصَلِّيَهَا بِقَوْمِهِ، قَالَ: فَأَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَصَلَّاهَا مُعَاذٌ مَعَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّ قَوْمَهُ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَتَنَحَّي رَجُلٌ مِمَّنْ خَلْفَهُ، فَصَلَّي وَحْدَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالُوا: نَافَقْتَ، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَتَي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ، وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّاهَا مَعَكَ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ، فَصَلَّيْتُ وَحْدِي، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَهْلُ نَواضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَي مُعَاذٍ، فَقَالَ: «أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، اقْرَأْ سُورَةَ كَذَا، وَسُورَةَ كَذَا» ، وَعَدَّدَ السُّوَرَ. قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَي، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَي، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ» . قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَي، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَي، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ» ، فَقَالَ عَمْرٌو: وَهُوَ هَذَا، أَوْ نَحْوُ هَذَا
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ (اپنے محلے) واپس تشریف لے جاتے تھے اور اپنی قوم کو یہ نماز پڑھایا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کی پھر وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو نماز پڑھانا شروع کی، تو سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کر دی ان کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں میں سے ایک صاحب پیچھے ہٹے انہوں نے تنہا نماز ادا کی اور چلے گئے۔ لوگوں نے ان سے کہا: تم منافق ہو گئے ہو، تو وہ بولا: جی نہیں! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤں گا۔ پھر وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی تھی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں یہ نماز ادا کی پھر واپس آئے اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی اور سورۃ البقرہ پڑھنی شروع کر دی جب میں نے یہ دیکھا تو میں پیچھے ہٹ گیا پھر میں نے اکیلے نماز ادا کر لی ہم اونٹ پالنے والے لوگ ہیں ہمیں اپنے ہاتھوں سے کام کاج کرنا ہوتا ہے۔ (راوی کہتے ہیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟ کیا تم آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟ تم فلاں اور فلاں سورت کی تلاوت کیا کرو!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کی گنتی کروائی۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: ابوزبیر نامی راوی نے اس میں یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سورۃ الاعلیٰ، سورۃ البروج، سورۃ الشمس اور سورۃ الطارق کی تلاوت کیا کرو۔“ سفیان کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے کہا: ابوزبیر نے تو یہ بات بیان کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”تم سورۃ الاعلیٰ، سورۃ الليل، سورۃ الشمس، سورۃ الطارق اور سورۃ البروج کی تلاوت کیا کرو۔“ تو عمر و بن دینار نے کہا: یہ الفاظ یہی ہیں، یا اس کی مانند ہیں۔