حدیث نمبر: 1003
1003 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَي الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَي قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: ﴿ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: ﴿ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ ، قَالَ: أَثْنَي عَلَيَّ عَبْدِي، أَوْ مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: ﴿ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ ، قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: ﴿ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ ، فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، ﴿ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ ، فَهَذِهِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، جب میرا بندہ پڑھتا ہے۔ ”تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے۔ جب بندہ یہ پڑھتا ہے: ”وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے، یا میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ جب بندہ پڑھتا ہے: ”وہ روز جزا کا مالک ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے مجھے تفویض کر دیا ہے۔ جب بندہ یہ پڑھتا ہے: ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔“ تو یہ حصہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ اور میرا بندہ جو مانگ رہا ہے وہ اسے ملے گا۔ جب بندہ یہ پڑھتا ہے: ”تو سیدھے راستے کی طرف ہمیں ہدایت نصیب کر! ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ ان لوگوں کا راستہ، جن پر غضب کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے۔“ (تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) یہ چیز میرے بندے کو ملے گی۔ میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔“