حدیث نمبر: 1001
1001 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ مَوْلًي لِأَبِي رُهْمٍ، قَالَ: لَقِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدِينَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ؟ قَالَتِ الْمَسْجِدَ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ارْجِعِي فَاغْتَسِلِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ، ثُمَّ خَرَجَتْ تُرِيدُ الْمَسْجِدَ لَمْ تُقْبَلْ لَهَا صَلَاةٌ، وَلَا كَذَا، وَلَا كَذَا حَتَّي تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
عاصم بن عبیداللہ عمری بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جو خوشبو میں بسی ہوئی تھی، تو انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کی کنیز! تم کہاں جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: مسجد کے لیے تم نے خوشبو لگائی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم واپس جاؤ اور اسے دھو لو! کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو عورت خوشبو لگا کر پھر مسجد میں جانے کے ارادے سے نکلتی ہے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اور یہ بھی نہیں ہوتا اور وہ بھی نہیں ہوتا، جب تک وہ عورت واپس جا کر غسل جنابت کی طرح غسل نہیں کرتی (یعنی اس خوشبو کے اثرات کو مکمل طور پر نہیں دھوتی)۔“