حدیث نمبر: 955
955 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو حَازِمٍ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثَلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهِ لَهُ فُلَانٌ مَوْلَي فُلَانَةَ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «حِينَ صَعَدَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَي فَسَجَدَ، ثُمَّ صَعَدَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَي، ثُمَّ سَجَدَ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ابو حازم بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس چیز سے بنایا گیا تھا، تو انہوں نے فرمایا: اب لوگوں میں ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہا جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو، یہ نواحی جنگلات کی لکڑی سے بنایا گیا تھا، جسے فلاں شخص نے بنایا تھا، جو فلاں خاتون کا غلام تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے قدموں نیچے اترے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا پھر منبر پر چڑھ گئے، پھر تلاوت کی پھر رکوع کیا پھر الٹے قدموں نیچے اترے پھر سجدہ کیا۔