کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: حدیث نمبر 637
حدیث نمبر: 637
637 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُمَرَ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ : «أَلَا إِنَّ اللهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ» ، فَقَالَ عُمَرُ : فَوَاللهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا . ¤ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَي آلِ طَلْحَةَ - وَكَانَ بَصِيرًا بِالْعَرَبِيَّةِ - يَقُولُ : وَلَا آثِرًا آثُرُهُ عَنْ غَيْرِي أُخْبِرُ عَنْهُ أَنَّهُ حَلَفَ بِهَا . ¤ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ» فَقَالَ عُمَرُ: «فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ، ذَاكِرًا وَلَا آثِرَا» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَي آلِ طَلْحَةَ، وَكَانَ بَصِيرًا بِالْعَرَبِيَّةِ، يَقُولُ: «وَلَا آثِرًا آثُرَهُ عَنْ غَيْرِي أُخْبَرُ عَنْهُ أَنَّهُ حَلَفَ بِهَا»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سالم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی قسم اٹھاتے ہوئے سنا: تو ارشاد فرمایا: خبردار اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ تم لوگ اپنے آباؤ اجداد کی قسم اٹھاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے جان بوجھ کر یا بھول کر کبھی بھی (باپ دادا کے نام کی) قسم نہیں اٹھائی۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے محمد بن عبدالرحمٰن کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا: جو عربی زبان پر بڑا عبور رکھتے تھے وہ یہ کہتے ہیں: روایت کے الفاظ «ولا آثرا» کا مطلب یہ ہے کہ یعنی میں نے کسی دوسرے کو بھی ایسا نہیں کرنے دیا جس کے بارے میں یہ بتایا گیا، کہ اس نے یہ قسم اٹھائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 637
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2679، 3836، 6108، 6646، 6647، 6648، 7401، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1646، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1750، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4359، 4360، 4361، 4362، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3773 ، 3774، 3775، 3776 وأبو داود فى «سننه» برقم: 3249، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1533، 1534، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2386، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2094، 2101، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 19880، 19881، 19882، 19883، 19884، 19885، 19886، 19892، 20781، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 113 برقم: 247»