حدیث نمبر: 611
611 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخْرَجَ مِنْ كُمِّهِ قُصَّتَهً مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَي عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَقَالَ: «إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
حمید بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: میں نے عاشورہ کے دن سیدنا معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر سنا۔ انہوں نے اپنی آستین میں سے بالوں کی ’وگ‘ نکالی۔ اور بولے: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بنی اسرائیل اس وقت ہلاکت کا شکار ہو گئے جب ان کی خواتین نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔“