حدیث نمبر: 475
475 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا» فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ فَقَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِكَ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مدینہ منورہ میں آٹھ رکعات ایک ساتھ اور سات رکعات ایک ساتھ ادا کی ہیں۔ عمرو بن دینار مکی نامی راوی کہتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) جابر بن زید سے دریافت کیا: اے ابوشعثاء! میرا خیال ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز تاخیر سے ادا کی ہو گی اور عصر کی نماز جلدی ادا کر لی ہو گی اور مغرب کی تاخیر سے ادا کی ہو گی، اور عشاء کی نماز جلدی ادا کر لی ہو گی، تو وہ بولے: میرا بھی یہی خیال ہے۔