حدیث نمبر: 465
465 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُولُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَي ضَحْضَاحٍ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جناب ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال رکھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کیا کرتے تھے، تو کیا اس کا انہیں کوئی فائدہ ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، میں نے انہیں جہنم کے بڑے حصے میں پایا تو انہیں نکال کر اس کے معمولی سے حصے میں لے آیا۔“