حدیث نمبر: 308
308 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَي قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ مِنَ الشَّامِ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِصُفْرَةٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَمَسَحَتْ بِهِ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عَنْ هَذَا لَغَنِيَّةٌ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَي مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَي زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَالِكًا يَقُولُ فِيهِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَعَنْ صَفِيَّةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ فَقَالَ سُفْيَانُ مَا قَالَ لَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَي إِلَّا أُمَّ حَبِيبَةَ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں جب سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کی اطلاع شام سے آئی تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے دن زرد رنگ منگایا اور اسے اپنے رخساروں اور کلائیوں پر لگایا اور یہ بات بیان کی مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ اس کے شوہر کا مختلف ہے کیونکہ وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔“ سفیان سے یہ کہا گیا: امام مالک نے اس روایت کے بارے میں یہ کہا ہے حمید بن نافع کے حوالے سے سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے یا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے یا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے تو سفیان نے کہا: ایوب بن موسیٰ نے ہمیں یہ روایت سناتے ہوئے صرف سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا ہے۔