حدیث نمبر: 214
214 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ، وَذَبَحْتُمْ، وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ» ¤ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَرَمِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ بَعْدَ مَا رَمَي الْجَمْرَةَ، وَقَبْلَ أَنْ يَزُورَ» قَالَ سَالِمٌ: وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سالم بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو اور جانور ذبح کر لو اور سر منڈوا لو، تو جو بھی چیز تمہارے لیے حرام قرار دی گئی تھی، وہ سب تمہارے لیے حلال ہو جائیں گی، صرف خواتین اور خوشبو کا حکم مختلف ہے۔ سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جمرہ کی رمی کرنے کے بعد اور طواف زیارت کرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کھولنے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی۔ سالم کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔