حدیث نمبر: 16771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ لِي أَسْمَاءً ، أَنَا أَحْمَدُ ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي ، وَأَنَا الْعَاقِبُ " ، قَالَ مَعْمَرٌ : قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ : مَا الْعَاقِبُ ؟ ، قَالَ : الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں جس کے قدموں میں لوگوں کو جمع کیا جائے گا، میں ماحی ہوں جس کے ذریعے کفر کو مٹا دیا جائے گا اور میں عاقب ہوں میں نے امام زہری سے عاقب کا معنی پوچھا : تو انہوں نے فرمایا : جس کے بعد کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16772
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قطع تعلقی کرنے والا کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5984، م: 2556
حدیث نمبر: 16773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ جَاءَ فِي فِدَى الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے فدیہ کے سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت طور کی تلاوت شروع فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3050، م: 463
حدیث نمبر: 16774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهُ يُخْبِرُ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خير عَطَاءِ هَذا ، يا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، إِنْ كَانَ إِلَيْكُمْ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ فَلَأَعْرِفَنَّ مَا مَنَعْتُمْ أَحَدًا يُصَلِّي عِنْدَ هَذَا الْبَيْتِ أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : أَنْ يَطُوفَ بِهَذَا الْبَيْتِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اے بنی عبدمناف ! اور اے بنو عبدالمطلب ! جو شخص بیت اللہ کا طواف کر ے یا نماز پڑھے اسے کسی صورت منع نہ کر و خواہ دن یا رات کے کسی بھی حصے میں ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عمرو بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَاسٌ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَهُ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ ، فَاضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ ، فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَوَقَفَ ، فَقَالَ : " رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي ، أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ ؟ فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : أَخْطَأَ مَعْمَرٌ فِي نَسَبِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین سے واپسی پر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، دوسرے لوگ بھی ہمراہ تھے کہ کچھ دیہاتیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں روک کر مال غنیمت مانگنا شروع کر دیا حتی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ببول کے ایک درخت کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر بھی کسی نے کھینچ لی اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے اور فرمایا کہ مجھے میری چادر واپس دے دو اگر ان کانٹوں کی تعداد کے برابر بھی میرے پاس نعمتیں ہوں تو میں تمہارے پاس نعمتیں ہوں تو میں تمہارے درمیان ہی انہیں تقسیم کر دوں اور تم مجھے پھر بھی بخیل، جھوٹا یا بزدل نہ پاؤں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3148
حدیث نمبر: 16776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : أَضْلَلْتُ جَمَلًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرَفَةَ أَبْتَغِيهِ ، فَإِذَا أنا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاقِفٌ فِي النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، وَذَلِكَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن جريج أبهم فى هذا الإسناد من سمع منه عن جبير
حدیث نمبر: 16777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ ، أَنَّهُ " بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، يَعْنِي نَحْوَ حَدِيثِ مَعْمَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میدان عرفات میں میرا اونٹ گم ہو گیا، میں اسے تلاش کرنے کے لئے نکلا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں وقوف کئے ہوئے ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب ان پر نزول وحی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا . فائدہ۔ دراصل قریش کے لوگ میدان عرفات میں نہیں جاتے تھے اور انہیں حمس کہا جاتا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسم کو توڑ ڈالا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2821
حدیث نمبر: 16778
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2821، رجاله ثقات
حدیث نمبر: 16779
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، إِذْ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ كَأَنَّهُمْ السَّحَابُ ، هُمْ خِيَارُ مَنْ فِي الْأَرْضِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ ، قَالَ : وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ ، قَالَ : وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ كَلِمَةً ضَعِيفَةً : " إِلَّا أَنْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا : تمہارے پاس بادلوں کے ٹکڑوں کی طرح اہل زمین میں سب سے بہتر لوگ یعنی اہل یمن آرہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! کیا وہ ہم سے بھی بہتر ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں آہستہ سے فرمایا : سوائے تمہارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعُ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : تَذَاكَرْنَا الْغُسْلَ مِنَ الْجَنَابَةِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا " ، وقال عَبْدُ الرَّحْمَنِ : ذُكِرَتْ الْجَنَابَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَّا أَنَا فَآخُذُ بِكَفِّي ثَلَاثًا ، فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں غسل ت کا تذکر ہ کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ میں تو دونوں ہتھیلیوں میں بھر کر پانی لیتا ہوں اور تین مرتبہ اپنے سر پر بہا لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ قَالَ : سَمِعْتُ إِنْسَانًا لَا أَحْفَظُ اسْمَهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أُجُورٌ بِمَكَّةَ ؟ ، قَالَ : " لَتَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كَانَ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! ! کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مکہ مکر مہ میں ہمیں کوئی اجر نہیں ملا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ غلط کہتے ہیں، تمہیں تمہارا اجروثواب ضرور ملے گا خواہ تم لومڑی کے بل میں ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن جبير بن مطعم
حدیث نمبر: 16782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ : حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ ، أَنَّهُ جَاءَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يُكَلِّمَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ حُنَيْنٍ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ ، وَبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا ، وَقَرَابَتُنَا مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَرَى هَاشِمًا ، وَالْمُطَّلِبَ شَيْئًا وَاحِدًا " ، قَالَ جُبَيْرٌ : وَلَمْ يَقْسِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ ، وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کے مال غنیمت میں اپنے قریبی رشتہ داروں بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے درمیان حصہ تقسیم فرمایا : تو میں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ! یہ جو بنو ہاشم ہیں ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے، کیونکہ آپ کا ایک مقام و مرتبہ ہے جو اللہ نے آپ کو ان کے ساتھ بیان فرمایا ہے لیکن یہ جو بنو مطلب ہیں آپ نے انہیں تو عطاء فرما دیا اور ہمیں چھوڑ دیا ؟ لیکن وہ اور ہم آپ کے ساتھ ایک جیسی نسبت اور مقام رکھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دراصل یہ لوگ زمانہ جاہلیت میں مجھ سے جدا ہوئے اور نہ زمانہ اسلام میں اور بنو ہاشم اور بنومطلب ایک ہی چیز ہیں یہ کہہ کر آپ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4229
حدیث نمبر: 16783
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٍ ، وَحَدَّثَنِي حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ " ، وَقَالَ حَمَّادٌ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورت طور پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 765، م: 463
حدیث نمبر: 16784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي صَلَاةٍ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " ، قَالَ عُمَرُو : وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں نے نوافل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ اللہ اکبر کبیرا، تین مرتبہ والحمدللہ کثیرا اور تین مرتبہ سبحان اللہ بکر ۃ واصیلا اور یہ دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ! میں شیطان مردوں کے ہمز، نفث اور نفخ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، عمرو کہتے ہیں کہ ہمز سے مراد وہ موت ہے جو ابن آدم کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، نفخ سے مراد تکبر ہے اور نفث سے مراد شعر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عاصم العنزي
حدیث نمبر: 16785
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَعْضَ إِخْوَتِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَى الْمُشْرِكِينَ ، وَقَالَ بَهْزٌ : فِي فِدَى أَهْلِ بَدْرٍ ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : وَمَا أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ : " فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، وَهُوَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالطُّورِ " ، قَالَ : فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي حَيْثُ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ ، وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي حِينَ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے فدیہ کے سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت تک انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت طور کی تلاوت شروع فرما دی، جب قرآن کی آواز میرے کانوں تک پہنچی تو میرا دل لرزنے لگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 765، م: 463 دون قوله: فكأنما صدع قلبي حيث سمعت القرآن، لابهام أخي سعد بن إبراهيم الذى سمع منه هذا الحديث
حدیث نمبر: 16786
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ : " أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں غسل ت کا تذکر ہ کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ میں تو دونوں ہتھیلیوں میں بھر کر پانی لیتا ہوں اور تین مرتبہ اپنے سر پر بہا لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 327