حدیث نمبر: 16711
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ : عَمْرُو بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ الْأَسْوَافَ ، وَقَالَ : فَأَثَرْتُ ، وَقَالَ الْقَوَارِيرِيُّ مَرَّةً : فَأَخَذْتُ دُبْسيَتَيْنِ ، قَالَ : وَأُمُّهُمَا تُرَشْرِشُ عَلَيْهِمَا ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آخُذَهُمَا ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيَّ أَبُو حَسَنٍ ، فَنَزَعَ مِتِّيْخَةً ، قَالَ : فَضَرَبَنِي بِهَا ، فَقَالَتْ لِي : امْرَأَةٌ مِنَّا ، يُقَالُ لَهَا : مَرْيَمُ لَقَدْ تَعِسْتَ مِنْ عَضُدِهِ ، وَمِنْ تَكْسِيرِ الْمِتِّيْخَةِ ، فَقَالَ لِي : أَلَمْ تَعْلَمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ ! .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن عمارہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ریتلی جگہ پر پہنچا، وہاں میں نے دو چھوٹے پرندے پکڑ لئے، ان کی ماں یہ دیکھ کر اپنے پر پھڑپھڑانے لگی، اس اثناء میں ابوحسن آ گئے، انہوں نے اپنی لاٹھی نکالی اور مجھے اس سے مارنے لگے، ہمارے خاندان کی ایک عورت جس کا نام مریم تھا، کہنے لگی کہ تم اس کا بازو توڑ ڈالو گے یا چھڑی، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 16712
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد : حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ ، وَيُقَالَ : أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوحسن سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، یہاں تک کہ دف ب جائے جائیں اور یہ کہا جائے کہ ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمارے پاس آئے، تم ہمیں مبارک دو ، ہم تمہیں مبارک دیں۔
حدیث نمبر: 16713
(حديث موقوف) قال قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ ، وَكَانَ ثِقَةً رَجُلًا صَالِحًا ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ ، قَالَ : كَانَتْ لِي جُمَّةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ رَفَعْتُهَا ، فَرَآنِي أَبُو حَسَنٍ الْمَازِنِيُّ ، فَقَالَ : " تَرْفَعُهَا لَا يُصِيبُهَا التُّرَابُ ! وَاللَّهِ لَأَحْلِقَنَّهَا ، فَحَلَقَهَا .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن یحییٰ اپنے والد یا چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میرے سر کے بال بہت بڑے تھے، میں جب سجدہ کرتا تھا تو انہیں اپنے ہاتھ سے اوپر کرتا تھا، ایک مرتبہ سیدنا ابوحسن نے مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو فرمانے لگے کہ تم انہیں اس لئے اوپر کرتے ہو کہ انہیں مٹی نہ لگ جائے، بخدا ! میں انہیں کاٹ کر رہوں گا، چنانچہ انہوں نے وہ بال کاٹ دیئے۔